والدین کی شکایت ۔۔۔

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی

صبح فجر کی نماز پڑھ کر سو ہی رہا تھا باہر کچھ آوازیں آنے لگیں لیکن میں پوری رات کا جاگا ہو ا تھا لہذا رضائی سر تک اوڑھی کروٹ لی اور دوبارہ سو گیا کچھ دیر بعد اہلیہ نے آ کر جگایا ۔

ارے جاگیے ! یہ دیکھیے ہمارے گھر کے باہر رش کیوں لگ رہاہے ؟

اللہ خیر ! میں نے رضائی ایک طرف رکھی اور دروازے پر پہنچا بہت سارے لوگ میرے دروازے پر جمع تھے لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے ۔

یا اللہ خیر ! میں ایک انتہائی شریف آدمی ہوں ، کسی قسم کی بھی سیاست میں حصہ نہیں لیتا اورمحلے کی یونین کا صدر بھی نہیں ہوں پھر یہ لوگ احتجاج کیوں کررہے ہیں؟

جی فرمائیے ! کیا شکایت ہے آپ کو ؟میں نے ہمت کرکے کہا ۔

ارے اسمٰعیل صاحب! ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ۔ ایک صاحب نے پلے کارڈ کچھ نیچے کرتے ہوئے کہا ۔

پھر یہ میرے دروازے پر احتجاج کیوں کیا جا رہاہے ؟میں نے کچھ نا راضگی سے کہا ۔

ارے مسئلہ آپ نے ہی حل کرنا ہے اس لیے ہم سب آپ کے پاس آ ئے ہیں ۔ایک اور صاحب نے کہا ۔

مسئلہ میں نے حل کرنا ہے ۔میں بڑبڑا یا ۔۔۔ آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے میں کوئی وزیر نہیں ہوں کہ آپ کے مسئلے حل کر سکوں آپ اپنی شکایات لے کر وزیر اعلیٰ کے پاس جائیے وہ آپ کے مسائل حل کریں گے۔میں نے ایک مرتبہ پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی ۔

نہیں یہ مسئلہ آپ ہی حل کر سکتے ہیں ۔۔۔ایک اور اچھی عمر کے آدمی نے مجھ سے کہا ۔

اچھا تو بتائیے ! میں باہر ہی لگی بینچ پر بیٹھ گیا ۔

سب لوگوں نےایک ساتھ بولنا شروع کر دیا ہماری یہ شکایت ہے اور ہمیں یہ شکایت ہے ۔۔۔

ارے بھئی ایک ایک کر کے بتائیے کسے شکایت ہے اور کس سے شکایت ہے ؟ میں نے کہا تو سب لوگ خاموش ہو گئے ان میں سے ایک آدمی نے کہا ہمارے بچے ہمارا کہنا نہیں سنتے ہیں ،یہ سب سوسائیٹی کے والدین ہیں اور اپنے بچوں کی شکایت آپ سے کرنا چاہتے ہیں ۔

مجھ سے کیوں کرنا چا ہتے ہیں یہ آپ کی کہانیاں شوق سے پڑھتے ہیں آپ انہیں سمجھا دیں گے تویہ آپ کی بات سمجھ لیں گے ۔

ان صاحب کی بات سُن کر میری جان میں جان آئی ۔۔۔دل ہی دل میں خوش بھی ہوا اچھا تو مجھے چیف جسٹس بنایا جا رہاہے ۔

جی تو فرمائیے ! آپ کو اپنے بچوں سے کیا شکایت ہے ؟ میں نے پوچھا

میرے بچے صبح جاگتے ہیں لیکن بستر نہیں سمیٹتے اب آپ ہی بتائیے کیا یہ بچوں کی اچھی بات ہے ؟ ایک خاتون نے اپنے بچوں کی شکایت کرتے ہوئے کہا

اور میرے بچے اسکول سے آنے کے بعد یونفارم ایسے پھینک کر جاتے ہیں جیسے گھر میں نوکروں کی فوج ہو اور سمیٹتی رہے گی ۔آپ انہیں سمجھائیے ۔

ایک بچے کی مما تو بہت شدید غصے میں تھیں بس مت پوچھو کتنے غصے میں تھیں۔۔۔ اپنے بیٹے کی شکایت کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں یہ ہر وقت موبائل لے کر بیٹھا رہتا ہے اس میں گیم کھیلتا رہتا ہے۔

اتنی ساری شکایات آپ کیسے یاد رکھیں یہ لیجیے یہ میں نے والدین سے پوچھ کر بہت ساری شکایات اس پر چے پر لکھ دی ہیں ۔ایک خاتون نے پرچہ مجھے تھمایا ۔اس پرچے میں تو ڈھیر ساری شکایات تھیں ۔

• بچے ہوم ورک وقت پر نہیں کرتے

• آواز دو تو “جی ” نہیں بولتے ،سن کر ان سنی کر دیتے ہیں ۔

• ٹی وی اور کارٹون دیکھ دیکھ کر وقت ضائع کرتے ہیں ۔

اف یہ توبہت ساری شکایات ہیں بعد میں فرصت سے پڑھتا ہوں پر چہ لپیٹ کر میں نے جیب میں رکھ لیا ۔

ایک صاحب کی تو سانس پھولی ہوئی تھی میں نے انہیں اپنے برابر میں بٹھایا ور کہا جی آپ فرمائیے ۔۔۔

کہنے لگے ہمارے بچے ہمارا خیال نہیں رکھتے میرے پیروں میں درد ہوتاہے مگر دباتے نہیں ہیں میں بڑی مشکل سے چل کر آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے کہوں کہ میرے بچوں کو سمجھائیں ۔۔۔جوانی میں انہیں کما کر کھلایا خون پسینہ ایک کر دیا اب بڑھاپے میں کام کرنے کی سکت نہیں مگر یہ بچے میرا اور میری بیوی کا خیال نہیں رکھتے کیا یہ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے ۔

بیٹا ! اب ہم سے غذا ہضم نہیں ہو تی اس سے کہتے ہیں وٹامن والا دودھ لا دو تو لا کر نہیں دیتا اس دودھ سے کچھ توانائی آجاتی ہے ۔۔۔

بوڑھے والدین کو دیکھ کر تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

والدین کی ایک بہت بڑی اکثریت کو اپنی اپنی اولاد سے کچھ نہ کچھ شکایات تھیں ۔

میں مسلسل رو رہا تھا اور اسی رونے کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی یا اللہ ! یہ سب کیا خواب تھا ؟

میری آنکھوں میں ابھی بھی آنسو تھے ۔۔۔ یہ اشارہ تھا کہ ایک کہانی بچوں کے لیے ایسی لکھی جائے جس میں بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت “والدین ” کی اہمیت کو جان سکیں ۔

پیارے بچو !کیا آپ کو معلوم ہے والدین کیسی نعمت ہیں ؟ اور قرآن نے والدین کے بارے میں کیا حکم فرمایاہے ؟

اللہ تعالیٰ کی سب نعمتیں بہت پیاری ہیں والدین ایسی نعمت ہیں کہ اس جیسی کوئی دوسری نعمت نہیں والدین کے لیے معلوم ہے قرآن نےکیا حکم دیاہے ؟

قرآن کریم نے بیان کیا۔

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ- سورہ انعام 151

تم فرماؤ، آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں جو تم پر تمہارے رب نے حرام کیا وہ یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳بنی اسرائیل )

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔

دیکھو بچو ! ہمارے رب نے ہمیں کیا حکم دیاہے

والدین سے اف بھی نہیں کرنا چاہیے نرمی سے بات کرنا چاہیے ۔۔۔اور ہم کیسے کیسے سخت جملے بول جاتے ہیں آج سے وعدہ کیجیے کہ والدین کا کہنا مانیں گے ان کے سامنے اف بھی نہیں کہیں گے ۔۔۔

علماء نے لکھا ہے شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ معلوم ہے کیا ؟

شرک کے بعد والدین کی نافرمانی سب سے بڑا گناہ ہے ۔۔۔

قرآن نے والدین کے لیے دعا کرنے کی تعلیم دی ۔

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)

اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔

اپنے والدین کے لیے ہر نماز میں دعا کیجیے ۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :

پروردگار کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور پروردگار کی ناخوشی باپ کی ناراضی میں ہے۔‘‘

(ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء من الفضل فی رضا الوالدین، ۳ / ۳۶۰، الحدیث: ۱۹۰۷)

بچو! والدین کا نافرمان جنت میں نہیں جائے گا اپنے والدین کا کہنا مانیے ان کی خدمت کیجیے اور دل و جان سے خدمت کیجیے ۔

آپ تو جانتے ہی ہیں ماں کےپیروں تلے جنت ہے بس خدمت کیجیے اور اپنی جنت کما لیجیے ۔

والدین کی اطاعت کے لیے ہم نے ” ایک حدیث ایک کہانی ” کے تحت 6 کتابیں لکھی ہیں

سنہری بخاری شریف

سنہری مسلم شریف

سنہری ترمذی شریف

سنہری ابو داؤد شریف

سنہری ابن ماجہ شریف

سنہری نسائی شریف

ان تمام کتابوں میں والدین کے ادب اور احترام کے حوالے سے آپ تما م کہانیاں پڑھیے یہ کتابیں جلد ان شاء اللہ شائع ہوں گی ۔ رابطہ