أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَعَقَرُوۡهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوۡا فِىۡ دَارِكُمۡ ثَلٰثَةَ اَ يَّامٍ ‌ؕذٰلِكَ وَعۡدٌ غَيۡرُ مَكۡذُوۡبٍ‏ ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ تب (صالح نے) کہا تم صرف تین دن مزے اٹھا لو (پھر تم پر عذاب آجائے گا) یہ اللہ کی وعید ہے جو (ہرگز) جھوٹی نہیں ہوگی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو انہوں نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، تب (صالح نے) کہا کہ تم صرف تین دن مزے اٹھا لو (پھر تم پر عذاب آجائے گا) یہ اللہ کی وعید ہے جو (ہرگز) جھوٹی نہیں ہوگی۔ (ھود : ٦٥) 

اونٹنی کو قتل کرنے کی وجوہ

انہوں نے اونٹنی کو جو قتل کردیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ اونتنی حضرت صالح (علیہ السلام) کے دعویٰ نبوت پر دلیل تھی، تو انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت اور ان کی دشمنی میں اس اونٹنی کو قتل کردیا اور یا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات سے تنگ آگئے تھے کہ ایک دن وہ لوگ کنویں سے پانی پئیں اور ایک دن وہ اونٹنی کنویں سے پانی پیے اور وہ اونٹنی اس قدر غیر معمولی جسیم تھی کہ وہ اپنی باری کے دن جب پانی پیتی تو سارا کنواں خالی کردیتی تب انہوں نے اس سے جان چھڑانے کے لیے اس کو قتل کردیا اور یا انہوں نے اس کو اس لیے قتل کیا کہ وہ اس کا گوشت اور اس کی چربی کھانا چاہتے تھے، بہرحال انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ 

اونٹنی کو قتل کرنے کی تفصیل

امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ امام محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں : جب اونٹنی پانی پی کر لوٹ رہی تھی تو وہ اس کی گھات میں بیٹھے ہوئے تھے، اس کے راستہ میں ایک چٹان تھی اس کے نیچے قداد نامی ایک شخص چھپ کر بیٹھا ہوا تھا اور اس چٹان کے دوسرے نچلے حصہ میں مصدع نام کا ایک اور شخص چھپ کر بیٹھا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے پاس سے گزری تو مصدع نے اس کی پندلی کے گوشت پر تاک کر تیر مارا اور قداد تلوار کے ساتھ اس پر حملہ آور ہوا اور اس کی کونچوں (ایڑی کے اوپر کے پٹھوں) پر تلوار ماری۔ وہ چیخ مار کر گر پڑی، انہوں نے اس کی ٹانگوں کو باندھ دیا پھر اس کے لبہ (گردن کے نچلے حصہ) پر نیزہ مارا اور اس کو نحر (ذبح) کردیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٩٨٨) ابو الہزیل نے بیان کیا ہے کہ جب اس اونٹنی کی کونچیں کاٹی گئیں تو اس کا بچہ چیختا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا، پھر دوبارہ اس کو نہیں دیکھا گیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٩٨٩) 

قوم ثمود پر عذاب نازل ہونے کی تفصیل

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (صالح نے کہا) تم صرف تین دن مزے اٹھا لو (پھر تم پر عذاب آجائے گا) یہ اللہ کی وعید ہے جو (ہرگز) جھوٹی نہیں ہوگی۔

امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سفر میں جب مقام حجر پر پہنچے تو آپ نے ہم سے فرمایا : میں لوگوں کو معجزات طلب رکنے سے منع کرتا ہوں، یہ صالح (علیہ السلام) کی قوم ہے جس نے اپنے نبی سے معجزہ طلب کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک اونٹنی کو بھیج دیا، وہ اس راستہ سے آتی تھی اور اپنی باری کے دن اس کا سارا پانی پی جاتی تھی اور جس دن وہ پانی پیتی تھی اس دن وہ قوم اس اونٹنی کا دودھ دوہ کر پیتی تھی اور پھر لوٹ جاتی تھی۔ اس قوم نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں، تب اللہ تعلایٰ نے ان کو یہ وعید سنائی کہ وہ صرف تین دن اپنے گھروں میں مزے اڑا لیں (پھر اللہ کا عذاب آجائے گا) یہ اللہ کی وعید ہے جو (ہرگز) جھوٹی نہیں ہوگی (پھر تین دن کے بعد) ایک زبردت چنگھاڑ کی آواز آئی جس نے اس زمین کے مشرق اور مغرب کے لوگوں کو ہلاک کردیا، سوا اس شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا، وہ اللہ کے حرم میں ہونے کی وجہ سے بچ گیا۔ آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ ابو رغال ہے۔ پوچھا : وہ کون ہے ؟ فرمایا : وہ ابو ثقیف ہے۔

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا : اس عذاب کی علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے پیلے پڑجائیں گے اور دوسرے دن تمہارے چہرے سرخ ہوجائیں گے اور تیسرے دن تمہارے چہرے سیاہ ہوجائیں گے پھر ان کے چہروں پر نشان پڑگئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ہولناک چیخ بھیجی جس نے ان کو ہلاک کردیا۔ امام محمد بن اسحفق بیان کرتے ہیں کہ حضرت صالح (علیہ السلام) ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ اونٹنی کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں تو وہ رونے لگے اور فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ کی نشانی کی بےحرمتی کی، اب تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی بشارت ہو۔ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا : اچھا یہ عذاب کب آئے گا اور اس کی کیا علامت ہے ؟ اور انہوں نے دنوں کے اس طرح نام رکھے تھے : وہ اتوار کو اول کہتے تھے، پیر کوا ہون (آسان) کہتے تھے، منگل کو دبار (مصیبت کہتے تھے، بدھ کو جبار (درست) کہتے تھے، جمعرات کو مونس کہتے تھے اور جمعہ کو عروبہ کہتے تھے، ہفتہ کو شبار (عمر) کہتے تھے۔ انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا : جب مونس حضرت (جمعرات) کے دن اٹھو گے تو تمہارے چہرے زرد ہوں گے اور جب تم عروبہ (جمعہ) کے دن اٹھو گے تو تمہارے چہارے سرخ ہوں گے اور جب تم شبار (ہفتہ) کے دن اٹھو گے تو تمہارے چہرے سیاہ ہوں گے، پھر پہلے دن (اتوار) تم پر عذاب آجائے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ٢٠٥١۔ ٢٠٥٠، رقم الحدیث : ١٠٩٩٣، ١٠٩٩٢، ١٠٩٩٠، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب تین دن تک مسلسل حضرت صالح (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی عذاب کی نشانیاں پوری ہوگئیں تو پھر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کی صداقت پر ایمان لے آتے، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ضدی لوگ تھے، وہ اس وقت تک حضرت صالح (علیہ السلام) کی صداقت میں متردد رہے جب تک ان کے سر پر عذاب نہیں آپہنچا اور عذاب آنے کے بعد ایمانا لانا معتبر نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 65