أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰهُوۡدُ مَا جِئۡتَـنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحۡنُ بِتٰـرِكِىۡۤ اٰلِهَـتِنَا عَنۡ قَوۡلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَـكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے ھود ! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم (محض) تمہارے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا : اے ھود ! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم (محض) تمہارے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے بعض معبودوں نے تم کو مجنون بنادیا ہے، ھود نے کہا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم (بھی) گواہ رہنا میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم (اللہ کا) شریک قرار دیتے ہو۔ اللہ کے سوا تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو پھر تم مجھ کو (بالکل) مہلت نہ دو ۔ بیشک میں نے اللہ پر توکل کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے، ہر جاندار کو اس نے اس کی پیشانی سے پکڑا ہوا ہے، بیشک میرا رب سیدھے راستے پر (ملتا ہے) (ھود : ٥٦۔ ٥٣) 

حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا مکالمہ

قوم عاد نے حضرت ھود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے جب کہ یہ معلوم ہے کہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کے سامنے معجزات پیش کیے تھے لیکن ان کی قوم نے اپنی جہالت سے ان معجزات کا انکار کیا اور انہوں نے یہ زعم کیا کہ حضرت ھود (علیہ السلام) ان کے پاس قابل ذکر معجزات لے کر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا : ہم محض تمہارے کہنے کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں، ان کا یہ قول بھی باطل تھا کیونکہ وہ یہ اعتراف کرتے تھے کہ نفع اور نقصان پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے اور بت کسی کو کوئی نفع اور نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے، ایسی صورت میں بداہت عقل کا یہ تقاضا ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کو ترک کردیتے اور ان کا بتوں کی عبادت کرنے پر اصرار کرنا ان کی جہالت، حماقت اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں اور ان کا یہ کہنا کہ ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں، محض اندھی تقلید کرنے کی ضد ہے۔ انہوں نے کہا : ہمارے بعض معبودوں نے آپ مجنون بنادیا ہے، ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا ہمارے بتوں کو برا کہنا، آپ کی عقل کے فساد اور آپ کے مجنون ہونے کی دلیل ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو۔ پھر حضرت ھود نے فرمایا : تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو یہ اسی طرح ہے جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : تم سب مل کر اپنی تدبیر پکی کرلو اور اپنے معبودوں کو بھی ساتھ ملا لو پھر تمہاری تدبیر کسی طرح تم سے مخفی نہ رہے پھر تم جو کچھ میرے ساتھ کرسکتے ہو کرلو اور مجھے مہلت نہ دو ۔ (یونس : ٧١) حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو یہ چیلنج دینا اور ان کو للکارنا ان کا بہت بڑا معجزہ ہے کیونکہ ایک تنہا شخص بہت بڑی قوم سے یہ کہے کہ تم میری دشمنی میں اور مجھے نقصان پہنچانے میں جو کچھ کرسکتے ہو وہ کر گزرو اور میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہو وہ بگاڑ لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو تو یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ پر پورا پورا اعتماد ہو کہ وہ اس کی حفاظت کرے گا اور اس کو دشمنوں سے بچائے گا۔ فرمایا : ہر جاندار کو اس نے پیشانی سے پکڑا ہوا ہے۔ عرب یہ جملہ اس وقت کہتے ہیں جب یہ بتانا ہوتا ہے کہ فلاں شخص فلاں کا بالکل مطیع ہے اور اس کے قبضہ وقدرت میں ہے کیونکہ جو شخص کسی کو اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑتا ہے تو اس کو بالکل مسخر اور مقہور کرلیتا ہے اور عرب جب کسی قیدی کو گرفتار کرتے اور پھر اس پر احسان کر کے اس کو آزاد کرنا چاہتے تو اس کو پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر چھوڑ دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے عرب کے محاوہ کے مطابق یہ کلام فرمایا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر جاندار اس کے قبضہ وقدرت میں ہے اور اس کی قضاء و قدر کے تابع ہے۔ اس کے بعد فرمایا : بیشک میرا رب سیدھے راستہ پر (ملتا ہے) اس کا معنی یہ ہے کہ ہرچند کہ ہر جاندار اللہ تعالیٰ کے قبضہ وقدرت میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو حق ہوتا ہے اور عدل اور صحیح ہوتا ہے اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی اور کوئی شخص اس سے بھاگ کر اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہوسکتا۔ 

خلاصہ آیات

ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ھود (علیہ السلام) کی قوم کے دل و دماغ میں بت پرستی راسخ ہوچکی تھی اور وہ اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید پر جمے ہوئے تھے اور اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ کسی دلیل کا کوئی اثر قبول کرتے تھے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کے سامنے معجزات پیش کیے اور سب سے بڑا معجزہ یہ تھا کہ انہوں نے تن تنہا پوری قوم کو للکارا، وہ ان کا جو بگاڑ سکتی ہو وہ بگاڑ لے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی تھے اور ان کو اس پر کامل اعتماد تھا کہ اللہ عزوجل کی مدد ان کے ساتھ ہے اور یہ کافر سب مل کر بھی ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ان کو اللہ تعالیٰ پر کامل توکل تھا اور اس پر ایمان تھا کہ ہر جاندار اللہ تعالیٰ کے قبضہ وقدرت میں ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو حق اور عدل ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 53