أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا ‌ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ ۞

ترجمہ:

(سارہ نے) کہا ارے دیکھو ! کیا میں بچہ جنوں کی حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرے یہ شوہر بھی بوڑھے ہیں، بیشک یہ عجیب بات ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سارہ نے) کہا ارے دیکھو ! کیا میں بچہ جنوں گی ! حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرے یہ شوہر بھی بوڑھے ہیں بیشک یہ عجیب بات ہے۔ (ھود : ٧٢) 

یا ویلتی کا معنی اور ترجمہ

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : وی ایسا کلمہ ہے جس کو حسرت، ندامت اور تعجب کے اظہار کے طور پر بولا جاتا ہے اور ویل برائی کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے ویح کسی مصیبت زدہ پر اظہار ترحم کے لیے بولا جاتا ہے اور ویل کسی برائی یا خرابی کے نزول کے لیے بولا جاتا ہے۔ (کتاب العین ج ٣ ص ١٩٩٠، مطبوعہ ایران ١٤١٤ ھ)

علامہ جار اللہ محمود بن عمرز محشری متوفی ٥٨٣ ھ نے لکھا ہے کہ ویل اظہار تعجب کے لیے آتا ہے۔ (الفائق ج ٣ ص ٣٨٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ المبارک بن محمد بن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے : ویل غم، مصیبت، ہلاکت، عذاب اور ندامت کے اظہار کے لیے بولا جاتا ہے اور کبھی اظہار تعجب کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ (العنایہ ج ٥ ص ٢٠٤، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

شیخ سعدی متوفی ٦٩١ ھ نے یاویلتی کا ترجمہ کیا ہے : اے عجبا، شاہ ولی اللہ متوفی ١١٧٦ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے : اے وائے،

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے : ہائے خرابی،

سید مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ نے اس کا ترجمہ کیا ہے : ہائے میری کم بختی،

ہمارے شیخ علامہ سید احمد سعید کاظمی قدس سرہ العزیز نے اس کا ترجمہ کیا ہے : اے افسوس، باقی مترجمین نے بھی اسی طرح کے ترجمے کیے ہیں۔ قرآن مجید کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی رنج اور مصیبت کے اظہار کا موقع نہیں تھا، بلکہ تعجب کے اظہار کا موقع تھا اور ہم نے کتب لغت کے حوالہ جات سے بھی بیان کیا ہے کہ ویل کا لفظ اظہار تعجب کے لیے بھی بولا جاتا ہے، اس لیے ہم نے اردو محاورہ کے مطابق اس کا ترجمہ ارے دیکھو ! کیا ہے، اس موقع پر اے ہے بھی بولتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 72