حدیث نمبر135

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۱؎ تو کہتے تھے ۲؎ اﷲ کے بندوں کی طرف سے اﷲ پر سلام ہو۳؎ جبریل علیہ السلام پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو۴؎ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھرے تو اپنے چہرے سے ہم پر متوجہ ہوئے ۵؎ اور فرمایا نہ کہو کہ اﷲ پر سلام ہو اﷲ تو خود سلام ہے ۶؎ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے ۷؎ کہ اﷲ کے لیے تحیتیں،نمازیں اور طیب کلمے ہیں ۸؎ اے نبی آپ پر سلام ہو اﷲ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۹؎ ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۱۰؎ نمازی جب یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا۱۱؎ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۱۲؎پھر جو دعا اسے پسند ہو اختیار کر لے اور اس سے دعا مانگے ۱۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اگر یہ واقعہ معراج سے پہلے کا ہے تب تو یہ مطلب ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے نماز پڑھتے تھے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ اس عبادت میں مشغول ہوتے تھے اور اپنے اجتہاد سے بجائے التحیات یہ پڑھا کرتے تھے، جب حضور معراج سے واپس ہوئے تب آپ نے اس التحیات کی تعلیم دی جو آگے آرہی ہے یعنی لوگو نماز تمہاری معراج ہے تو میں معراج میں رب سے جو گفتگو کرکے آیا تم بھی نماز میں وہ ہی کیا کرو اور اگر معراج کے بعد کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہے کہ اولًا التحیات کی تعلیم نہیں دی گئی تھی صحابہ اپنے اجتہاد سے کچھ کلمے کہہ لیا کرتے تھے،ایک روز نماز سے فارغ ہو کر اس التحیات کی تعلیم دی۔(مرقاۃ)

۲؎ نماز کے دونوں قعدوں میں۔

۳؎ یعنی ہم بندے بارگاہ الٰہی میں نیاز مندانہ سلام پیش کرتے ہیں،وہ سمجھتے یہ تھے کہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں سلام کرنا دربار کا ادب ہے ایسے ہی بارگاہِ الٰہی میں سلام پیش کرنا وہاں کا ادب ہے۔

۴؎ فلاں سے مراد باقی فرشتے ہیں یا خاص انبیائے کرام۔

۵؎ اِنْصَرَفَ کے معنی یا یہ ہیں کہ آپ معراج سے واپس لوٹے تو ہم سب کے سامنے وعظ فرمایا یا یہ مطلب ہے کہ ایک دن نماز سے فارغ ہو کر یہ ارشادہ فرمایا۔(ازمرقات)

۶؎ یعنی سلام ایک قسم کی دعا ہے یہ رب کے لائق نہیں،رب ہر عیب سے پاک،ہر آفت سے دور ہے اور سب کو سلامت رکھنے والا ہے اسی لیے ایک دعا میں فرمایا گیا “اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ” الہی تو سلامت رکھنے والا ہے۔

۷؎ لِیَقُلْ صیغہ امر ہے اور امرو جوب کے لیئے آتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں التحیات واجب ہے۔ وَاِذَاجَلَسَ کے عموم سے معلوم ہوا کہ نماز میں جب بھی بیٹھے التحیات پڑے خواہ امام کے تابع ہو کر بیٹھے یا خود اسے بیٹھنا ہو لہذا اگر کوئی امام کے ساتھ التحیات میں ملے اور اس کے بیٹھتے ہی امام کھڑا ہوجائے یا سلام پھیر دے تو التحیات پوری کرکے کھڑا ہو لہذا یہ حدیث احناف کے بہت سے مسائل کا ماخذ ہے۔جب التحیات واجب ہوئی تو اس کے رہ جانے پر سجدۂ سہو واجب ہوا جیسا کہ واجبات نماز کا حکم ہے۔

۸؎ ان تین کلموں کی شرحیں بہت ہیں۔حضرت شیخ نے فرمایا کہ تحیۃ سے مراد قولی عبادات ہیں،صلوات سے مراد بدنی عبادات اور طیبات سے مراد مالی عبادتیں ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی عبادتیں اﷲ سے خاص ہیں چونکہ ان تینوں عبادتوں میں سے ہر ایک کی ہزار ہا قسمیں ہیں،نیز ہر شخص کی عبادت علیحدہ ہے اس لیے ان تینوں کو جمع فرمایا گیا۔خیال رہے کہ تحیۃ کا لفظ جب بندے کے لیے استعمال ہوگا تو اس کے معنی ہوں گے ملاقات کے وقت کا کلام یا کام، یونہی صلوت بندوں کے لیے بمعنی رحمتیں ہوتا ہے جیسے:”اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ”۔

۹؎ اس جگہ مرقات نے فرمایا کہ معراج کی رات اول تین کلمے حضور نے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیے پھر اَلسَّلَامُ عَلِیْكَ الخ رب کی طرف سے حضور کو خطاب ہوا پھر اَلسَّلَامُ عَلِیْنَا الخ،حضور نے جوابًا عرض کیا پھر اَشْہَدُ الخ،جبریل امین نے عرض کیا،چونکہ نماز بھی مسلمان کی معراج ہے اس لیے اسی میں سارے کلمات جمع کردیئے گئے۔ نیز شیخ نے اشعۃ اللمعات میں،امام غزالی نے احیاء اعلوم میں،ملا علی قاری نے مرقات میں فرمایا کہ اَلسَّلَامُ عَلِیْكَ پر ہر نمازی اپنے دل میں حضور کو حاضر جانے اور یہ جان کر سلام عرض کرے کہ میں حضور کو سلام کررہا ہوں حضور مجھے جواب دے رہے ہیں۔ شیخ نے فرمایا کہ بعض عارفین کا ارشاد ہے کہ حقیقت محمدیہ تمام موجودات بلکہ ممکنات میں ساری و طاری ہے اس لیے نماز میں بھی موجود ہے لہذا خطاب اَلسَّلَامُ عَلِیْكَ نہایت موزوں ہے،یہی مضمون ا ہلِ حدیث کے پیشوا نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے بھی اپنی بعض کتب میں لکھا ہے۔اس سے مسئلہ حاضر و ناظر بخوبی واضح ہوگیا کیونکہ غائب کو غافل کو اور جو جواب نہ دے اس کو سلام کرنا منع ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ اول میں دیکھو۔

۱۰؎ یعنی زمین و آسمان میں غائب و حاضر،گزشتہ موجودہ،آئندہ سارے نیک بندوں پر سلام،چونکہ وہ سب بندے سن نہیں رہے ہیں ا سلیے یہاں خطاب نہیں ہوا۔نیک بندہ وہ ہے جو حق عبودیت ادا کرے اور اس پر قائم رہے۔

۱۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ دعا وغیرہ میں سارے مومنوں کو شامل کرنا چاہیے تو ان شآءاﷲ دعا ضرور قبول ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں گنہگار بندوں کا ذکر نہیں آیا کیونکہ وہ عَلَیْنَا جمع کی ضمیر میں داخل کرلیے گئے۔حضور اپنے گنہگاروں کو اپنے دامن میں رکھتے ہیں۔

۱۲؎ ظاہر یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی التحیات میں شہادتیں یونہی ادا فرماتے تھے۔

۱۳؎ بہتر یہ ہے کہ اس موقعہ پر منقولی دعائیں خصوصًا جامع دعائیں مانگی جائیں جیسے “رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا” الخ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں درود ابراہیمی پڑھنا فرض نہیں یہی حنفیوں کا قول ہے اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔