حکایت نمبر291: ہم خود کو کھلاتے تو یہ مچھلی نہ نکلتی

حضرتِ سیِّدُناعمر بَزَّار علیہ رحمۃ اللہ الغفار سے منقول ہے کہ” میں نے منصور ماہی گیر کو یہ کہتے ہوئے سنا :” ایک مرتبہ عید کے دن جب میں مچھلیا ں پکڑنے جارہا تھا توراستے میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی سے ملاقات ہوئی وہ عید کی نماز پڑھ کر آرہے تھے ۔ مجھے دیکھ کرپوچھا: آج عید کے دن بھی تم مچھلیا ں پکڑنے جارہے ہو؟ میں نے کہا : ”حضور! کیا کرو ں ہمارے گھر مُٹھِّی بھر آٹا بھی نہیں اور نہ ہی کوئی اور ایسی چیز ہے جسے پکا کر بھوک مٹائی جاسکے۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”گھبراؤ مت! بے شک ہمارا پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ مدد فرمانے والا ہے ، چلو اپنا جال اٹھاؤ ، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔” میں جال اُٹھا کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ چل دیا۔ دریا پر پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” اے منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور ! وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھو۔”
جب میں نماز پڑھ چکا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:اب بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر جال پھینکو!میں نے بِسْمِ اللہ شریف پڑھ کر جال پھینکا ۔ کچھ ہی دیر بعد محسوس ہوا کہ جال میں کوئی بھاری چیز پھنس گئی ہے، میں سمجھا کہ شاید کو ئی وزنی پتھر ہے۔ جب جال کھینچا تو بہت بھاری تھا میں نے پکار کر کہا:” اے ابو نصر! میری مدد کیجئے، جال میں کوئی بھاری چیز پھنس گئی ہے، مجھے اندیشہ ہے کہ جال ہی نہ ٹوٹ جائے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فوراً میری طر ف آئے ہم نے مل کر جال کھینچنا شرو ع کر دیا۔ جب باہر آیا تو اس میں ایک بہت بڑی مچھلی تھی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : اے منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور! اسے بیچ کر اپنے اہل وعیال کے لئے ضرورت کی اشیاء خریدو۔
حضرتِ منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور فرماتے ہیں :میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا اور مچھلی لے کربازارکی طرف چل دیا۔ راستہ میں ایک خَچّرسوار ملااس نے پوچھا:”یہ مچھلی کتنے میں بیچو گے ؟ میں نے کہا :دس درہم میں۔ اس نے فوراََ دس درہم ادا کئے اور مچھلی لے کر چلا گیا۔میں کھانے کا سامان خریدکرگھر چلا آیا ، کھانا تیار ہوا اور سب گھر والوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا ۔ کھانے سے فارغ ہوکر میں نے گھر والوں سے کہا: دو چپاتیاں اور حلوہ لے کر آؤ تا کہ حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی خدمت میں پیش کروں ، مطلوبہ اشیاء تیار کی گئیں۔ میں انہیں لے کر حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے دروازے پر پہنچا اور دستک دی ، پوچھا: کون ؟ میں نے کہا: منصور: فرمایا: اے منصور !جو چیزیں تم اپنے ساتھ لائے ہو انہیں دروازے کے باہر ہی رکھ دو اور خود اندرآجاؤ ، میں نے کہا :” حضور!میں اور تمام گھر والے کھانا کھا چکے ہیں۔میں آپ کی بارگاہ میں چپاتیاں اور حلوہ لے کر حاضر ہوا ہوں ، یہ قبول فرمالیں ” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”اے منصور علیہ رحمۃ اللہ الغفور ! اگر ہم اپنے آپ کو کھلاتے تویہ مچھلی ہر گز نہ نکلتی، جاؤ! یہ چیزیں تمہیں اور تمہارے بچو ں کو مُبَارَک ہوں، ہمیں ان کی حاجت نہیں۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)