أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖۤ اِلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَيَسۡتَخۡلِفُ رَبِّىۡ قَوۡمًا غَيۡرَكُمۡۚ وَلَا تَضُرُّوۡنَهٗ شَيۡــئًا‌ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَفِيۡظٌ ۞

ترجمہ:

اگر تم پیٹھ پھیرو (تو کوئی بات نہیں) میں تم کو وہ پیغام پہنچا چکا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا اور میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو لا کر آباد کر دے گا اور تم اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، بیشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم پیٹھ پھیرو تو (کوئی بات نہیں) میں تم کو وہ پیغام پہنچا چکا ہوں جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا اور میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو لا کر آباد کر دے گا اور تم اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، بیشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے اور جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے ھود کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے نجات دے دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا اور یہ ہیں قوم عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ظالم ہٹ دھرم کا حکم مانا۔ اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (ان کے پیچھے لگی رہے گی) سنو ! بیشک قوم عاد نے اپنے رب کا کفر کیا، سنو ھود کی قوم عاد کے لیے پھٹکار ہے۔ (ھود : ٦٠۔ ٥٧) 

قوم عاد پر نزول عذاب کا پس منظر اور پیش منظر

حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا : اگر تم پیٹھ پھیرو اس کے بعد جزاء محذوف ہے یعنی اگر تم پیٹھ پھیرو تو مجھے پیغام پہنچانے میں کوتاہی پر کستی عتاب کا سامنا نہیں ہوگا کیونکہ میں نے تم کو باربار پیغام پہنچایا اور تم مسلسل میری تکذیب کرتے رہے، پھر فرمایا : اور میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو لا کر آباد کر دے گا یعنی تمہارے بعد اللہ تعالیٰ ایسی قوم پیدا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گی اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت ھود (علیہ السلام) کے منکروں پر ایسا عذاب آنے والا ہے جس سے پوری قوم کو ملیامیٹ کردیا جائے گا اور پوری قوم عاد کو ہلاک کردینے سے اللہ تعالیٰ کے ملک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ پھر فرمایا : اور جب ہمارا عذاب آگیا، ان پر عذاب کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ایک زبردست آندھی بھیجی، یہ سخت اور تیز ہوا ان کے نتھنوں میں گھستی اور ان کے پچھلے سوراخ (دبر) سے نکل کر ان کے منہ کے بل زمین پر گرا دیتی حتیٰ کہ وہ اس طرح ہوگئے جس طرح کھجور کے تنے زمین پر گرے ہوئے ہوں۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ ہوا نے ان کو کس طرح ہلاک کردیا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہوا سخت گرم ہو یا بہت یخ بستہ اور ٹھنڈی ہو یا وہ ہوا بہت تیز اور بہت سخت ہو اور اس نے ان کو زمین پر پچھاڑ دیا ہو ان میں سے ہر چیز ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے ھود اور ایمان والوں کو نجات دی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ آندھی مسلمانوں اور کافروں دونوں پر آئی لیکن مسلمانوں پر یہ آندھی رحمت بن گئی اور یہی آندھی کافروں پر عذاب بن گئی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں پر جو عذاب نازل فرماتا ہے، مسلمانوں کو اس عذاب سے نجات عطا فرماتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کیسے معلوم ہوتا کہ کافروں پر ان کے کفر کی وجہ سے عذاب نازل ہوا ہے۔ نجات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ساتھ مربوط فرمایا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان اور ان کے نیک اعمال کے باوجود وہ اس عذاب سے نجات نہیں پاسکتے تھے اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے شامل حال نہ ہوتی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ ان کو نجات ان کے ایمان اور ان کے نیک اعمال کی وجہ سے ملی تھی لیکن ایمان اور نیک اعمال کی ہدایت ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملی تھی اور اس سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عین نزول عذاب کے وقت ان پر رحم فرمایا اور ان کو کافروں سے الگ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد کا قصہ ذکر فرمایا تو ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم کو مخاطب کر کے فرمایا : یہ ہیں عاد، اس قول میں ان کی قبروں اور ان کے آثار کی طرف اشارہ ہے، گویا یوں فرمایا ہے : زمین میں سفر کرو اور غور و فکر کر کے قوم عاد کے آثار دیکھو اور ان سے عبرت حاصل کرو، پھر اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی تین برائیوں کا ذکر فرمایا :

(١) انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اس سے مراد یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنے دعویٰ نبوت کے صدق پر جو معجزات پیش کیے انہوں نے ان کا انکار کیا اور یا اس سے مراد یہ ہے کہ اس خارجی کائنات میں اور خود ان کے جسم کے داخل میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر جو نشانیاں ہیں ان نشانیوں سے اس صاحب نشان تک پہنچنے کے لیے انہوں نے غور و فکر نہیں کیا۔

(٢) انہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی ہرچند کہ انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی تھی لیکن چونکہ تمام رسولوں کا ایک ہی پیغام ہے اور سب کا ایک ہی دین ہے اس لیے ایک رسول کی تکذیب کرنا تمہارا رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہے۔

(۳) انہوں نے ہر ظالم ہٹ دھرم کا حکم مانا، اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے عوام اپنے بڑوں کی تقلید کرتے تھے اور ان کے بڑے یہی کہتے تھے کہ یہ جو شخص نبوت کا مدعی ہے وہ تمہاری مثل بشر ہے اور یہ کہہ کر وہ اس نبی کی نبو تکا انکار کرتے تھے اور عوام آنکھیں بند کر کے ان کی تقلید کرتے تھے۔ اللہ تعلایٰ ان کے ان تین اوصاف کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگی رہی اور قیامت کے دن بھی ان کے پیچھے لعنت لگی رہے گی، اس سے مراد یہ ہے کہ اس دنیا اور آخرت میں ان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دھتکار دیا ہے اور ان کو ہر خیر سے محروم کردیا گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ قوم عاد پر اس عذاب اور لعنت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے کفر کیا اس کو واحد ماننے اور صرف اس کی عبادت کرنے سے انکار کیا اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عاد جو ھود کی قوم ہے، اس کے لیے پھٹکار ہے، عاد کو ھود کی قوم کے ساتھ اس لیے مقید فرمایا کہ عاد نام کی دو قومیں تھیں، ایک عاد قدیم تھی، یہ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم تھی، اس کو عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں اور عاد حدیث، اس کو عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں، یہ بہت جسیم اور قد آور لوگ تھے۔ یہی ارم ذات العماد ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بعد والی قوم عاد سے احتراز کے لیے فرمایا : عاد جو ھود کی قوم ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 57