وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْؕ-فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۱)

اور اگر اللہ لوگوں پر برائی ایسی جلد بھیجتا جیسی وہ بھلائی کی جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا ہوچکا ہوتا (ف۲۰) تو ہم چھوڑتے انہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں (ف۲۱)

(ف20)

یعنی اگر اللہ تعالٰی لوگوں کی بددعائیں جیسے کہ وہ غضب کے وقت اپنے لئے اور اپنے اہل و اولاد و مال کے لئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ہلاک ہو جائیں ، خدا ہمیں غارت کرے ، برباد کرے اور ایسے کلمے ہی اپنی اولاد و اقارب کے لئے کہہ گزرتے ہیں جسے ہندی میں کوسنا کہتے ہیں ، اگر وہ دعا ایسی جلدی قبول کر لی جاتی جیسی جلدی وہ دعائے خیر کے قبول ہونے میں چاہتے ہیں تو ان لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہوتا اور وہ کب کے ہلاک ہو گئے ہوتے لیکن اللہ تبارَک و تعالٰی اپنے کرم سے دعا ئے خیر قبول فرمانے میں جلدی کرتا ہے ، دعائے بد کے قبول میں نہیں ، یہ اس کی رحمت ہے ۔

شانِ نُزول : نضر بن حارث نے کہا تھا یا ربّ یہ دینِ اسلام اگر تیرے نزدیک حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھّر برسا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بتایا گیا کہ اگر اللہ تعالٰی کافِروں کے لئے عذاب میں جلدی فرماتا جیسا کہ انکے لئے مال و اولاد وغیرہ ، دنیا کی بھلائی دینے میں جلدی فرمائی تو وہ سب ہلاک ہو چکے ہوتے ۔

(ف21)

اور ہم انہیں مہلت دیتے ہیں اور ان کے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے ۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآىٕمًاۚ-فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲)

اور جب آدمی کو (ف۲۲) تکلیف پہنچتی ہے ہمیں پکارتا ہے لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے (ف۲۳) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں چل دیتا ہے (ف۲۴) گویا کبھی کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا یونہی بھلے کر دکھائے ہیں حد سے بڑھنے والوں کو (ف۲۵) ان کے کام (ف۲۶)

(ف22)

یہاں آدمی سے کافِر مراد ہے ۔

(ف23)

ہر حال میں اور جب تک اس کی تکلیف زائل نہ ہو دعا میں مشغول رہتا ہے ۔

(ف24)

اپنے پہلے طریقہ پر اور وہی کُفر کی راہ اختیار کرتا ہے اور تکلیف کے وقت کو بھول جاتا ہے ۔

(ف25)

یعنی کافِر وں کو ۔

(ف26)

مقصد یہ ہے کہ انسا ن بلا کے وقت بہت ہی بے صبرا ہے اور راحت کے وقت نہایت ناشکرا ، جب تکلیف پہنچتی ہے تو کھڑے ، لیٹے ، بیٹھے ہر حال میں دعا کرتا ہے جب اللہ تکلیف دور کر دے تو شکر بجا نہیں لاتا اور اپنی حالتِ سابقہ کی طرف لوٹ جاتا ہے ، یہ حال غافل کا ہے ، مومن عاقل کا حال اس کے خلاف ہے وہ مصیبت و بلا پر صبر کرتا ہے ، راحت و آسائش میں شکر کرتا ہے ، تکلیف و راحت کے جملہ احوال میں اللہ تعالٰی کے حضور تضرُّع و زاری اور دعا کرتا ہے اور ایک مقام اس سے بھی اعلٰی ہے جو مومنوں میں بھی مخصوص بندوں کو حاصل ہے کہ جب کوئی مصیبت و بلا آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں ، قضاءِ الٰہی پر دل سے راضی رہتے ہیں اور جمیع احوال پر شکر کرتے ہیں ۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْاۙ-وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْاؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(۱۳)

اور بےشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں(ف۲۷) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے (ف۲۸) اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے (ف۲۹) اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو

(ف27)

یعنی اُمّتیں ۔

(ف28)

اور کُفر میں مبتلاہوئے ۔

(ف29)

جو ان کے صدق کی بہت واضح دلیلیں تھیں لیکن انہوں نے نہ مانا اور انبیاء کی تصدیق نہ کی ۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ(۱۴)

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو (ف۳۰)

(ف30)

تاکہ تمہارے ساتھ تمہارے عمل کے لائق معاملہ فرمائیں ۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍۙ-قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُؕ-قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْۚ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵)

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں (ف۳۱) پڑھی جاتی ہیں وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں (ف۳۲) کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے (ف۳۳) یا اسی کو بدل دیجئے (ف۳۴) تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے (ف۳۵) میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں (ف۳۶) تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۳۷)

(ف31)

جنمیں ہماری توحید اور بُت پرستی کی برائی اور بُت پرستوں کی سزا کا بیان ہے ۔

(ف32)

اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔

(ف33)

جس میں بُتوں کی برائی نہ ہو ۔

(ف34)

شانِ نُزول : کُفّار کی ایک جماعت نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے سوا دوسرا قرآن لائیے جسمیں لاتُ و عُزّٰی منات وغیرہ بُتوں کی برائی اور ان کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور اگر اللہ ایسا قرآن نازِل نہ کرے تو آپ اپنی طرف سے بنا لیجئے یا اسی قرآن کو بدل کر ہماری مرضی کے مطابق کر دیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔ ان کا یہ کلام یا تو بطریقِ تمسخُر و استہزاء تھا یا انہوں نے تجرِبہ و امتحان کے لئے ایسا کہا تھا کہ اگر یہ دوسرا قرآن بنا لائیں یا اس کو بدل دیں تو ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کلامِ ربّانی نہیں ہے ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ اس کا یہ جواب دیں جو آیت میں مذکور ہوتا ہے ۔

(ف35)

میں اس میں کوئی تغییر و تبدیل ، کمی بیشی نہیں کر سکتا یہ میرا کلام نہیں کلامِ الٰہی ہے ۔

(ف36)

یا اس کی کتاب کے احکام کو بدلوں ۔

(ف37)

اور دوسرا قرآن بنانا انسان کی مَقدِرت ہی سے باہر ہے اور خَلق کا اس سے عاجز ہونا خوب ظاہر ہو چکا ۔

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ﳲ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۶)

تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا (ف۳۸) تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں (ف۳۹) تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۴۰)

(ف38)

یعنی اس کی تلاوت مَحض اللہ تعالٰی کی مرضی سے ہے ۔

(ف39)

اور چالیس سال تم میں رہا ہوں ، اس زمانہ میں میں تمہارے پاس کچھ نہیں لایا اور میں نے تمہیں کچھ نہیں سنایا ، تم نے میرے احوال کا خوب مشاہدہ کیا ہے ، میں نے کسی سے ایک حرف نہیں پڑھا ، کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا ، اس کے بعد یہ کتابِ عظیم لایا جس کے حضور ہر ایک کلامِ فصیح پست اور بے حقیقت ہوگیا ۔ اس کتاب میں نفیس علوم ہیں ، اصول و فروع کا بیان ہے ، احکام و آداب میں مکارمِ اخلاق کی تعلیم ہے ، غیبی خبریں ہیں ، اس کی فصاحت و بلاغت نے ملک بھر کے فُصَحاء و بُلَغاء کو عاجز کر دیا ہے ، ہر صاحبِ عقلِ سلیم کے لئے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ یہ بغیر وحیٔ الٰہی کے ممکن ہی نہیں ۔

(ف40)

کہ اتنا سمجھ سکو کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے مخلوق کی قدرت میں نہیں کہ اس کی مثل بنا سکے ۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ(۱۷)

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۴۱) یا اس کی آیتیں جھٹلائے بےشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا

(ف41)

اس کے لئے شریک بتائے ۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-قُلْ اَتُنَبِّــٴُـوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۱۸)

اور اللہ کے سوا ایسی چیز (ف۴۲) کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں (ف۴۳) تم فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات جِتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں (ف۴۴) اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے

(ف42)

بُت ۔

(ف43)

یعنی دنیوی امور میں کیونکہ آخرت اور مرنے کے بعد اٹھنے کا تو وہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے ۔

(ف44)

یعنی اس کا وجود ہی نہیں کیونکہ جو چیز موجود ہے وہ ضرور علمِ الہی میں ہے ۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْاؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(۱۹)

اور لوگ ایک ہی امت تھے(ف۴۵)پھر مختلف ہوئے اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے نہ ہوچکی ہوتی (ف۴۶) تو یہیں ان کے اختلافوں کا ان پر فیصلہ ہوگیا ہوتا (ف۴۷)

(ف45)

ایک دینِ اسلام پر جیسا کہ زمانۂ حضرت آدم علیہ السلام میں قابیل کے ہابیل کو قتل کرنے کے وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور انکی ذرّیَّت ایک ہی دین پر تھے اس کے بعد ان میں اختلاف ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ زمانۂ نوح علیہ السلام تک ایک دین پر رہے پھر اختلاف ہوا تو حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے ۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے کشتی سے اترنے کے وقت سب لوگ ایک دینِ اسلام پر تھے ۔ ایک قول یہ ہے کہ عہدِ حضرتِ ابراہیم سے سب لوگ ایک دین پر تھے یہاں تک کہ عمرو بن لحٰی نے دین کو متغیّر کیا ، اس تقدیر پر ” اَلنَّاسُ ” سے مراد خاص عرب ہوں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ لوگ ایک دین پر تھے یعنی کُفر پر پھر اللہ تعالٰی نے انبیاء کو بھیجا تو بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعض عُلَماء نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ لوگ اوّل خِلقت میں فطرۃِ سلیمہ پر تھے پھر ان میں اختلافات ہوئے ۔ حدیث شریف میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں یا مجوسی بناتے ہیں اور حدیث میں فطرۃ سے فطرۃِ اسلام مراد ہے ۔

(ف46)

اور ہر اُمّت کے لئے ایک میعاد معیّن نہ کر دی گئی ہوتی یا جزاءِ اعمال قیامت تک مؤخر نہ فرمائی گئی ہوتی ۔

(ف47)

نُزولِ عذاب سے ۔

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖۚ-فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْاۚ-اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠(۲۰)

اور کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری (ف۴۸) تم فرماؤ غیب تو اللہ کے لیے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں

(ف48)

اہلِ باطل کا طریقہ ہے کہ جب ان کے خلاف برہانِ قوی قائم ہوتی ہے اور وہ جواب سے عاجز ہو جاتے ہیں تو اس برہان کا ذکر اس طرح چھوڑ دیتے ہیں جیسے کہ وہ پیش ہی نہیں ہوئی اور یہ کہا کرتے ہیں کہ دلیل لاؤ تاکہ سننے والے اس مغالطہ میں پڑ جائیں کہ ان کے مقابل اب تک کوئی دلیل ہی نہیں قائم کی گئی ہے ۔ اس طرح کُفّار نے حضور کے معجزات اور بالخصوص قرآنِ کریم جومعجزۂ عظیمہ ہے اس کی طرف سے آنکھیں بند کر کے یہ کہنا شروع کیا کہ کوئی نشانی کیوں نہیں اتری گویا کہ معجزات انہوں نے دیکھے ہی نہیں اور قرآنِ پاک کو وہ نشانی شمار ہی نہیں کرتے ۔ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ آپ فرما دیجئے کہ غیب تو اللہ کے لئے ہے اب راستہ دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھ رہا ہوں ۔ تقریرِ جواب یہ ہے کہ دلالتِ قاہرہ اس پر قائم ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآنِ پاک کا ظاہر ہونا بہت ہی عظیم الشان معجِزہ ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں پیدا ہوئے ، ان کے درمیان حضور بڑھے ، تمام زمانے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان کی آنکھوں کے سامنے گزرے ، وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ نے نہ کسی کتاب کا مطالعہ کیا نہ کسی استاد کی شاگردی کی ، یکبارگی قرآنِ کریم آپ پر ظاہر ہوا اور ایسی بے مثال اعلٰی ترین کتاب کا ایسی شان کے ساتھ نُزول بغیر وحی کے ممکن ہی نہیں ۔ یہ قرآنِ کریم کے معجزۂ قاہرہ ہونے کی برہان ہے اور جب ایسی قوی برہان قائم ہے تو اثباتِ نبوّت کے لئے کسی دوسری نشانی کا طلب کرنا قطعاً غیر ضروری ہے ، ایسی حالت میں اس نشانی کا نازِل کرنا نہ کرنا اللہ تعالٰی کی مشیّت پر ہے چاہے کرے چاہے نہ کرے تو یہ امرِ غیب ہوا اور اس کے لئے انتظار لازم آیا کہ اللہ کیا کرتا ہے لیکن وہ یہ غیر ضروری نشانی جو کُفّار نے طلب کی ہے نازِل فرمائے یا نہ فرمائے نبوّت ثابت ہو چکی اور رسالت کا ثبوت قاہر معجزات سے کمال کو پہنچ چکا ۔