أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قِيۡلَ يٰـنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰٓى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ‌ؕ وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

حکم دیا گیا کہ اے نوح کشتی سے اتر جائو ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور ان برکتوں کے ساتھ جو تم پر ہیں اور ان جماعتوں پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جنہیں ہم (عارضی) فائدہ پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حکم دیا گیا کہ اے نوح ! کشتی سے اتر جائو، ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اور ان برکتوں کے ساتھ جو تم پر ہیں اور ان جماعتوں پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جنہیں ہم (عارضی) فائدہ پہنچائیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔ (ھود : ٤٨) 

اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی اور برکتوں کا معنی

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی تھی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جو دی پہاڑ پر ٹھہر گئی اور اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم لامحالہ کشتی سے اتر گئی، اس آیت میں جو اترنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ کشتی سے اتر جائو اور یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ جودی پہاڑ سے زمین پر اتر جائو۔ اس سے متصل پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر فرمایا تھا :

اور اگر تو میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائوں گا۔ (ھود : ٤٧)

اور یہ ایسی ہی دعا ہے جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) نے مانگی تھی :

اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ (الاعراف : ٢٣)

اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) سے بصورت عتاب فرمایا تھاتو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کا آپ کو علم نہیں ہے، بیشک میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں (تاکہ) آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیں۔ (ھود : ٤٦)

اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور اس سے رحم کی درخواست کی اور اب حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس کی ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کو سلامتی کی بشارت دے، اس لیے فرمایا : اے نوح ! سلامتی کے ساتھ کشتی سے اتر جائو، اس سلامتی سے دین اور دنیا دونوں کی سلامتی مراد ہے۔ دین کی سلامتی سے مراد یہ ہے کہ ان سے کوئی ایسا عمل نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ہو اور دنیا کی سلامتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا کی آفات اور بلیات سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اس طوفان سے روئے زمین کی ہر چیز غرق ہوگئی تھی اور جب حضرت نوح کشتی سے اترے تو وہاں کوئی درخت تھا نہ سبزہ تھا نہ کوئی حیوان تھا اور زندگی بسر کرنے اور کھانے پینے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے اس وقت زمین پر کوئی موجود نہ تھی اس لیے اس وقت وہاں بھوک اور پیاس کا خوف تھا اور یہ تشویش تھی کہ ضروریات زندگی کس طرح فراہم ہوں گی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سلامتی کی بشارت دی جو ہر قسم کے خوف کے ازالہ کو شامل ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب وسعت رزق بھی حاصل ہو اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو سلامتی کے ساتھ برکت کی بھی بشارت دی اور برکت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نعمتوں کو دوام اور بقا عطا فرمائے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی سے اترے تو ان کی اولاد کے علاوہ دوسرے مسلمان جو اس کشتی میں سوار تھے وہ سب کشتی میں ہی فوت ہوچکے تھے، اس لیے اس طوفان کے بعد جو نسل انسانی دنیا میں پھیلی وہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ونجینہ واہلہ من الکبرب العظیم۔ وجعلنا ذریتہ ہم البقین۔ وترکنا علیہ فی الاخرین۔ سلم علی نوح فی العلمین۔ (الصفت : ٧٩۔ ٧٦)

اور ہم نے نوح اور ان کے اہل کو بڑی تکلیف (طوفان) سے نجات دی اور ہم نے صرف ان ہی کی اولاد کو باقی رکھا اور بعد میں آنے والوں میں ہم نے ان کا ذکر خیر چھوڑا سلام ہو نوح پر تمام جہانوں میں۔ اس اعتبار سے برکات سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں برکتیں عطا فرمائیں اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) اس زمین پر آدم ثانی یا آدم اصغر تھے اور قیامت تک کی نسل انسانی ان کی ذریت ہے۔ 

وصول نعمت میں عوام اور خواص کا فرق

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان جماعتوں پر برکتیں ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں، مختار قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی نسل اور ان کی ذریت ہے پھر یہ بتایا کہ آگے چل کر ان کی ذریت کی دو قسمیں ہوجائیں گی : بعض مومن ہوں گے اور بعض کافر، کافروں کو دنیا میں عارضی فائدہ ہوگا پھر آخرت میں ان کو دردناک عذاب پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یوں نہیں فرمایا : آپ سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اتریئے بلکہ یوں فرمایا ہے : آپ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ اتریئے، کیونکہ صدیقین اور مقربین نعمت بحیثیت نعمت سے خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو اس سے خوشی ہوتی ہے کہ ان کو وہ نعمت اللہ کی جانب سے ملی ہے بلکہ اصل میں تو ان کو اللہ تعلایٰ کی طرف نسبت اور اس کی طرف توجہ کرنے سے ہی خوشی ہوتی ہے، عام لوگ صرف نفس نعمت سے خوش ہوجاتے ہیں اور خواص کو نعمت کی اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت سے خوشی ہوتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 48