أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَفَارَ التَّنُّوۡرُۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ وَمَنۡ اٰمَنَ‌ؕ وَمَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ۞

ترجمہ:

حتیٰ کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا تو ہم نے (نوح سے) فرمایا : اس کشتی میں ہر قسم کے (نر اور مادہ) جوڑوں کو سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی سوا ان کے جن (کو غرق کرنے) کا فیصلہ ہوچکا ہے اور ایمان والوں کو بھی سوار کرلو اور ان پر کم لوگ ہی ایمان لائے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتیٰ کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا تو ہم نے (نوح سے) فرمایا : اس کشتی میں ہر قسم کے (نر اور مادہ) جوڑوں کو سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی سوا ان کے جن (کو غرق کرنے) کا فیصلہ ہوچکا ہے اور ایمان والوں کو بھی سوار کرلو اور ان پر کم لوگ ہی ایمان لائے تھے۔ (ھود : ٤٠) 

تنور کے معنی اور اس کے مصداق کی تحقیق

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور تنور ابلنے لگا۔ تنور کے متعلق کئی اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن عباس، حسن اور مجاہد کا قول ہے : اس سے مراد روٹی پکانے کا تنور ہے، پھر ان کا اختلاف ہے، بعض نے کہا : یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا تنور تھا، بعض نے کہا : یہ حضرت آدم کا تنور تھا اور بعض نے کہا : یہ حضرت حواء کا تنور تھا اور بعد میں حضرت نوح کا تنور ہوگیا۔ پھر اس تنور کی جگہ میں اختلاف ہے۔ شعبی نے کہا : یہ کوفہ کی ایک جانب تھا، حضرت علی نے کہا : یہ کوفہ کی ایک مسجد میں تھا اور اس مسجد میں ستر نبیوں نے نماز پڑھی تھی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ تنور شام میں ایک جگہ پر تھا جس کا نام عین الوردان ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ تنور ہند میں تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ایک عورت تنور میں روٹیاں پکا رہی تھی، اس نے حضرت نوح کو تنور سے پانی نکلنے کی خبر دی تو حضرت نوح نے اسی وقت کشتی میں تمام چیزیں رکھنی شروع کردیں۔

(٢) تنور سے مراد ہے سطح زمین اور عرب سطح زمین کو تنور کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ففتحنا ابواب السماء بماء منہمر۔ وفجرنا الارض عیونا فالتقی الماء علی امر قد قدر۔ (القمر : ١٢۔ ١١) پس ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور ہم نے زمین سے چشمے جاری کردیئے تو وہ پانی اس امر کے ساتھ واصل ہوگیا جو (ان کی ہلاکت کے لیے) مقدر ہوچکا تھا۔

(٣) تنور سے مراد ہے زمین کی مکرم اور بلند جگہ اور زمین کی بلند جگہ سے پانی نکلا تو اس کی بلندی کی وجہ سے اس کو تنور کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ ان اقوال میں راجح قول یہ ہے کہ تنور سے مراد روٹیوں کا تنور لیا جائے۔ (تفسیر کبیرج ٦ ص ٣٤٧۔ ٣٤٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) 

حضرت نوح کی کشتی میں سوار ہونے والوں کی تفصیل

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ ہر جاندار سے نر اور مادہ کا ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلیا جائے، سو ایسا ہی کیا گیا اور فرمایا : اور ایمان والوں کو بھی اور ایمان لانے والے کم تھے۔ امام ابن جوزی نے لکھا ہے کہ ایمان والوں کی تعداد میں آٹھ اقوال ہیں :

(١) عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اہل سمیت یہ اسی (٨٠) افراد تھے۔

(٢) یوسف بن مہران نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ اسی (٨٠) انسانوں کو سوار کیا، تین ان کے بیٹے تھے اور تین ان کے بیٹوں کی بیویاں تھیں اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی تھی۔

(٣) ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا : یہ اسی (٨٠) انسان تھے۔ مقاتل نے کہا : چالیس مرد اور چالیس عورتیں تھیں۔

(٤) ابن جریج نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے : کل چالیس نفر تھے۔

(٥) ابو نہیک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے : تیس مرد تھے۔

(٦) قرظی نے کہا : حضرت نوح اور ان کی بیوی، ان کے تین بیٹے اور ان کی بیویاں کل آٹھ نفر تھے۔

(٧) کل سات نفر تھے : حضرت نوح، تین بیٹے اور ان کی تین بیویاں، یہ اعمشق کا قول ہے۔

(٨) ابن اسحاق نے کہا : عورتوں کے علاوہ دس نفر تھے۔ (زاد المسیرج ٤ ص ١٠٧۔ ١٠٦، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حضرت نوح (علیہ السلام) کے ان تین بیٹوں کے نام سام، حام اور یافث تھے جو کشتی میں سوار ہوئے۔ ایک بیٹا کنعان تھا وہ ایمان نہیں لایا اور کشتی میں سوار نہیں ہوا اور ڈوب گیا۔ اسی طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی بھی ایمان نہیں لائی اور کشتی میں سوار نہیں ہوئی اور ڈوب گئی۔ زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ کشتی میں سوار ہونے والے اسی (٨٠) نفر تھے، لیکن اس کی صحیح تعیین معلوم نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 40