أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ ارۡكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجْرٖٮٰھَا وَمُرۡسٰٮهَا ‌ؕ اِنَّ رَبِّىۡ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور نوح نے کہا اس کشتی میں سوار ہو جائو، اس کا چلنا اور ٹھیرنا اللہ ہی کے نام سے ہے بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نوح نے کہا : اس کشتی میں سوار ہو جائو، اس کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے، بیشک میرا رب ضرور بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (ھود : ٤١) 

ہر کام کے شروع سے پہلے اللہ کا نام لینا

حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ کے نام کے ساتھ اس کشتی میں سوار ہو جائو، اس میں یہ اشارہ ہے کہ جب انسان کسی کام کو شروع کرے تو کام کو شروع کرتے وقت اللہ کے نام کا ذکر کرے حتیٰ کہ اس ذکر کی برکت سے اس کا مقصود پورا ہوجائے اور خصوصاً کسی سواری پر بیٹھتے وقت۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ الزخرف : ١٤۔ ١٣ میں آئے گی۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ ذی شان کام جس کو بسم اللہ الرحیم کے ساتھ شروع نہ کیا جائے وہ ناتمام رہتا ہے۔ (تاریخ بغداد ج ٥ ص ٧٧، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٢٨٤، کنز العمال رقم الحدیث : ٢٤٩١، حافظ سیوطی کی رمز کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے) اللہ کے نام سے مراد اللہ کا ذکر ہے، اس طرح اس حدیث کی درج ذیل حدیث سے موافقت ہوجاتی ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر ذی شان کام جو اللہ کی حمد سے نہ شروع کیا گیا ہو وہ ناتمام رہتا ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٤٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٩٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : (٢، ١) الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٦٢٨٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہر وہ کلام یا ہر وہ کام جو اللہ کے ذکر سے نہ شروع کیا جائے وہ ناتمام رہتا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٥٩) نیز حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس پر متنبہ فرمایا کہ اس کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام کی برکت اور اس کے حکم اور اس کی قدرت سے ہے اور یہ کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو انہوں نے قوم کو یہ خبر دی کہ یہ کشتی نجات کا حصول کا سبب نہیں ہے بلکہ نجات تو صرف اللہ کے فضل سے ہوگی اور انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کرے اور نہ اور نہ ظاہری اسباب پر اعتمار کرے بلکہ تمام چیزوں سے صرف نظر کر کے مسبب الاسباب پر اعتماد اور توکل کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 41