أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰصٰلِحُ قَدۡ كُنۡتَ فِيۡنَا مَرۡجُوًّا قَبۡلَ هٰذَآ‌ اَتَـنۡهٰٮنَاۤ اَنۡ نَّـعۡبُدَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِىۡ شَكٍّ مِّمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ مُرِيۡبٍ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے صالح ! اس سے پہلے آپ ہماری امیدوں کا مرکز تھے۔ کیا آپ ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں۔ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ بیشک آپ ہمیں جس دین کی دعوت دے رہے ہیں اس نے ہمیں زبردست شک میں ڈال دیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اے صالح ! اس سے پہلے آپ ہماری امیدوں کا مرکز تھے ! کیا آپ ہمیں ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، بیشک آپ ہمیں جس دین کی دعوت دے رہے ہیں اس نے ہمیں زبردست شک میں ڈال دیا ہے۔ (ھود : ٦٢) 

حضرت صالح (علیہ السلام) سے ان کی قوت کی امیدوں کی وجوہات تھیں :

(١) حضرت صالح (علیہ السلام) بہت ذکی اور فہیم تھے اور فراخ دل اور بہت حوصلہ والے شخص تھے، اس لیے ان کی قوم کو یہ امیدیں تھیں کہ وہ ان کے دین کی مدد کریں گے ان کے مذہب کو قوت اور استحکام پہنچائیں گے اور ان کے طریقوں اور مذہبی رسومات کی تائید کریں گے، کیونکہ جب کسی قوم میں کوئی باصلاحیت نوجوان پیدا ہو تو اس سے اسی قسم کی امیدیں قائم کی جاتی ہیں۔

(٢) حضرت صالح (علیہ السلام) غریبوں کی مالی امداد کرتے تھے، مہمانوں کی خاطر مدارات کرتے تھے اور بیماروں کی عیادت اور خدمت کرتے تھے، اس وجہ سے ان کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ وہ ان کے مددگاروں اور ان کے دوستوں سے ہیں اور جب صالح (علیہ السلام) نے ان کو بت پرستی سے منع کیا تو ان کو سخت تعجب ہوا کہ ان کو اچانک یہ کیا ہوگیا اس لیے انہوں نے کہا : آپ تو ہماری امیدوں کا مرکز تھے، کیا آپ ہم کو ان کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے۔ 

شک اور مریب کا فرق

اس آیت میں شک اور مریب کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ شک یہ ہے کہ انسان نفی اور اثبات کے درمیان متردد ہو اور مریب وہ شخص ہے جو کسی کے ساتھ بدگمانی کر رہا ہو، جب انہوں نے یہ کہا کہ ہم شک میں ہیں تو اس کا معنی یہ تھا کہ ہم کو آپ کے قول کے صحیح ہونے کے متعلق تردد ہے اور جب اس کے ساتھ مریب کا لفظ کہا تو اس کا معنی یہ تھا کہ ان کے اعتقاد میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کا فاسد اور غلط ہونا راجح ہوچکا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 62