انجام پر نظر پہلے کرو

یوں تو اسلام نے نکاح کے بعد طلاق کا بھی انتظام کیا ہے اور خراب عورت سے چھٹکارے کا دروازہ کھلا رکھا ھے،مگر نقصان ہو جانے کے بعد نجات کی راہ نکالنا عقل سلیم کا فیصلہ نہیں،اس لئے کہ اس میں ایک بلاء سے چھٹکارے میں کتنی نئی بلاوٗں کو دعوت دینا ہوتا ہے،عورت سے دشمنی ہوتی ہے اس کے گھر والوں سے دشمنی ہوتی ہے،اور لڑکی اپنے رشتہ دار کی ہوتی ہے تو یہ لڑائی خاندانی لڑائی بن جاتی ہے،اور کوئے شخص یہ نہیں چاہتا ہے تو زندگی بھر کف افسوس ملتا رہتا ہے ،اور اندر ہی اندر پگھلتا رہتا ہے ، اس لئے شادی سے پہلے انتخاب میں نبی ﷺ کے فرمان پر عمل کرنا چاہیئے،پہلے ہی سوچ بچار کر کام کرو تاکہ اسکی نجات میں زندگی بھر نہ سوچنا پڑ جائے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے سرور دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تنکح المراٗۃ لاربع لمالھا ولحسبھا ولجمالھا ولدینھا فاظفر بذات الدین تربت یداک چار چیزوں کی وجہ سے عورت سے نکاح کیا جاتا ہے اسکے مال کی وجہ سے اسکے حسب کی وجہ سے اسکی خبصورتی کی وجہ سے اور اسکے دین کی وجہ سے تیرے ہاتھ گرد آلود ہوں دیندار سے کامیاب ہو جاوٗ(بخاری مسلم،مشکوٰۃ کتاب النکاح)

مقصد نکاح پر نظر کا مطلب

مالدار ہونے کی وجہ سے شادی کرنے میں نظر مقصد نکاح پر نہیں ہے اپنے مفاد پر ہے،حسب و نسب دیکھ کر نکاح میں بھی مقصد نکاح پر توجہ نہیں بلکہ توجہ ایک ظاہری عزت پر ہے،خوبصورتی کی وجہ سے نکاح کرنے میں بھی مد نظر آنکھوں کا سکون ہے مقصد نکاح میں کامیابی نہیں،مسلمان نکاح کرتا ہے تو اسکا مقصد نکاح سے صرف دنیا نہیں ہوتی بلکہ دیں ہوتا ہے،گناہ سے بچنے کی نیت ہو تو وہ بھی دیں،نگاہوں کی حفاظت مقصود ہو تو وہ بھی دیں،زنا سے پرہیز مطلوب ہو تو وہ بھی دین،اولاد صالح ملحوظ ہو تو وہ بھی دین،دین سے کھسک کر کوئی بات مد نظر نہیں ہوتی ہے،تو پھر اس نکاح میں لڑکا لئے لڑکی کا انتخاب اور لڑکی کے لئے لڑکے کا انتخاب دینداری کے نام پر کیوں نہ ہو ؟ اس لئے ہمارے پیارے آقا ﷺ نے انتخاب کے چار طریقے بیان فرمائے اور پھر اپنا پسندیدہ طریقہ یہ بیان فرمایا کہ مسلمانو ! ہم مسلمان ہیں تو ہمارا انتخاب بھی دین کے نام پر ہونا چاہیئے،دین کے نام کی کامیابی دیندار سے مل سکتی ہے دنیادار سے نہیں،برتن میں جو ہوتا ہے اس سے وہی ٹپکتا ہے