أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِىۡ مَآءَكِ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِعِىۡ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ وَقُضِىَ الۡاَمۡرُ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِىِّ‌ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّـلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام پورا کردیا گیا اور کشتی جو دی پہاڑ پر ٹھیر گئی اور کہہ دیا گیا کہ ظالم لوگوں کے لیے (رحمت سے) دوری ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی خشک کردیا گیا اور کام پورا کردیا گیا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ ظالم لوگوں کے لیے (رحمت سے) دوری ہے۔ (ھود : ٤٤) 

مشکل الفاظ کے معانی

ابلعی ماءک : تم سے جو پانی پھوٹ کر نکلا ہو اس کو پی لو یا نگل لو۔ اقلعی : بارش برسانا موقوف کردو۔ غیض کا معنی ہے کم ہوگیا، یہاں مراد ہے پانی خشک ہوگیا۔

قضی الامر : تقدیر میں لکھا ہوا پورا ہوگیا یعنی حضرت نوح کی قوم کے کافروں کا ہلاک ہونا اور مومنوں کا نجات پانا۔ جودی : یہ ایک پہاڑ ہے جو کردستان کے علاقہ میں جزیرہ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے، یہ علاقہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک ہے اور جبل الجودی اسی سلسلہ کا ایک پہاڑ ہے، یہ پہاڑ آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ (تفہیم القرآن ملخصاج ٢ ص ٣٤١) 

اللہ اور اس کے رسول کا جمادات کا خطاب کرنا

اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ وہ اپنا پانی نگل لے اور آسمان کو حکم دیا کہ وہ بارش برسانا موقوف کر دے اس سے معلوم ہوا کہ زمین اور آسمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور یہ اطاعت غیر اختیاری ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کائنات میں جو بھی تغیرات اور حوادث وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ سب اللہ عزوجل کے احکام کے تحت ہوتے ہیں زمین اور آسمان کو ندا کر کے جو اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا ہے اس کے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ خطاب مجازی ہے کیونکہ زمین اور آسمان جمادات میں سے ہیں اور ان میں سننے اور سمجھنے کی خاصیت نہیں ہے لیکن یہ ہماری سوچ اور ہماری فکر ہے، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سننے اور سمجھنے کی ایسی خاصیت رکھی ہو جس کا ہمیں ادراک نہیں ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا میں کیسے پہچانوں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر میں اس کھجور کے درخت کے خوشے کو بلائوں اور وہ گواہی دے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر ! پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کھجور کے خوشہ کو بلایا، تب وہ خوشہ درخت سے اترا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے گرگیا ، پھر آپ نے فرمایا : لوٹ جا، تو وہ اسی طرح لوٹ گیا، تو وہ اعرابی مسلمان ہوگیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ١٨٢، مسند احمد ج ١ ص ٢٤٣، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٤، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٦٢٢، المستدرک ج ٢ ص ٦٢٠، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ٥٣٠، دلائل النبوۃ لابی نعیم رقم الحدیث : ٢٩٧، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦ ص ١٧)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کے ایک راستہ میں جارہا تھا، آپ کے سامنے جو بھی پہاڑ یا درخت آتا تھا وہ کہتا تھا : السلام علیک یا رسول اللہ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٦٢٦، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢١، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٥٤۔ ١٥٣، شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٧١٠) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمادات میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہو اور صرف وہی ان سے کلام کرسکتے ہوں، آخر الذکر حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت تمام کائنات کے لیے تھی اور ہر چیز آپ کی رسالت کی گواہی دیتی تھی اور اوال الذکر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ درختوں پر لگے ہوئے خوشے بھی آپ کی اطاعت کرتے تھے تو اگر ہم آپ کی اطاعت نہ کریں تو ہم ان درختوں سے بھی گئے گزرے ہوئے۔ 

جودی پہاڑ پر کشتی ٹھہرنے کی تفصیل

امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ مجاہد سے روایت کرتے ہیں : جودی ایک جزیرہ میں پہاڑ ہے، سب پہار غرق ہوگئے تھے یہ پہاڑ اپنی تواضع اور عجز کی وجہ سے غرق ہونے سے بچ رہا، حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اسی جگہ لنگر انداز ہوئی تھی۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ماہ تک کشتی یہیں لگی رہی، کشتی سے سب اتر گئے اور لوگوں کی عبرت کے لیے کشتی ثابت وسالم یہیں رکی رہی، حتیٰ کہ اس امت کے اوائل میں سے لوگوں نے بھی اس کو دیکھ لیا حالانکہ اس کے بعد کی بہترین اور مضبوط کشتیاں بنیں، بگڑیں اور راکھ ہوگئیں۔

عکرمہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ کشتی میں حضرت نوح (علیہ السلام) سمیت ایسی (٨٠) انسان تھے۔ ایک سو پچاس دن تک وہ سب کشتی ہی میں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے کشتی کا منہ مکہ مکرمہ کی طرف کردیا۔ وہ کشتی چالیس دن تک بیت اللہ کا طواف کرتی رہی، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جودی کی طرف روانہ کردیا، وہاں جا کر وہ ٹھہر گئی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوے کو بھیجا کہ وہ خشکی کی خبر لائے، وہ ایک مردار کو کھانے میں لگ گیا اور دیر لگا دی۔ آپ نے ایک کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتا اور پنجوں میں مٹی لے کر آیا، اس سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ اندازہ لگایا کہ پانی سوکھ گیا ہے اور زمین ظاہر ہوگئی ہے۔ آپ جودی کے نیچے اترے اور وہیں ایک بستی کی بنیاد رکھ دی۔ ایک دن صبح کو جب لوگ بیدار ہوئے تو ہر شخص کی زبان بدلی ہوئی تھی، وہ اسی (٨٠) قسم کی زبانیں بول رہے تھے، ان میں سب سے بہتر زبان عربی تھی، اور کوئی شخص دوسرے کا کلام سمجھ نہیں رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو وہ سب زبانیں سکھا دیں اور آپ ہر ایک کو دوسرے کا مطلب سمجھا رہے تھے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ٢٠٣٧۔ ٢٠٣٨، جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٠٥٠، ١٤٠٥٥، ١٤٠٥٦، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٩٦)

امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یکم رجب کو حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے اور انہوں نے سب مسلمانوں نے روزہ رکھا اور چھ ماہ تک کشتی ان کو لے کر سفر کرتی رہی اور محرم تک سفر جاری رہا اور دس محرم کو وہ کشتی جودی پہاڑ پر لنگرانداز ہوئی۔ اس دن حضرت نوح (علیہ السلام) نے خود روزہ رکھا اور کشتی میں سوار سب لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا حتیٰ کہ وحشی جانوروں اور چوپایوں نے بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٠٤٢، الجماع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٣٨، مختصر تاریخ دمشق ج ٢٦ ص ٢٠٧، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٩٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ یہودیوں کے پاس سے گزر ہوا جنہوں نے دس محرم کا روزہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے ان سے پوچھا : یہ کیسا روزہ ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ دن ہے جس دن میں اللہ نے حضرت موسیٰ اور بنو اسرائیل کو غرق سے نجات دی تھی اور اسی دن میں فرعون غرق ہوا تھا اور اسی دن میں حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری تھی تو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے اس دن روزہ رکھا تھا، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں حضرت موسیٰ کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہوں اور اس دن کا روزہ رکھنے کا (بھی) زیادہ حق دار ہوں، پھر آپ نے اپنے اصحاب کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٦٠۔ ٣٥٩) 

تکبر کی مذمت اور تواضع کی تعریف

جودی پہاڑ نے اللہ کی بارگاہ میں خضوع اور خشوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ عزت اور سرفرازی عطا فرمائی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی اس پہاڑ پر لنگر انداز ہوئی اور مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاریہ ہے، جو اس کے سامنے تواضع اور عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سرفراز اور سربلدن کرتا ہے اور جو اکڑتا ہے، فخر کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذیل اور خوار کرتا ہے، نیز جو شخص ہمیشہ کامیاب اور سرفراز رہتا ہو اور کبھی ناکام نہ ہوتا ہو اور لوگ اس کو ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر سمجھتے ہوں اللہ تعالیٰ اس کو ایک مرتبہ ناکام کردیتا ہے اور یہ واضح فرما دیتا ہے کہ ہمیشہ سربلند رہنے والی صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ ہمارے زمانہ میں ٨٨ ء تک روس بہت سربلند تھا، پھر ٩١ ء سے اس کا زوال شروع ہوا۔ وہ معاشی طور پر تباہ ہو کر ٹوٹ پھوٹ گیا اور اب انشاء اللہ امریکہ کی باری ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کا نام عضباء تھا اور وہ تمام سواریوں میں ہمیشہ سب سے آگے رہتی تھی اور کوئی اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، ایک مرتبہ ایک اعرابی ایک اونٹ پر سوار تھا وہ عضباء سے آگے نکل گیا تو مسلمانوں کو اس سے بہت رنج ہوا اور انہوں نے افسوس سے کہا : عضباء پیچھے رہ گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لازم کرلیا ہے کہ جس چیز کو دنیا میں سربلند کرتا ہے اس کو (ایک بار) سرنگوں بھی کرتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٧٢، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٨٠٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٥٩٠، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٠٣٣، عالم الکتب، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٣)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صدقہ کسی مال میں کمی نہیں کرت اور معافی مانگنے سے اللہ بندے کی عزت زیادہ کرتا ہے اور جو شخص بھی اللہ کی بارگاہ میں تواضع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو سربلند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٠١٨، طبع جدید، مطبوعہ دارالفکر)

حضرت عیاض بن حمار (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان قیام فرما ہوئے اور آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا : اللہ نے میری طرف یہ وحی کی ہے کہ تم تواضع اور انکسار کرو حتیٰ کہ کوئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٦٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٧٩) 

ان بچوں اور جانوروں کا کیا قصور تھا جن کو طوفان میں غرق کیا گیا ؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور کام پورا کردیا گیا، یعنی تقدیر کا لکھا ہوا پورا ہوگیا، کافر غرق کردیئے گئے اور مسلمانوں کو نجات دے دی گئی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ نے جس کے لیے جو مقدر کردیا ہے وہ اپنے وقت میں ہو کر رہتا ہے، زمین و آسمان میں اس کے حکم کو نافذ ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا اور اس کی قضاء کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس طوفان میں نابالغ بچے بھی ہلاک ہوگئے تھے تو کفار کے جرم کی وجہ سے ان کے بچوں کو ہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کے اصول اور اس کی حکمت کے منافی ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ طوفان آنے سے چالیس سال پہلے کافر عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے بانجھ کردیا تھا اور اس طوفان سے چالیس سال سے کم عمر کا کوئی آدمی ہلاک نہیں ہوا۔ (تہذیب تاریخ دمشق ج ٢٦ ص ١٩٨)

دوسرا جواب یہ ہے کہ طوفان میں بچوں کا ہلاک ہونا اسی طرح ہے جیسے اس طوفان میں پرندوں، چرندوں اور درندوں کا ہلاک ہونا اور ان کی ہلاکت ان کے حق میں عذاب نہیں تھی بلکہ ان سب کی مدت حیات پوری ہوگئی تھی اور جس طرح حلال جانوروں کو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ذبح کرنا ان کے حق میں عذاب نہیں ہے اسی طرح ان بچوں کا طوفان میں غرق ہونا بھی ان کے حق میں عذاب نہیں تھا،

تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا مالک مطلق ہے وہ اپنی مخلوق میں جس طرح چاہے تصرف کرے، کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لا یسئل عما یفعل وہم یسئلون (الانبیاء : ٢٣) اللہ جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے متعلق اس سے سوال نہیں کیا جائے گا اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کسی کافر پر رحم نہیں فرمائے گا

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ظالم لوگوں کے لیے (رحمت سے) دوری ہے۔

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ حضرت نوح (علیہ السلام) کی (کافر) قوم میں سے کسی ایک پر رحم فرماتا تو ایک بجے کی ماں پر رحم فرماتا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت نوح (علیہ السلام) نو سو پچاس سال کی عمر تک اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دیتے رہے، حتیٰ کہ جب ان کے زمانہ کا آخر آپہنچا تو انہوں نے درخت اگائے اور جب وہ درخت پوری طرح بڑھ گئے تو ان کو کاٹا پھر وہ کشتی بنانے لگے۔ کفار ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے اس کے متعلق سوال کرتے۔ وہ کہتے کہ میں کشتی بنا رہا ہوں، وہ ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے تم کشتی خشکی میں بنا رہے ہو، وہ کیسے چلے گی ؟ حضرت نوح فرماتے : تم کو عنقریب پتا چل جائے گا۔ جب وہ کشتی بنا کر فارغ ہوگئے اور تنور ابلنے لگا اور گلیوں میں پانی بہنے لگا، تو ایک بچے کی ماں نے اپنے بچہ پر خطرہ مہسوس کیا وہ اپنے بچے سے بہت زیادہ محبت کرتی تھی۔ وہ بچے کو لے کر ایک پہاڑ کی طرف روانہ ہوئی اور پہاڑ کے ایک تہائی حصہ تک پہنچ گئی۔ جب وہاں بھی پانی پہنچ گیا تو وہ دو تہائی حصہ تک پہاڑ پر چڑھ گئی، جب وہاں بھی پانی پہنچ گیا تو وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گئی، جب پانی اس عورت کی گردن تک پہنچ گیا تو اس عورت نے اس بچے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا، حتیٰ کہ پانی اس کو بہا کرلے گیا، پس اگر اللہ کافروں پر رحم فرماتا تو اس بچہ کی ماں پر رحم فرماتا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٠٠٥، المستدرک ج ٢ ص ٥٤٧، ٣٤٢، حاکم نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٣٨، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٩٧۔ ٤٩٦، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٨٤٨)

ابو طالب اور ابولہب کے عذاب میں جو تخفیف کی گئی اس کی وجہ فی نفسہ ان پر رحمت نہیں ہے بلکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرابت، آپ کے ساتھ حسن سلوک اور آپ کی شفاعت کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی گئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 44