أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اِنِّىۡ لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے کہا) میں تم کو علی الاعلان ڈرانے آیا ہوں۔

تفسیر:

حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے کہا) میں تم کو علی الاعلان ڈرانے آیا ہوں کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، مجھے تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔ (ھود : ٢٦۔ ٢٥) 

انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے قصص بیان کرنے کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا تھا اور اس سورت میں اس قصہ کو پھر دہرایا ہے کیونکہ اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصہ کی زیادہ تفصیل ہے،

انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے واقعات کو بار بار دہرانے میں یہ حکمت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جاتی رہے، کفار مکہ آپ کی تکذیب کرتے رہتے تھے اور دل آزار باتیں کرتے رہتے تھے، ایسی باتیں سن کر آپ کو رنج ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے واقعات پر مشتمل وحی نازل فرماتا کہ اس قسم کے معاملات انبیاء سابقین (علیہم السلام) کو بھی پیش آتے رہے ہیں وہ کفار کی ایسی باتوں پر صبر کرتے تھے سو آپ بھی صبر کریں۔ اس آیت میں درد ناک دن فرمایا ہے اور دن کو دردناک سے متصف فرمایا ہے، حالانکہ دردناک عذاب کی صفت ہے نہ کہ دن کی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ توصیف مجاز عقلی ہے جیسے عرب کہتے ہیں نھارک صائم ولیک قائم چونکہ یہ دردناک عذاب اس دن میں نازل ہوگا، اس لیے اس دن کو دردناک کے ساتھ متصف فرمیاا۔ بظاہر اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب سے مراد عام ہو خواہ دنیاوی عذاب ہو یا آخرت کا، حضرت نوح (علیہ السلام) کو علم تھا کہ اگر ان کی قوم ایمان نہ لائی تو اس پر طوفان کا عذاب آئے گا اور ان کی قوم بھی یہ سمجھتی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو دنیاوی عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ اسی بناء پر وہ یہ کہتے تھے کہ آپ جس عذاب سے ہم کو دھمکا رہے ہیں وہ عذاب لاکر دکھائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 25