ایک عجیب فرشتہ

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’میں نے شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ پر ایک فرشتہ دیکھاجسے میں نے اس سے قبل نہیں  دیکھا تھااس کے طول وعرض کی مسافت لاکھ سال کے برابر تھی، اس کے ستر ہزار سر تھے اورہرسر میں ستر ہزار منھ اور ہرمنھ میں ستر ہزار زبانیں اورہرسر پر ستر ہزار نورانی چوٹی تھی اورہر چوٹی کے سر پر بال میں لاکھ لاکھ موتی لٹکے ہوئے تھے ہر ایک موتی کے پیٹ کے اندر بہت بڑادریا ہے اور ہر دریا کے اندر بہت بڑی مچھلیاں ہیں اور ہر مچھلی کاطول دو سال کی مسافت کے برابر اورہر مچھلی کے پیٹ میں لکھا ہے’’ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ اوراس فرشتے نے اپنا سر اپنے ایک ہاتھ پر رکھا ہے اوردوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر ہے اور وہ ’’ حَظِیْرَۃُالقُدْس‘‘ یعنی بہشت میں ہے۔ جب وہ اللہ کی تسبیح پڑھتا ہے تو اس کی پیاری آوازسے عرش الٰہی خوشی میں جھوم اٹھتا ہے۔ میں نے جبرئیل علیہ السلام سے اس کے متعلق پوچھا توانھوں نے عرض کیاکہ یہ وہ فرشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا تھا۔ پھر میں نے کہا اس کی لمبائی اورچوڑائی کہاں سے کہاں تک ہے جبرئیل نے عرض کیااللہ تعالیٰ نے بہشت میں ایک چراگاہ بنائی ہے اور یہ اسی میں رہتا ہے اس جگہ کواللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ آپ کے اورآپ کی امت کے ہر اس شخص کے لئے تسبیح پڑھے جو روزہ رکھتے ہیں۔

میں نے اس فرشتے کے آگے دوصندوق دیکھے اوردونوں پرہزار نورانی تالے تھے۔ میں نے پوچھا جبرئیل !یہ کیا ہے؟انہوں نے کہااس فرشتے سے پوچھئے میں نے اس عجیب وغریب فرشتے سے پوچھاکہ یہ صندوقیں کیسی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ اس میں آپ کی روزہ رکھنے والی امت کی برأت (چھٹکارہ)کاذکر ہے۔ آپ کواورآپ کی امت کے روزہ رکھنے والوں کو مبارک ہو۔ ‘‘(تفسیر روح البیان جلد دوم )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو !کتنا بڑااجر ہے روزے دار کے لئے اللہد کی بارگاہ میں دعا ہے کہ پروردگارتاجدار کائنات ا کے صدقہ وطفیل ہم سب کو روزے کے آداب اورروزے کی حفاظت کی کَما حَقَّہٗ توفیق عطا فرما ئے اور مذکورہ حدیث مبارکہ میں جو اجر رکھا گیا ہے اسکا ہمیں حقدار بنائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم