أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيٰقَوۡمِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا وَّيَزِدۡكُمۡ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمۡ وَلَا تَتَوَلَّوۡا مُجۡرِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے میری قوم ! تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید طاقت کا اضافہ کرے گا اور مجرموں کی طرح (حق سے) پیٹھ نہ پھیرو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت ھود نے کہا) اے میری قوم ! تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو، وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید طاقت کا اضافہ کرے گا اور مجرموں کی طرح (حق سے پیٹھ نہ پھیرو۔ (ھود : ٥٢) 

نعمتیں عطا کرنے کے بعد ان سے استفادہ کی توفیق عطا فرمانا

حضرت ھود (علیہ السلام) نے پہلے قوم عاد کو ایمان لانے کی دعوت دی پھر اس کے بعد انہیں توبہ اور استغفار کرنے کا حکم دیا تاکہ پچھلے گناہوں کی آلودگیوں سے ان کا دل صاف ہوجائے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے بتایا کہ جب تم گناہوں پر نادم ہوگے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو بکثرت نعمتیں عطا فرمائے گا اور ان نعمتوں سے استفادہ کرنے کی تم کو طاقت اور عطا فرمائے گا اور یہی سعادت اور کامیابی اور کامرانی کی انتہا ہے، کیونکہ اگر سرے سے نعمت حاصل نہ ہو پھر بھی انسان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور اگر نعمت تو حاصل ہو لیکن اس میں اس نعمت سے فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت نہ ہو پھر بھی اس کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا مثلاً بھوکے انسان کو کھانا میسر نہ ہو تب بھی اس کی بھوک نہیں مٹ سکتی لیکن کھانا تو میسر ہو لیکن اس کا اوپر کا جبڑا نچلے جبڑے پر بیٹھ گیا ہو اور دانت ایک دوسرے پر جم گئے اور وہ منہ کھول سکتا ہو نہ چپا سکتا ہے پھر بھی اس کی بھوک دور نہیں ہوسکتی اور اس کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ سبحان ہے وہ ذات جس نے نعمتیں بھی عطا کیں اور نعمتوں سے فائدہ حاصل کرنے کی قوت بھی عطا کی اس لیے حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا : وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت میں مزید طاقت کا اضافہ کرے گا۔ یہ اس لیے فرمایا کہ مادی نعمتوں کا حصول زراعت کی کثرت پر موقوف ہے اور زراعت میں زیادتی بارش کے زیادہ ہونے پر موقوف ہے اس کے بعد فرمایا اور تمہاری قوت میں مزید طاقت کا اضافہ کرے گا یہ اس لیے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ قوم عاد کے لوگ بہت قوی ہیکل تھے اور وہ اس زمانے کے لوگوں کے اوپر اپنی جسمانی قوت سے فخر کرتے تھے جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : فاما عاد فاستکبروا فی الارض بغیر الحق وقالوا من اشد منا قوۃ (حم السجدۃ : ١٥) پس قوم عاد نے زمین میں ناحق سرکشی کی اور انہوں نے کہا ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے ؟ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ اگر انہوں نے بت پرستی ترک کردی اور استغفار اور توبہ میں مشغول ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان کے کھیتوں اور باغوں میں مزید اضافہ فرمائے گا اور ان کی جسمانی قوت کو بھی زیادہ کرے گا اور یہ بھی منقول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہوں نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے کئی سالوں تک ان سے بارش روک لی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا تب حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ تمہاری غیر آباد اور بنجر زمینوں کو سرسبز اور شاداب کردے گا اور تم کو مال اور اولاد سے نوازے گا حتیٰ کہ تم بہت طاقتور ہو جائو گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 52