یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةًؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ(۱۲۳)

اے ایمان والو جہاد کرو ان کافروں سے جو تمہارے قریب ہیں(ف۲۹۵) اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور جان رکھو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۲۹۶)

(ف295)

قتال تمام کافِروں سے واجب ہے قریب کے ہوں یا دور کے لیکن قریب والے مقدَّم ہیں پھر جو ان سے متّصل ہوں ایسے ہی درجہ بدرجہ ۔

(ف296)

انہیں غلبہ دیتا ہے اور انکی نصرت فرماتا ہے ۔

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًاۚ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ(۱۲۴)

اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی (ف۲۹۷) تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں

(ف297)

یعنی منافقین آپس میں بطریقِ استہزاء ایسی باتیں کہتے ہیں ان کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے ۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۱۲۵)

اور جن کے دلوں میں آزار(بیماری) ہے (ف۲۹۸) انہیں اور پلیدی پر پلیدی بڑھائی (ف۲۹۹) اور کفر ہی پر مر گئے

(ف298)

شک و نفاق کا ۔

(ف299)

کہ پہلے جتنا نازِل ہوا تھا اسی کے انکار کے وبال میں گرفتار تھے ، اب جو اور نازِل ہوا اس کے انکار کی خباثت میں بھی مبتلا ہوئے ۔

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۱۲۶)

کیا انہیں (ف۳۰۰) نہیں سوجھتا کہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں (ف۳۰۱) پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں

(ف300)

یعنی منافقین کو ۔

(ف301)

امراض و شدائد اور قحط وغیرہ کے ساتھ ۔

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍؕ-هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْاؕ-صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ(۱۲۷)

اور جب کوئی سورت اترتی ہے ان میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے (ف۳۰۲) کہ کوئی تمہیں دیکھتا تو نہیں (ف۳۰۳) پھر پلٹ جاتے ہیں (ف۳۰۴) اللہ نے ان کے دل پلٹ دئیے (ف۳۰۵) کہ وہ ناسمجھ لوگ ہیں (ف۳۰۶)

(ف302)

اور آنکھوں سے نکل بھاگنے کے اشارے کرتا ہے اور کہتا ہے ۔

(ف303)

اگر دیکھتا ہوا تو بیٹھ گئے ورنہ نکل گئے ۔

(ف304)

کُفر کی طرف ۔

(ف305)

اس سبب سے ۔

(ف306)

اپنے نفع و ضَرر کو نہیں سوچتے ۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)

بےشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول (ف۳۰۷) جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان (ف۳۰۸)

(ف307)

محمّدِ مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عربی قرشی ، جن کے حسب و نسب کو تم خوب پہچانتے ہوکہ تم میں سب سے عالی نسب ہیں اور تم ان کے صدق و امانت ، زہد و تقوٰی ، طہارت وتقدّس اور اخلا قِ حمیدہ کو بھی خوب جانتے ہو اور ایک قراء ۃ میں” اَنْفَسِکُمْ” بفتحِ فا آیا ہے ، اس کے معنٰی ہیں کہ تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل ۔ اس آیتِ کریمہ میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری یعنی آپ کے میلادِ مبارک کا بیان ہے ۔ ترمذی کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیدائش کا بیان قیام کر کے فرمایا ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ محفلِ میلادِ مبارک کی اصل قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔

(ف308)

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دو ناموں سے مشرف فرمایا ۔ یہ کمال تکریم ہے اس سرورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ ﱙ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠(۱۲۹)

پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۰۹) تو تم فرمادو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (ف۳۱۰)

(ف309)

یعنی منافقین و کُفّار آپ پر ایمان لانے سے اعراض کریں ۔

(ف310)

حاکم نے مستدرک میں اُبَی ابنِ کعب سے ایک حدیث روایت کی ہے کہ” لَقَدْ جَاءَ کُمْ” سے آخر سورت تک دونوں آیتیں قرآنِ کریم میں سب کے بعد نازِل ہوئیں ۔