أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا صٰلِحًـا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا وَمِنۡ خِزۡىِ يَوۡمِئِذٍ‌ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡقَوِىُّ الۡعَزِيۡزُ ۞

ترجمہ:

پس جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے اس دن کی رسوائی سے نجات دے دی۔ بیشک آپ کا رب ہی زبردست قوت والا، بہت غلبہ والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے اس دن کی رسوائی سے نجات دے دی، بیشک آپ کا رب ہی زبردست قوت والا اور بہت غلبہ والا تھا۔ (ھود : ٦٦) 

الخزی کا معنی ” خزی “ کا معنی ہے رسوائی، اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کو خزی اس لیے فرمایا ہے کہ اس کی رسوائی بعد میں بھی باقی رہنے والی تھی اور ان معذبین کو بعد میں عبرت کا نشان بنادیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے اس عذاب سے نجات دی اور ان کی قوم میں سے کافروں پر عذاب نازل ہوا اور ان کے لیے وہ عار کا سبب ہوگیا اور ان کی طرف اس عذاب کی ذلت منسوب ہوگئی کیونکہ الخزی اس عیب کو کہتے ہیں جس سے کسی شخص کی رسوائی ظاہر ہوتی ہے اور اس قسم کے عیب کے لگنے سے حیا کی جاتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 66