أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ‌ۚاِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ‌‌ۖ فَلَا تَسۡـئَــلۡنِ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ‌ ؕ اِنِّىۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

(اللہ نے) فرمایا اے نوح ! وہ آپ کے اہل سے نہیں ہے بیشک اس کے کام نیک نہیں ہیں تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کا آپ کو علم نہیں ہے بیشک میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں (تاکہ) آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اللہ نے) اے نوح ! فرمایا وہ آپ کے اہل سے نہیں ہے، بیشک اس کے کام نیک نہیں ہیں تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کا آپ کو علم نہیں ہے، بیشک میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں (تاکہ) آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیں۔ (ھود : ٤٦) 

منکرین عصمت کا حضرت نوح پر اعتراض اور اس کا جواب

عصمت انبیاء کے منکرین نے اس آیت کی بناء پر حضرت نوح (علیہ السلام) پر یہ طعن کیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا کنعان کافر تھا اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا کرنا گناہ ہے۔ پس ثابت ہوگیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے گناہ سرزد ہوا تھا۔

امام رازی اور علامہ قرطبی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ کنعان منافق تھا اور وہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اسی بناء پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کے لیے مغفرت کی دعا کی اور کشتی میں سوار کرنے کی درخواست کی تھی۔ اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ وہ کافر ہے تو وہ اس کی مغفرت کی کبھی دعا نہ کرتے اور رہا یہ کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کے کفر کا علم نہیں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب حضرت نوح نے خود اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ : وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ (نوح : ٢٦) اور نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ تو جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے خود تمام کافروں کی ہلاکت کی دعا کی تھی تو یہ کیونکر ممکن ہے وہ ایک کافر کی مغفرت کے لیے دعا کرتے ! اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے اس کو کنعان کے کفر کا علم تھا اس لیے فرمایا : وہ آپ کے اہل سے نہیں ہے، اس کے کام نیک نہیں ہیں تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کا آپ کو علم نہیں ہے۔ یہ اس آیت کا واضح معنی ہے کیونکہ حضرت نوح کو اس کا تو یقینا علم تھا کہ کافر اور مشرک کی مغفرت نہیں ہوسکتی اور وہ خود بھی تمام کافروں کی ہلاکت کی دعا کرچکے تھے، اس لیے اس آیت کی یہ تفسیر کرنا درست نہیں کہ حضرت نوح نے یہ جاننے کے باوجود کہ ان کا بیٹا کافر ہے محبت پدری سے مغلوب ہو کر اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف بلکہ خود اپنی دعا کے بھی خلاف کنعان کی مغفرت کی دعا کی، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلا علم اور بلا تحقیق اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، ایک خلاف اولیٰ کام تھا یا ان کی اجتہادی خطا تھی اور یہ ان کا کمال تواضع ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادب اور عبدیت کا اظہار ہے کہ انہوں نے اجتہادی خطا پر بھی معافی مانگی اور کہا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 46