أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا لَـنَا فِىۡ بَنٰتِكَ مِنۡ حَقٍّ‌ ۚ وَاِنَّكَ لَـتَعۡلَمُ مَا نُرِيۡدُ‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا آپ خوب جانتے ہیں آپ کی (قوم) کی بیٹیوں میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے اور آپ خوب جانتے ہیں کہ ہماری کیا خواہش ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا آپ خوب جانتے ہیں کہ آپ کی (قوم کی) بیٹیوں میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے اور آپ خوب جانتے ہیں کہ ہماری کیا خواہش ہے لوط نے کہا کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط پناہ گاہ میں پناہ لے لیتا۔ (ھود : ٨٠۔ ٧٩) 

حضرت لوط (علیہ السلام) کا مضبوط قبیلہ کی پناہ کو طلب کرنا

ان کا مطلب یہ تھا کہ آپ خوب جانتے ہیں کہ ہمیں بیویوں سے قضاء شہوت کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور ان سے نکاح کرنے کے لیے ہمیں آپ پر ایمان لانا پڑے گا اور وہ ہمیں منظور نہیں ہے اور آپ یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ ہم لڑکوں سے خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت لوط نے کہا : کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کی قوت ہوتی یعنی کاش میں تنہا تم کو اس بےحیائی کے کام سے روکنے پر قادر ہوتا اور کہا یا میں کسی مضبوط پناہ گاہ میں پناہ لے لیتا یعنی کاش میرے پاس ایک لشکر ہوتا جس کی مدد سے میں برائی کو روکتا۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ کاش میری حمایت میں کوئی قبیلہ ہوتا، ابن جریج نے کہا ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بعد جو نبی بھی بھیجا گیا، اس کی پشت پر کوئی قبیلہ ہوتا تھا حتیٰ کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پشت پر بھی بنو ہاشم کا قبیلہ تھا۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ١١٣، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت لوط کی مغفرت فرمائے وہ بیشک رکن شدید کی پناہ کی خواہش کرتے تھے۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : ٣٣٧٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٥١)

امام ترمذی کی روایت میں اس حدیث کے بعد یہ اضافہ بھی ہے : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھی بھیجا، اس کو اس کی قوم کے مضبوط قبیلہ سے بھیجا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١١٦، مسند احمد ج ٢، ص ٣٣٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٥٠٨١، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٩٣٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٧٦، المستدرک ج ٢، ص ٣٤٦)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں : قوم لوط میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جس کا حضرت لوط کے نسب سے تعلق ہو، کیونکہ حضرت لوط شام کے علاقہ سدوم سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کا خاندان عراق میں تھا اور جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شام کی طرف ہجرت کی تو ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بھی شام کی طرف ہجرت کی، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اہل سدوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے کہا کاش میرے ساتھ لشکر یا میرے رشتہ دار اور میرا قبیلہ ہوتا تو میں اپنے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے ان سے مدد حاصل کرتا۔ امام ابن مردویہ نے روایت کیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا : اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے، رکن شدید سے ان کی مراد قبیلہ تھی کیونکہ جس طرح رکن (ستون) سے سہارا لیتے ہیں اسی طرح قبیلہ سے بھی سہارا لیتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا تھا اللہ تعالیٰ حضرت لوطی کی مغفرت فرمائے اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اللہ کی پناہ نہیں لی، علامہ نووی نے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے باطن میں اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کی ہو اور ظاہر میں یہ کہا ہو کہ ان کی مدد کے لیے ان کے پاس کوئی قوت یا ان کی پشت پر کوئی قبیلہ نہیں ہے تاکہ مہمانوں پر ان کا عذر ظاہر ہوجائے۔ (فتح الباری ج ٦، ص ٤١٦۔ ٤١٥، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ) 

اللہ تعالیٰ کی پناہ کی بجائے مضبوط قبیلہ کی پناہ کو طلب کرنے کی توجیہات

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے : حضرت لوط (علیہ السلام) نے جو کہا : ” کاش میں کسی مضبوط رکن کی پناہ لے لیتا “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے اس قول پر تنقید کی اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے رحمت اور مغفرت طلب کی کیونکہ رکن سے ان کی مراد قبیلہ تھی تاکہ وہ قبیلہ قوم سے ان کی حفاظت کرے اور ان کے مہمانوں کو قوم کی بےحیائی بھینٹ چڑھنے سے بچائے اور چونکہ قوم کی زبردستی اور زیادتی کی وجہ سے ان کا دل تنگ تھا اور ان کی بدسلوکی کی وجہ سے ان کا دل آزردہ تھا، اس وجہ سے وہ اس موقع پر اللہ کی پناہ طلب کرنا اور اس سے مدد چاہنا بھول گئے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا پانی مخلوق میں طریقہ اور عادت یہ ہے کہ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، سو انہوں نے اس معاملہ کو بھی اسی پر محمول کیا اور سب سے زیادہ مضبوط، سب سے قوی اور سب سے زیادہ حفاظت کرنے والا رکن تو اللہ تعالیٰ ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ١، ص ٤٦٦، مطبوعہ دارالوفاء بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ محمد بن خلیفہ الوشتانی الابی المالکی المتوفی ٨٢٨ ھ قاضی عیاض کی اس شرح پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قاضی عیاض کی یہ عبارت مسلمانوں کے لیے غیر مانوس ہے، علاوہ ازیں یہ تقریر بھی غلط ہے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت لوط پر تنقید نہیں کی اور نہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس معاملہ میں اللہ تالیٰ کی پناہ طلب کرنا بھولے تھے، انہوں نے جو کچھ کہا وہ مہمانوں کے دلوں کو مطمئن کرنے کے لیے تھا اور ان کے سامنے اپنا عذر ظاہر کرنے کے لیے تھا کیونکہ عرف اور عادت یہی ہے کہ لوگ اپنی طاقت اور اپنے قبیلہ کی بناء پر مدافعت کرتے ہیں اور یہ حقیقت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے عمدہ اخلاق تھے جن کی بناء پر وہ تعریف کے مستحق ہیں اور نبی (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا : ” اللہ لوط پر رحم فرمائے۔ “ یہ درحقیقت ان کی تعریف ہے ان پر تنقید نہیں ہے اور یہ خطاب میں عرب کے عرف کے مطابق ہے وہ کہتے ہیں : ” اللہ بادشاہ کی تائید کرے اور اللہ امیر کی اصلاح کرے۔ “ اور اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : عنا اللہ عنک لم اذنت لھم (التوبہ : ٤٣) اللہ آپ کو معاف کرے آپ نے ان (منافقین) کو کیوں اجازت دی ؟ کیونکہ آپ نے ان پر نرمی کرنے کے لیے اور ان کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے ان کو اجازت دی تھی اور یہ آپ کے مکارم اخلاق میں سے تھا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ آپ کو معاف کرے یعنی آپ نے ان کو اجازت دے کر اپنے آپ کو مشقت اور تکلیف میں کیوں ڈالا اور یہ ایسا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : طہ ما انزلنا علیک القران لتشقی (طہ : ٢۔ ١) ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نہیں نازل کیا کہ آپ مشقت اٹھائیں۔ (اکمال المعلم ج ١، ص ٤٣٧۔ ٤٣٦، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابی کے شاگرد علامہ سنوسی مالکی متوفی ٨٩٥ ھ علامہ ابی کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ علامہ ابی کو جزائے خیر عطا فرمائے، انہوں نے اس حدیث کی شرح کا حق ادا کردیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو یہ فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ حضرت لوط پر رحم فرمائے اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کی تاکید کرنا چاہتے تھے کہ حضرت لوط اللہ تعالیٰ کی پناہ کے طالب تھے، اس لیے آپ نے حدیث کے شروع میں تاکید کا کلمہ فرمایا یعنی بےشک، پس یہ حدیث اس اعتراض کو دور کرنے کے لیے ہے کہ حضرت لوط غیر اللہ کی پناہ کے طالب تھے، جیسا کہ اس حدیث کے شروع میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابراہیم کی تنزیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : ہم حضرت ابراہیم کی بہ نسبت شک کرنے کے زیادہ حقدار ہیں اور اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت ابراہیم نے جو اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا تھا کہ ” اے رب ! تو مجھے دکھا کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرے گا۔ “ یہ سوال اس لیے نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر شک تھا بلکہ کسی اور وجہ سے تھا۔ (مکمل اکمال الاکمال ج ١، ص ٣٧۔ ٤٣٥، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 79