حدیث نمبر141

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو پہلی رکعتوں میں ایسے ہوتے تھے گویا آپ گرم پتھر پر ہیں حتی کہ کھڑے ہوتے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

شرح

۱؎ یعنی تین یا چار رکعت والے فرائض میں آپ قعدہ میں زیادہ دیر نہ لگاتے بلکہ صرف التحیات پڑھ کر کھڑے ہوجاتے۔گرم پتھر ہونے سے مراد جلدی اٹھنا ہے اس کے سوا اور جو توجیہیں کی گئی ہیں باطل ہیں عربی میں رضف اس گرم پتھر کو کہتے ہیں جو دودھ گرم کرنے کے لیے استعمال کیاجاتاہے۔