أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاُوۡحِىَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ آپ کی قوم میں سے صرف وہی لوگ ایمان لانے والے تھے جو پہلے ایمان لا چکے ہیں پس آپ ان کی کارروائی سے مغموم نہ ہوں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نوح کی طرف وحی کی گئی کہ آپ کی قوم میں سے صرف وہی لوگ ایمان لانے والے تھے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں پس آپ ان کی کاروائی سے مغموم نہ ہوں۔ (ھود : ٣٦) 

امتناع کذب اور مسئلہ تقدیر

امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے کافروں کے خلاف یہ دعا کی : وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ (نوح : ٢٦) اور نوح نے دعا کی : اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ۔ (جامع البیان جز ١٢ رقم الحدیث : ١٣٩٩٧)

جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا کرلی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ آپ کی قوم میں سے صرف وہی لوگ ایمان لانے والے تھے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے جن کافروں کے متعلق یہ خبر دی کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے ان کا بعد میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ سے ایمان لانا ممکن تھا یا محال تھا، اگر ان کا ایمان لانا محال تھا تو یہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ کسی شخص کو امر محال کے ساتھ مکلف کرنا درست نہیں ہے اور اگر ان کا ایمان لانا ممکن تھا تو یہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ اس سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کا کذب ہونا ممکن ہو اور اس کے علم کا جہل ہونا ممکن ہو اور یہ محال ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا ایمان لانا ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے، اللہ تعالیٰ کی خبر دینے سے قطع نظر فی نفسہ ان کا ایمان لانا ممکن ہے اور اسی لحاظ سے ان کا ایمان لانا ممکن ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے دی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اس اعتبار سے ان کا ایمان لانا ممتنع بالغیر ہے کیونکہ ان کے ایمان لانے سے اللہ تعالیٰ کی خبر کا کذب ہونا اور اس کے علم کا جہل ہونا لازم آئے گا اور وہ محال بالذات ہے اور یہاں سے مسئلہ تقدیر بھی واضح ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے یہ کفار اپنے اختیار سے ایمان نہیں لائیں گے اس لیے اس نے فرما دیا کہ آپ کی قوم میں سے صرف وہی لوگ ایمان لانے والے تھے جو پہلے ایمان لاچکے ہیں۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے البقرہ : ٦ کا مطالعہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 36