أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ اِبۡرٰهِيۡمَ الرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ الۡبُشۡرٰى يُجَادِلُــنَا فِىۡ قَوۡمِ لُوۡطٍؕ ۞

ترجمہ:

پھر جب ابراہیم کا خوف دور ہوگیا اور ان کے پاس بشارت پہنچ گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے متعلق بحث کرنے لگے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب ابراہیم کا خوف دور ہوگیا اور ان کے پاس بشارت پہنچ گئی تو وہ ہم سے قوم لوط کے متعلق بحث کرنے لگے۔ (ھود : ٧٤) 

فرشتوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مباحثہ پر ایک اعتراض کا جواب

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ سے بحث سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو تبدیل کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو تبدیل رکنے کی کوشش کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ اللہ کی تقدیر پر راضی نہیں تھے اور اگر یہ بحث فرشتوں کے ساتھ تھی تو اس سے مقصود یہ تھا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک نہ کریں تو اگر حضرت ابراہیم کا گمان یہ تھا کہ فرشتے ازخود قوم لوط کو ہلاک کر رہے ہیں تو یہ فرشتوں کے متعلق بدگمانی تھی اور ان اگر ان کا گمان یہ تھا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم لوط کو عذاب دینے کے لیے جارہے ہیں تو یہ اس مستلزم ہے کہ حضرت ابراہیم یہ چاہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کریں اور یہ اور بھی زیادہ قابل اعتراض ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا منشاء یہ نہیں تھا کہ قوم لوط پر عذاب نازل نہ کیا جائے بلکہ ان کا منشاء یہ تھا کہ اس عذاب کو موخر کردیا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تاخیر کی وجہ سے ان میں سے بعض ایمان لے آئیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رائے یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ تو نہیں فرمایا کہ ان پر فوراً عذاب نازل کردیا جائے اور فرشتوں کی رائے یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ان پر فوراً عذاب نازل کردیا جائے۔ 

فرشتوں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مباحثہ

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کے درمیان نزول عذاب کے متعلق جو بحث ہوئی اس کے بارے میں حسب ذیل روایات ہیں :

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے پوچھا : تم کس کام سے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ حضرت ابراہیم نے کہا۔ اگر پچاس مسلمان ہوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ پھر کم کرتے کرتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اگر دس مسلمان ہوں ؟ انہوں نے کہا : اگر اس بستی میں دس میں مسلمانوں کا صرف ایک گھر ہے اور وہ حضرت لوط اور ان کے گھر والے ہیں، پھر کہا : اے ابراہیم ! اس بات کو چھوڑیں، ان پر ایسا عذاب آنے والا ہے جو ٹلنے والا نہیں ہے اور یہ آپ کے رب کا حکم ہے۔ امام ابن اسحاق نے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے کہا : یہ بتائو اگر سو مومن ہوں تو تم ان کو ہلاک کردو گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ پھر کہا : اگر نوے مومن ہوں تو تم ان کو ہلاک کردو گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! حضرت ابراہیم نے کہا : اگر اسی ہوں ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ کہا : اگر ستر ہوں تو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ کہا : اگر ساٹھ ہوں تو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ کہا : اگر پچاس ہوں تو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ کہا : اگر ان میں صرف ایک مسلمان ہو تو ؟ انہوں نے کہا : نہیں۔ جب انہوں نے حضرت ابراہیم کو یہ نہیں بتایا تھا کہ ان میں صرف ایک مسلمان ہے حضرت ابراہیم نے کہا : اس بستی میں لوط ہیں ؟ فرشتوں نے کہا : ان سے عذاب دور کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قالوا نحن اعلم بمن فیھا لننجینہ واھلہ الا امراتہ کا نت من الغابرین۔ (العنکبوت : ٣) فرشتوں نے کہا : ہم ان لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو ان میں ہیں، ہم لوط کو اور ان کے گھر والوں کو ضرور نجات دیں گے، ماسوا ان کی عورت کے وہ باقی رہ جانے والوں میں سے ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٦٢، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرشتوں سے مباحثہ کے متعلق یہ آیات بھی ہیں : قال فما خطبکم ایھا المرسلون۔ قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین۔ لنرسل علیہم حجارۃ من طین۔ مسومۃ عند ربک للمسرفین۔ فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین وترکنا فیھا ایۃ للدین یحافون العذاب الالیم۔ (الذاریات : ٣٧۔ ٣١) ابراہیم نے کہا : اے بھیجے ہوئے فرشتو ! تمہارا مدعا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسئایں جن پر حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے آپ کے رب کے پاس سے نشان لگے ہوئے ہیں سو ہم نے اس بستی سے تمام ایمان والوں کو نکال لیا تو ہم نے اس بستی میں مسلمانوں کے ایک گھرکے سوا اور کوئی گھر نہ پایا اور جو لوگ دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ہم نے ان کے لیے اس بستی میں ایک نشانی باقی رکھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 74