أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ‌ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰذَا‌ ‌ۛؕ فَاصۡبِرۡ‌ ‌ۛؕ اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ۞

ترجمہ:

یہ (واقعات) من جملہ غیب کی خبروں سے ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں جن کو اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم، پس صبر کیجیے بیشک نیک انجام متقین کے لیے ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ (واقعات) من جملہ غیب کی خبروں سے ہیں، جن کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں جن کو اس سے پہلے نہ آپ جانتے تھے نہ آپ کی قوم، پس صبر کیجیے بیشک نیک انجام متقین کے لیے ہے۔ (ھود : ٤٩) 

غیب کی خبروں اور علم غیب کے اطلاق کی بحث

اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے مفصل حالات بیان فرمائے اور حالات بتانے کے بعد فرمایا : یہ غیب کی خبریں ہیں اور آپ کو معلوم ہوجانے کے بعد بھی اس پر غیب کا اطلاق فرمایا کیونکہ ماضی کے اعتبار سے وہ غیب ہے، جیسے کوئی ماسٹر پڑھانا چھوڑ دے پھر بھی اس کو ماسٹر صاحب کہتے ہیں کیونکہ ماضی میں وہ ماسٹر تھا اور اس کو اسی اعتبار سے ماسٹر کہا جاتا ہے۔ جو متقین، اللہ تعالیٰ پر، فرشتوں پر، قیامت پر اور جنت اور دوزخ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلانے سے ہی ان چیزوں کو جانا اور مانا ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یومنون بالغیب (البقرہ : ٣) ” جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ “ اس آیت میں جنت، دوزخ وغیرہ ان چیزوں پر غیب کا اطلاق فرمایا ہے جو متقین کو پہلے بتادی گئی تھیں اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو چیز بتادی جائے یا جس کی خبر دے دی جائے وہ غیب نہیں رہتی، ان کا یہ کہنا ان آیتوں کی روشنی میں غلط ہے دراصل یہ اعتراض غیب کی تریف سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ غیب کی تعریف یہ ہے جس چیز کو حواس خمسہ اور بداہت عقل سے نہ جانا جاسکے وہ غیب ہے، اس چیز کے جاننے کا ذریعہ یا عقل سے غور و فکر کرنا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، قیامت اور جنت اور دوزخ اور یا اس کے جاننے کا ذریعہ مخبر صادق کی خبر ہے، جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جنات اور فرشتوں کی خبر دی اور غیب کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ غیب ہے جس کے جاننے کا کوئی ذریعہ ہو مثلاً عقل سے غور و فکر کرنا یا مخبر صادق کی خبر ہے، یہ غیب عطائی ہے اور ایک وہ غیب ہے جس کے جاننے کا کوئی ذریعہ نہ ہو، یہ غیب ذاتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی معلومات غیر متناہیہ۔ اسی طرح یہ کہنا بھی علمی طور پر غلط ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کی خبروں کا علم ہے علم غیب نہیں ہے، کیونکہ علم کے حصول کے تین ذرائی ہیں : جو اس، عقل سلیم اور خبر صادق… تو جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخبر صادق سے خبروں کا علم ہوگیا تو آپ کو غیب کا علم ہوگیا، البتہ چونکہ غیب سے متبادر غیب ذاتی ہوتا ہے اس لیے یوں نہیں کہنا چاہیے کہ آپ کو علم غیب ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آپ کو غیب کا علم دیا گیا ہے، اسی طرح آپ کو عالم الغیب کہنا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ عرف اور شرح میں عالم الغیب کا لفظ اللہ عزوجل کے ساتھ مختص ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آپ مطلع علی الغیب ہیں۔ ہم نے البقرہ : ٣ میں اس مبحث کی زیادہ تفصیل کی ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا قصہ ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے بھی لوگوں کو معلوم تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات کے نازل ہونے سے پہلے یہ قصہ لوگوں کو اجمالی طور پر معلوم تھا اور ان آیات سے اس قصہ کی تفصیل معلوم ہوئی۔ اس آیت میں آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ آپ اور آپ کے متبعین کفار کی اذیتوں پر صفر کریں جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم نے کافروں کی اذیتوں پر صبر کیا تھا اور صبر کرنے سے آپ کو اور آپ کے متبعین کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور کامیابی حاصل ہوگی جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو اللہ کی مدد اور کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 49