أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَـقُّ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰكِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور نوح نے اپنے رب کو پکارا سو کہا بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ برحق ہے اور تو تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نوح نے اپنے رب کو پکارا سو کہا بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ برحق ہے اور تو تمام حاکموں سے بڑا حاکم ہے۔ (ھود : ٤٥) 

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کی تفصیل

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : امام محمد بن سعد اور امام ابن عساکر نے اپنی سندوں کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے : جس زمانہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے، اس زمانہ میں تمام لوگ شرک اور بت پرستی میں ملوث تھے جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر چار سو اسی (٤٨٠) سال ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اعلان نبوت کا حکم دیا، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو ایک سو بیس سال تک اللہ کے دین کی طرف دعوت دی، پھر ان کو کشتی بنانے کا حکم دیا، جس وقت انہوں نے کشتی بنائی اور اس میں سوار ہوئے اس وقت ان کی عمر چھ سو سال تھی، جن کافروں نے اس طوفان میں غرق ہونا تھا وہ غرق ہوگئے، کشتی سے اترنے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) مزید ساڑھے تین سو سال زندہ رہے، ان کے ایک بیٹے کا نام سام تھا، اس کا رنگ سفید اور گندمی تھا، دوسرے بیٹے کا نام حام تھا، اس کا رنگ سیاہ اور سفید تھا اور تیسرے بیٹے کا نام یافث تھا، اس کا رنگ سرخ تھا اور چوتھے بیٹے کا نام کنعان تھا، یہ غرق ہوگیا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی : بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ برحق ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ دعا اس لیے کی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : ہم نے (نوح سے) فرمایا اس کشتی میں ہر قسم کے (نر اور مادہ) جوڑوں کو سوار کرلو اور اپنے اہل کو (بھی) سوار کرلو، سو ان کے جن کو غرق کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ (ھود : ٤٠) حضرت نوح (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اہل کو کشتی میں سوار کرنے کا حکم دیا ہے تو عرض کیا : میرا بیٹا (کنعان) بھی میرے اہل سے ہے، مطلب یہ تھا کہ اس کو بھی کشتی میں سوار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے تاکہ وہ بھی نجات پانے والوں میں سے ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے جواب میں فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 45