بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ یونس مکیّہ ہے سوائے تین آیتوں کے ” فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ” سے اس میں گیارہ رکوع اور ایک سو نو آیتیں اور ایک ہزار آٹھ سو بتیس کلمے اور نو ہزار ننانوے حرف ہیں ۔

الٓرٰ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ(۱)

یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ﳳ-قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ(۲)

کیا لوگوں کو اس کا اَچَنْبھا(تعجب)ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کو وحی بھیجی کہ لوگوں کو ڈر سناؤ (ف۲) اور ایمان والوں کو خوشخبری دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچ کا مقام ہے کافر بولے بےشک یہ تو کھلا جادوگر ہے (ف۳)

(ف2)

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا جب اللہ تبارَک و تعالٰی نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسالت سے مشرّف فرمایا اور آپ نے اس کا اظہار کیا تو عرب منکِر ہوگئے اور ان میں سے بعضوں نے یہ کہا کہ اللہ اس سے برتر ہے کہ کسی بشر کو رسول بنائے ۔ اس پر یہ آیات نازِل ہوئیں ۔

(ف3)

کُفّار نے پہلے تو بشر کا رسول ہونا قابلِ تعجُّب و انکار قرار دیا اور پھر جب حضور کے معجزات دیکھے اور یقین ہوا کہ یہ بشر کے مَقدِرَت سے بالا تر ہیں تو آپ کو ساحِر بتایا ۔ ان کا یہ دعوٰی تو کذب و باطل ہے مگر اس میں بھی حضورکے کمال اور اپنے عجز کا اعتراف پایا جاتا ہے ۔

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَؕ-مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(۳)

بےشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر اِستوا ء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے کام کی تدبیر فرماتا ہے (ف۴) کوئی سفارشی نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد (ف۵) یہ ہے اللہ تمہارا رب (ف۶) تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے

(ف4)

یعنی تمام خَلق کے امور کا حسبِ اقتضاءِ حکمت سر انجام فرماتا ہے ۔

(ف5)

اس میں بُت پرستوں کے اس قول کا رد ہے کہ بُت ان کی شفاعت کریں گے ، انہیں بتایا گیا کہ شفاعت ماذونین کے سوا کوئی نہیں کرے گا اور ماذون صرف اس کے مقبول بندے ہوں گے ۔

(ف6)

جو آسمان و زمین کا خالِق اور تمام امور کا مدبِّر ہے اس کے سوا کوئی معبُود نہیں فقط وہی مستحقِ عبادت ہے ۔

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ(۴)

اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے (ف۷) اللہ کا سچا وعدہ بےشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائیگا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے (ف۸) اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلہ ان کے کفر کا

(ف7)

روزِ قیامت اور یہی ہے ۔

(ف8)

اس آیت میں حشر و نشر و معاد کا بیان اور منکِرین کا رد ہے اور اس پر نہایت لطیف پیرایہ میں دلیل قائم فرمائی گئی ہے کہ وہ پہلی بار بناتا ہے اور اعضاءِ مرکَّبہ کو پیدا کرتا ہے اور ترکیب دیتا ہے تو موت کے ساتھ متفرِّق و منتشر ہونے کے بعد ان کو دوبارہ پھر ترکیب دینا اور بنے ہوئے انسان کو فنا کے بعد پھر دوبار بنا دینا اور وہی جان جو اس بدن سے متعلق تھی اس کو اس بدن کی درستی کے بعد پھر اسی بدن سے متعلق کر دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے اور اس دوبارہ پیدا کرنے کامقصود جزائے اعمال یعنی مطیع کو ثواب اور عاصی کو عذاب دینا ہے ۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّۚ-یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۵)

وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں (ف۹) کہ تم برسوں کی گنتی اور (ف۱۰) حساب جانو اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق (ف۱۱) نشانیاں مُفَصَّل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے (ف۱۲)

(ف9)

اٹھائیس منزلیں جو بارہ برجو ں پر منقسم ہیں ، ہر برج کے لئے 2/1 . 2 منزلیں ہیں ، چاند ہر شب ایک منزل میں رہتا ہے اور مہینہ تیس دن کا ہو تو دو شب ورنہ ایک شب چھپتا ہے ۔

(ف10)

مہینوں ، دنوں ، ساعتوں کا ۔

(ف11)

کہ اس سے اس کی قدرت اور اس کی وحدانیت کے دلائل ظاہر ہوں ۔

(ف12)

کہ ان میں غور کر کے نفع اٹھائیں ۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ(۶)

بےشک رات اور دن کا بدلتا آنا اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ان میں نشانیاں ہیں ڈر والوں کے لیے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ(۷)

بےشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے (ف۱۳) اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے (ف۱۴) اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں (ف۱۵)

(ف13)

روزِ قیامت اور ثواب و عذا ب کے قائل نہیں ۔

(ف14)

اور اس فانی کو جاودانی پر ترجیح دی اور عمر اس کی طلب میں گزاری ۔

(ف15)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہاں آیات سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ پاک اور قرآن شریف مراد ہے اور غفلت کرنے سے مراد ان سے اعراض کرنا ہے ۔

اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۸)

ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْۚ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۹)

بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا (ف۱۶) ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں

(ف16)

جنّتوں کی طرف ۔ قتادہ کا قول ہے کہ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل خوب صورت شکل میں اس کے سامنے آئے گا ، یہ شخص کہے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا میں تیرا عمل ہوں اور اس کے لئے نور ہوگا اور جنّت تک پہنچائے گا اور کافِر کا معاملہ برعکس ہوگا کہ اس کا عمل بُری شکل میں نمودار ہو کر اسے جہنّم میں پہنچائے گا ۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌۚ-وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠(۱۰)

ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اللہ تجھے پاکی ہے (ف۱۷) اور ان کے ملتے وقت خوشی کا پہلا بول سلام ہے (ف۱۸) اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا(خوبیوں والا) اللہ جو رب ہے سارے جہان کا (ف۱۹)

(ف17)

یعنی اہلِ جنّت اللہ تعالٰی کی تسبیح ، تحمید ، تقدیس میں مشغول رہیں گے اور اس کے ذکر سے انہیں فرحت و سرور اور انتہا درجہ کی لذّت حاصل ہوگی سبحان اللہ ۔

(ف18)

یعنی اہلِ جنّت آپس میں ایک دوسرے کی تحِیّت و تکریم سلام سے کریں گے یا ملائکہ انہیں بطورِ تحِیّت سلام عرض کریں گے یا ملائکہ ربّ عزوجل کی طرف سے ان کے پاس سلام لائیں گے ۔

(ف19)

ان کے کلام کی ابتداء اللہ کی تعظیم و تنزیہ سے ہوگی اور کلام کا اختتام اس کی حمد و ثنا پر ہوگا ۔