أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا وَلَا تُخَاطِبۡنِىۡ فِى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا‌ ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور آپ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے موافق کشتی بنائیے اور ظالموں کے متعلق ہم سے کوئی بات نہ کریں کیونکہ وہ ضرور غرق کیے جائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے موافق کشتی بنائیے اور ظالموں کے متعلق ہم سے کوئی بات نہ کریں کیونکہ وہ ضرور غرق کیے جائیں گے۔ (ھود : ٣٧) 

جان بچانے کے وجوب پر بعض مسائل کی تفریع

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو یہ بتادیا کہ ان کی قوم میں سے صرف وہی لوگ ایمان لانے والے تھے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں، اس کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) یہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کو عذاب دینے والا ہے اور چونکہ عذاب کئی طریقوں سے آسکتا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو یہ بتایا کہ وہ عذاب از قبیل غرقابی ہوگا اور غرقابی اور ڈوبنے سے نجات کی صورت صرف کشتی سے ہوسکتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو کشتی بنانے کا حکم دیا۔ مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ امر اباحت کے لیے تھا یا وجوب کے لیے، صحیح یہ ہے کہ یہ امر وجوب کے لیے تھا کیونکہ اس وقت جان بچانا صرف کشتی کے ذریعہ ممکن تھا اور جان بچانا واجب ہے اور جس پر واجب موقوف ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے اس لیے کشتی کا بنانا واجب ہے اور اس قاعدہ پر کئی مسائل متفرع ہوتے ہیں مثلاً اگر کوئی مسلمان ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر فلاں شخص کے جسم میں خون نہ پہنچایا گیا تو وہ مرجائے گا تو اس کے جسم میں خون منتقل کرنا واجب ہے، اسی طرح اگر کسی عورت کا بغیر آپریشن کے بچہ پیدا نہ ہوتا ہو اور مسلمان ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ اب اس کے پیٹ میں مزید آپریشن کی گنجائش نہیں ہے تو اس کی نل بندی کرنا واجب ہے، اسی طرح اگر کسی شخص کے دونوں گردے ناکارہ ہوگئے ہو اور اس کو صحیح گردہ فراہم کردیا جائے تو اس کی جان بچانے کے لیے اس پر واجب ہے کہ وہ اس گردہ سے پیوند لگوالے، تاہم ہمارے نزدیک کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ پیوندکاری کے لیے اپنا گردہ نکلوا کر کسی کو ہبہ کرے۔ بعض علماء نے پیوندکاری کے لیے اپنے اعضاء نکلوانے پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے : امام عبداللہ بن احمد اور امام طبرانی نے ان الفاظ سے یہ حدیث روایت کی ہے :

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے جسم سے کسی چیز کو صدقہ کیا اس کو بقدر صدقہ اجر دیا جائے گا۔ (مجمع الزوائد ج ٦ ص ٣٠٢، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٥٩٥)

البتہ حضرت امام احمد نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے : حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے جسم میں کوئی زخم لگے اور وہ اس کو صدقہ کردے تو جتنا وہ صدقہ کرے گا اللہ اتنا اس کے گناہوں کا کفارہ کردے گا۔ (اس حدیث کی سند صحیح ہے) (مسند احمد ج ٥ ص ٣١٦، طبع قدیم، مسند احمد ج ٥ رقم الحدیث : ٢٣٠٧٧، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، ١٤١٩ ھ)

اس حدیث کا ظاہر معنی یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی شخص پر ظلم کیا اور اس کا کوئی عضو کاٹ کر اس کی منفعت زائل کردی اور اس مظلوم نے اس ظالم کو معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کو بقدر جنایت اجر عطا فرمائے گا، امام احمد کی سند صحیح ہے۔ ہمارے نزدیک کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کا کوئی عضو نکلوا کر کسی شخص کو ہبہ کر دے، کیونکہ کوئی شخص اپنے جسم کا مالک نہیں ہے اور اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے جسم کو ہلاکت میں یا ہلاکت کے خطرہ میں ڈال دے۔ شرح صحیح مسلم جلد ثانی میں ہم نے اعضاء کی پیوندکاری پر تفصیل سے بحث کی ہے، البتہ اگر کسی شخص کو کوئی عضو دے دیا گیا ہو اور اس کو ہلاکت کا خطرہ ہو تو جان بچانے کے لیے اس پر واجب ہے کہ وہ اس عضو سے پیوندکاری کرائے۔ 

اللہ تعالیٰ کی صفات متشابہات میں متاخرین کا مسلک

اس آیت میں فرمایا ہے : واصنع الفلک باعیننا ” ہماری آنکھوں کے سامنے کشتی بنائیے۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھوں کے ثبوت کا ذکر ہے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : دلائل قطعیہ عقلیہ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اعضاء، جوارح، اجزاء اور حصوں سے منزہ ہے لہٰذا اس آیت کی تاویل کرنا واجب ہے اور اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) اس سے مراد ہے کہ آپ فرشتوں کی آنکھوں کے سامنے کشتی بنائیے جن کو معلوم ہے کہ کشتی کسی طرح بنائی جاتی ہے۔

(٢) کسی چیز پر آنکھ رکھنا اس کی حفاظت کرنے سے کنایہ ہے اور اس آیت کا معنی ہے آپ ہماری حفاظت میں کشتی بنائیے۔ (تفسیر کبیرج ٦ ص ٣٤٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانی اعضاء اور ان کے عوارض اور لوازم کا ذکر ہے، جیسے ید (ہاتھ) ، ساق (پنڈلی) ، عین (آنکھ) اور احادیث میں ہے : اللہ تعالیٰ آسمان میں ہے اس کی طرف پاک کلمے چڑھتے ہیں، وہ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، ائمہ متقدمین کا مذہب یہ تھا کہ یہ سب اللہ کی صفات ہیں اور ان کی کیفیت کا اللہ ہی کو علم ہے لیکن اس کی یہ صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں مثلاق اس کا ہاتھ ہے لیکن وہ کیسا ہاتھ ہے ؟ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے تاہم اس کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں ہے اور متاخرین علماء نے یہ سمجھا کہ ان صفات کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہے اس لیے انہوں نے ان صفات میں تاولیات کیں اور کہا کہ مثلاً ید (ہاتھ) سے مراد قدرت اور غلبہ ہے اور عین (آنکھ) سے مراد حفاظت ہے اور جہاں حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے، اس سے مراد ہے اس کی رحمت نازل ہوتی ہے، علی ہذا القیاس، اب ہم اس مسئلہ میں ائمہ متقدمین کے مذاہب بیان کر رہے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کی صفات متشابہات میں متقدمین کا مسلک

امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت متوفی ١٥٠ ھ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی حد ہے، نہ کوئی ضد ہے، نہ کوئی اس کا شریک ہے اور نہ کوئی اس کی مثل ہے اور اس کا ہاتھ ہے اور اس کا چہرہ ہے اور اس کا نفس ہے اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے چہرہ، ہاتھ اور نفس کا ذکر کیا ہے پس وہ اس کی صفات بلا کیف ہیں اور یہ نہ کہا جائے کہ اس کے ہاتھ سے مراد اس کی قدرت یا نعمت ہے کیونکہ اس قول سے اللہ تعالیٰ کی صفات کو باطل کرنا لازم آتا ہے۔ (فقہ اکبر مع شرحہ ص ٣٧۔ ٣٦، مطبوہ مصر ١٣٧٥ ھ)

الامام الحسین بن مسعود البغوی الشافعی المتوفی ٥١٦ ھ ثم استوی علی العرش کی تفسیر میں لکھتے ہیں : کلبی اور مقاتل نے کہا : استوی کا معنی استقر ہے (رحمن عرش پر برقرار ہے) ابوعبیدہ نے کہا : اس کا معنی ہے عرش پر چڑھا اور معتزلہ نے الاستواء کی تاویل استیلاء سے کی ہے (وہ عرش پر غالب ہے)

اور رہے اہلسنت تو وہ کہتے ہیں کہ عرش پر استواء اللہ تعالیٰ کی صفت بلاکیف ہے، انسان پر واجب ہے کہ وہ استواء پر ایمان لائے اور اس کا علم اللہ عزوجل کے سپرد کر دے۔ ایک شخص نے امام مالک بن انس سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : الرحمن علی العرش استوی کہ استواء کی کیا کیفیت ہے۔ امام مالک نے تھوڑی دیر سر جھکایا اور ان کو پسینہ آگیا، پھر انہوں نے کہا : استواء کا معنی معلوم ہے (معتدل و مستقیم ہونا، جم کر بیٹھنا) اور اس کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی اور اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے اور میرے گمان میں تم محض گمراہ ہو، پھر امام مالک کے حکم سے اس کو نکال دیا گیا اور سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، سفیابن بن عیینہ، عبداللہ بن مبارک اور ان کے علاوہ دیگر علماء اہلسنت سے صفات متشابہات کے متعلق مروی ہے کہ جس طرح یہ صفات وارد ہوئی ہیں ان کو اسی طرح بلاکیف ماننا چاہیے۔ (معالم التنزیل ج ٢ ص ١٣٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٤ ھ)

شیخ تقی الدین احمد بن تیمیہ الحرانی الحنبلی المتوفی ٧٢٨ ھ نے اپنے فتاویٰ میں اس مسئلہ پر متعدد جگہ بحث کی ہے، اگر ان تمام ابحاے کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل اور مفصل کتاب بن سکتی ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں :

امام احمد (رض) نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اسی صفت کے ساتھ موصوف کیا جائے جس صفت کے ساتھ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے یا جس صفت کے ساتھ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موصوف کیا ہے اور قرآن اور حدیث سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اور سلف کا مذہب یہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وہی صفت بیان کرتے تھے جو اللہ نے خود اپنی صفت بیان کی ہے یا جو صفت اس کے رسول نے بیان کی ہے، بغیر کسی تحریف اور تعطیل کے اور بغیر کسی تکلیف اور تمثیل کے (تحریف سے مراد ہے مثلاً ہاتھ سے مراد قوت اور نعمت لینا اور تعطیل سے مراد اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی نفی کرنا اور کہنا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ نہیں ہے اور تکلیف سے مراد ہے یہ کہنا کہ اس کا ہاتھ اس کیفیت کا ہے یا وہ عرش پر اس طرح بیٹھا ہے یا وہ آسمان دنیا کی طرف اس طرح نازل ہوتا ہے اور تمثیل سے مراد ہے یہ کہنا کہ اس کا ہاتھ مخلوق کے ہاتھ کی مثل ہے اور یوں ایمان رکھا جائے کہ اللہ کا ہاتھ ہے اور وہ کیسا ہے اور کس طرح ہے یہ ہم کو معلوم نہیں ہے، البتہ وہ مخلوق میں سے کسی کی مثل نہیں ہے، وہ ہاتھ اس طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے) ہم کو یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفت بیان کی ہے وہ برحق ہے، اس میں کوئی پہیلی یا بجھارت نہیں ہے اور اس کے باوجود اللہ سبحانہ کی کوئی مثل نہیں ہے، اس کی ذات کی کوئی مثل ہے نہ اس کے اسماء اور صفات کی اور نہ اس کے افعال کی، پس جس طرح ہم کو یہ یقین ہے کہ اس کی ذات اور اس کے افعال کی حقیقت ہے اسی طرح ہم کو یہ یقین ہے کہ اس کی صفات بھی حقیقی ہیں اور اس کی ذات اور اس کی صفات کی اور اس کے افعال کی کوئی مثل نہیں ہے اور ہر وہ چیز جو کسی نقص یا حدوث کو واجب کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے حقیقتاً منزہ ہے اور اللہ سبحانہ اس کمال کا مستحق ہے جس سے بڑھ کر کمال متصور نہیں ہے۔ اور سلف کا مذہب تعطیل اور تمثیل کے درمیان ہے، وہ اللہ تعالیٰ لی صفات کو مخلوق کی صفات کے ساتھ تشبیہ نہیں دیتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو مخلوق کی ذات کے ساتھ تشبیہ نہیں دیتے اور اللہ تعالیٰ سے ان صفات کی نفی نہیں کرتے جن صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو متصف کیا ہے اور اس کے رسول نے ان صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو متصف کیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اور اس کی عالی صفات کو معطل نہیں کرتے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو ان کے معانی سے موڑ کر تحریف کرتے ہیں اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور اس کی آیات میں الحاد کرتے ہیں۔ جو علماء اللہ تعالیٰ کی صفات کو معطل کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کا وہی معنی سمجھتے ہیں جو معنی مخلوق کی صفات کا ہے، پس جب کسی کہنے والے نے یہ کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہو تو لازم آئے گا یا تو وہ عرش سے اکبر ہو یا اصغر ہو یا مساوی ہو اور ان میں سے ہر صورت محال ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عرش کے اوپر ہونے کا وہی معنی سمجھا ہے جس طرح ایک جسم دوسرے جسم کے اوپر ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا وہ معنی لیا جائے جو اس کی شان کے لائق ہے اور اس کے ساتھ خاص ہے تو پھر یہ خرابی لازم نہیں آتی اور ان کا استدلال تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اس ہان کا کوئی بنانے والا ہے تو پھر وہ جوہر ہے یا عرض ہے کیونکہ ہر موجود جو ہر ہے یا عرض ہے اور ان دونوں کا صانع اور خالق ہونا محال ہے تو پھر ثابت ہوا کہ اس جہان کے لیے کسی خالق کا ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا صحیح معنی یہ ہے کہ وہ عرش پر اس استواء کے ساتھ مستوی ہے جو اس کی شان جلال کے موافق ہے اور اس کے ساتھ مختص ہے، پس جس طرح اس کی یہ صفت ہے کہ وہ ہر چیز کا عالم ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور وہ سمیع اور بصیر ہے اسی طرح اس کی یہ صفت ہے کہ وہ عرش پر مستوی ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ کے لیے علم اور قدرت کے اثبات سے یہ لازم نہیں آتا کہ علم اور قدرت کے جو مخلوق کے عوارض ہیں ان کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے لیے لازم آئے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے استواء کے ثبوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ مخلوق کے استواء کے جو عوارض ہیں، ان کا ثبوت اللہ کے لیے لازم آئے اور اللہ عزوجل عرش کے اوپر ہے، یہ اس طرح نہیں ہے جس طرح مخلوق میں سے کوئی چیز دوسرے کے اوپر ہوتی ہے اور یاد رکھو کہ سلف کے طریقہ کی مخالفت پر کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی۔ (مجموعۃ الفتاویٰ ج ٥ ص ٢١۔ ٢٠، مطبوعہ دارالجیل بیروت، ١٤١٨ ھ)

اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کی وہ آیات اور وہ احادیث پیش کریں جن میں ان صفات کا ذکر ہے جن کو متقدمین بغیر کسی تاویل کے مانتے ہیں اور متاخرین ان میں تاویل کرتے ہیں اور ان کی عقلی توجیہات کرتے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کی صفات متشابہات کے متعلق قرآن مجید کی آیات

لیس کمثلہ شی وہو السمیع البصیر۔ (الشوریٰ : ١١) اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ بہت سننے والا، بہت دیکھنے والا ہے۔ اللہ عزوجل سننے والا ہے اور دیکھنے والا ہے لیکن اس کا سننا اور دیکھنا اپنی شان کے مطابق ہے۔ وہ مخلوق کی طرح کانوں سے نہیں سنتا اور نہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔

وھو بکل شی علیم۔ (الحدید : ٣) اور وہ ہر چیز کا عالم ہے۔ اللہ عالم ہے لیکن اس کا علم اس کی شان کے مطابق ہے، مخلوق کی طرح نہیں کہ ذہن میں کوئی چیز منکشف ہو یا قوت مدرکہ کے سامنے کوئی چیز حاضر ہو، یا مدرک کے سامنے حالت اور اکیہ یا حالت انجلائیہ ہو یا عقل میں کسی چیز کی صورت حاصل ہو۔

وہو ارحم الراحمین۔ (یوسف : ٦٤) وہ تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے لیکن اپنی شان کے مطابق رحم فرماتا ہے، اس کا رحم مخلوق کی طرح نہیں کہ دل میں رقت پیدا ہو۔

ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاءہ جہنم خالدا فیہا وغضب اللہ علیہ ولعنہ۔ (النساء : ٩٣) جس شخص نے کسی مومن کو عمداً قتل کیا، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اللہ اس پر غضب فرماتا ہے اور اس پر لعنت فرماتا ہے۔ اللہ اپنی شان کے لائق غضب فرماتا ہے، مخلوق کے غضب کی طرح نہیں کہ خون جوش مارنے لگے اور بلڈ پریشر ہائی ہوجائے۔

وجاء ربک والملک صفا صفا (الفجر : ٢٢) اور آپ کا رب آیا اور فرشتے صف بہ صف حاضر ہوئے۔ اللہ کا آنا بھی اس کی شان کے موافق ہے، مخلوق کے آنے کی طرح نہیں ہے کہ جہاں پہلے نہ ہو وہاں چل کر آجائے۔ ویبقی وجہ ربک۔ (الرحمن : ٢٧) اور آپ کے رب کا چہرہ باقی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کا چہرہ اس کی شان کے موافق ہے، مخلوق کے چہرے کی طرح نہیں جو جسمانی ساخت کو مستلزم ہے۔

واصبر لحکم ربک فانک با عیننا ۔ (الطور : ٤٨) آپ اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کریں کیونکہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی آنکھیں اس کی شان کے لائق ہیں، مخلوق کی آنکھوں کی طرح نہیں جو جسمیت کو مستلزم ہیں۔

مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی۔ (ص : ٧٥) تجھ کو جس چیز نے اس کو سجدہ کرنے سے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ اس کی شان کے لائق ہیں مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں جو جسم کے اجزاء اور اعضاء ہیں۔

الرحمن علی العرش استوی۔ (طہ : ٥) رحمن فرش پر بیٹھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عرش پر بیٹھنا اس کی شان کے لائق ہے، مخلوق کے بیٹھنے کی طرح نہیں ہے جو جسمانی وضع کو مستلزم ہے۔

وکلم اللہ موسیٰ تکلیما (النساء : ١٦٤) اور اللہ نے موسیٰ سے بکثرت کلام فرمایا۔ اللہ کا کلام کرنا اس کی شان کے لائق ہے، مخلوق کے کلام کی طرح نہیں ہے جو زبان اور ہونٹوں کی حرکت اور آواز کو مستلزم ہ۔ 

اللہ تعالیٰ کی صفات متشابہات کے متعلق احادیث

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر رات کو جب آخری تہائی حصہ ہوتا ہے تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو عطا کروں، کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں اس کی مغفرت کروں ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١١٤٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٥٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٣١٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٩٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٣٦٦، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٧٦٨) اللہ تعالیٰ کا آسمان دنیا پر اترنا اس کی شان کے لائق ہے، مخلوق کے اترنے کی مثل نہیں ہے جو جسم ہونے کو مستلزم ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ دو آدمیوں کی طرف (دیکھ کر) ہنستا ہے، ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے اور دونوں جنت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا : ایک شخص اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے، پھر اللہ اس کو قتل کو توبہ کی توفیق دیتا ہے، پس وہ مسلمان ہوجاتا ہے اور اللہ عزوجل کی راہ میں قتال کر کے شہید ہوجاتا ہے۔ (جیسے حضرت حمزہ اور حضرت وحشی (رض) (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٢٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٩٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٦٥)

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کا بھائی بیمار ہو وہ یہ دعا کرے : اے ہمارے رب اللہ جو آسمان میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین میں ہے، جس طرح تیری رحمت آسمان میں ہے تو اپنی رحمت زمین پر کردے، ہمارے گناہوں اور خطائوں کو بخش دے، تو پاک لوگوں کا رب ہے، اپنی رحمت میں سے رحمت نازل فرما اور اس تکلیف پر اپنی شفاء میں سے شفاء نازل فرما۔ پھر وہ شخص تندرست ہوجائے گا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٨٩٢، مسند احمد ج ٦ ص ٢١)اللہ تعالیٰ کا آسمان میں ہونا اس کی شان کے موافق ہے، مخلوق کی طرح نہیں کہ آسمان اس کے لیے ظرف بن جائے۔

حضرت معاویہ بن حکم سلمی سے ایک طویل حدیث مروی ہے، انہوں نے غصہ میں اپنی ایک باندی کے تھپڑ مار دیا، پھر وہ اس پر سخت نادم ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں اس کو آزاد نہ کردوں ! آپ نے فرمایا : اس باندی کو میرے پاس لائو، میں اس کو لے کر آیا۔ آپ نے اس سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا : آسمان میں۔ پھر فرمایا : میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ رسول اللہ ہیں۔ آپ نے فرمایا : اس کو آزاد کردو، یہ مومن ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٣٥، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٩٣٠، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٢١٨، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٤١) اس حدیث کا بھی یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان میں ہے۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک کشادہ ریتلے نالہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت ایک بادل گزرا، آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا : تم اس کو کیا کہتے ہو ؟ ہم نے کہا : سحاب۔ آپ نے فرمایا : اور مزن ؟ ہم نے کہا : مزن۔ (ان تمام لفظوں کا معنی بادل ہے) آپ نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ یہ ؟ ہم نے کہا : ہم نہیں جانتے۔ آپ نے فرمایا : ان کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے۔ (ترمذی کی روایت میں ہے پانچ سو سال کی مسافت ہے) اسی طرح آپ نے سات آسمانوں کو گنا اور ساتویں آسمان کے اوپر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی کا اتنا فالہ ہے جتنا دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے اور اس کے اوپر پہاڑی بکروں کی شکل میں آٹھ فرتشے ہیں ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا دو آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے، پھر ان کی پشتوں کے اوپر عرش اور اس کے نچلے حصے اور اوپر کے حصے کے درمیان اتنا فاصل ہے جتنا دو آسمانوں کے درمیان فاصل ہے، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٧٢٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٣٢٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٩٣، مسند احمد ج ١ ص ٢٠٦، ٢٠٧) اللہ تعالیٰ کا عرش کے اوپر ہونا اس کی شان کے موافق ہے۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور جہنم یہ کہے گی : کیا کچھ اور زیادہ ہیں ! پھر اللہ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا، پھر وہ کہے گی : بس بس ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٤٨) اللہ تعالیٰ کا قدم اس کی شان کے موافق ہے اور قدم سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے ؟ یہ وہی جانتا ہے۔ 

متاخرین کے اختلاف کا منشاء

صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، فقہاء مجتہدین اور تمام مقتدمین علماء کا یہی نظریہ تھا کہ قرآن اور حدیث میں اللہ تعالیٰ کی جن صفات متشابہات کا ذکر ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں اور اس کی کوئی صفت مخلوق کی کسی صفت کے مشابہ نہیں ہے اور اس صفت سے اس کی کیا مراد ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن متاخرین علماء نے جب یہ دیکھا کہ مخالفین اسلام ان صفات کی وجہ سے اسلام پر طعن وتشنیع کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خدا کے ہاتھ اور پیر ہیں، اس کا چہرہ ہے اور اس کی آنکھیں ہیں، وہ ہنستا ہے، وہ چلتا ہے اور نیچے اترتا ہے اور یہ تمام چیزیں جسم کے عوارض ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا خدا جسم ہے اور ہر جسم حادث اور ممکن ہوتا ہے تو مسلمان حادث اور ممکن کو خدا مانتے ہیں۔ پس متاخرین علماء نے ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے ان صفات کی تاویلیں کیں اور ان کے محامل بیان کیے۔ انہوں نے کہا : ہاتھ سے مراد قوت اور نعمت ہے، آنکھوں سے مراد اس کی نگرانی اور حفاظت ہے، کشف ساق (القلم : ٤٢) پنڈلی کھولنے سے مراد قیامت کی شدتیں اور ہولناکیاں ہیں، اسی طرح انہوں نے جہنم میں قدم رکھنے کی یہ تاویل کی کہ کسی چیز کو اپنے قدم کے نیچے رکھنے سے مراد اس چیز کو ذلیل کرنا ہوتا ہے اور یہاں یہ مراد ہے کہ جب جہنم تیزی اور طراری دکھائے گی اور کہے گی : کیا کچھ اور زیادہ ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کر دے گا، ہنسنے سے مراد اس کا اراضی ہونا ہے اور اترنے سے مراد اس کی رحمت کا متوجہ ہونا ہے، سو متاخرین علماء نے اسی قسم کی تاویلات کر کے اسلام سے اعتراضات دور کرنے کی سعی کی، فجزاھم اللہ تعالیٰ عنا و عن سائر المسلمین خیر الجزاء۔

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ شرح عقائد میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے (جسم سے) منزہ ہونے پر دلائل قطعیہ قائم ہیں اس لیے نصوص کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا واجب ہے جیسا کہ مقتدمین کا طریقہ ہے، کیونکہ اسی میں سلامتی ہے یا ان کی صحیح تاویلات کی جائیں جیسا کہ متاخرین علماء نے جاہلوں کے اعتراضات دور کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا تاکہ جو کم علم مسلمان ہیں وہ اسلام سے برگشتہ نہ ہوں۔ (شرح عقائد نسفی ص ٣٤، مطبوعہ کراچی)

علامہ عبدالعزیز پر ہاروی اس عبارت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ علماء اہلسنت کا اس پر اجماع ہے کہ ان صفات متشابہات کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں، پھر ان میں علماء کے دو مذہب ہیں : متقدمین کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم اور جسم کی مشابہت سے منزہ ہے، ہم ان صفات پر ایمان لاتے ہیں اور ان صفات سے کیا مراد ہے اور یہ صفات کس کیفیت سے ہیں اس کو ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا : پیروں پر قائم ہونا اور ہاتھ اور پیر اور باقی وہ تمام صفات جن کا قرآن اور حدیث میں ذکر ہے وہ سب اللہ سبحانہ کی صفات ہیں جن کی حقیقت کا ہم کو علم نہیں ہے اور فقہ اکبر میں امام اعظم کی طرف یہ منسوب ہے کہ ان صفات کی تاویل کرنے سے ان صفات کو باطل کرنا لازم آتا ہے اور یہ معتزلہ کا قول ہے اور دوسرا مذہب متاخرین کا ہے جو ان صفات کی اللہ تعالیٰ کی شان کے موافق تاویل کرتے ہیں کیونکہ ان کے زمانہ میں بدمذہب اسلام پر اعتراض کرتے تھے اور عام مسلمانوں کو شکوک اور شبہات میں ڈالتے تھے۔ (نبراس ص ١٨٦۔ ١٨٥، مطبوعہ شاہ عبدالحق اکیڈمی بندیال، ١٣٩٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 37