أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ‌ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ‌ؕ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

فرشتوں نے کہا کیا تم اللہ کی قدرت پر تعجب کر رہی ہو، اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں بیشک اللہ حمد وثناء کا مستحق بہت بزرگ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرشتوں نے کہا : کیا تم اللہ کی قدرت پر تعجب کر رہی ہو ! اے اہل بیت تم پر اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، بیشک اللہ حمد وثناء کا مستحق، بہت بزرگ ہے۔ (ھود : ٧٣) 

حضرت سارہ نے جو تعجب کیا اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر تعجب ہے تو یہ کفر ہے اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے جہل ہے تب بھی کفر ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تعجب عرف اور عادت کی بناء پر ہے، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ایمان تھا لیکن چونکہ یہ ولادت عرف اور عادت کے خلاف تھی اس لیے انہوں نے اس پر اظہار تعجب کیا۔ 

اہل بیت کے مصداق کی تحقیق

فرشتوں نے حضررت سارہ سے کہا : اے اہل بیت ! اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی ازواج بھی اہل بیت سے ہیں، پس حضرت عائشہ (رض) وغیرہ بھی اہل بیت سے ہیں اور اس آیت میں داخل ہیں : انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھر کم تطھیرا۔ (الاحزاب : ٣٣) اے رسول کے اہل بیت ! یہی ارادہ فرماتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں اچھی طرح پاک کر کے خوب پاکیزہ کر دے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٦٣، روح المعانی جز ١٢ ص ١٥٩)

شیعہ مفسرین میں سے شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی المتوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں : فرشتوں نے حضرت سارہ کو اہل بیت کہا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کی زوجہ بھی اس کے اہل بیت میں داخل ہے، یہ جبائی کا قول ہے اور دوسروں نے یہ کہا ہے کہ حضرت سارہ کو اہل بیت سے اس لیے شمار کیا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عم زاد تھیں۔ (السیان ج ٦ ص ٣٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

شیخ فتح اللہ کاشانی لکھتے ہیں کہ مجمع میں بیان کیا ہے کہ حضرت سارہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اہل بیت سے شمار کرنا کیا گیا۔ (منہج الصادقین جز ١٢ ص ٤٣٩، مطبوعہ کتاب فروشے علمیہ اسلامیہ، ایران)

اس کے برخلاف محققین شیعہ کی ایک جماعت نے لکھا ہے : بعض مفسرین نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ انسان کی بیوی بھی اس کے اہل بیت میں شامل ہوتی ہے اور یہ عنوان بیٹوں اور ماں باپ کے ساتھ خاص نہیں ہے اور یقینا یہ استدلال صحیح ہے حتیٰ کہ اگر یہ آیت نہ بھی ہوتی تب بھی اہل کا استعمال اس معنی میں صحیح تھا۔ (تفسیر نمونہ ج ٩ ص ١٧٣، مطبوعہ درالکتب الاسلامیہ ایران، ١٣٧٥ ھ)

اور یہی بات صحیح ہے کہ اہل بیت کا لفظ کسی شخص کی بیوی کو بھی شامل ہوتا ہے کتب لغت میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔ امام لغت خلیل بن احمد فراہیدی متوفی ١٧٥ ھ لکھتے ہیں : کسی شخص کا اہل اس کی زوجہ ہے اور جو اس کے ساتھ مخصوص ہوں اور اہل بیت سے مراد ہے اس کے گھر میں رہنے والے۔ (کتاب العین ج ١ ص ١١٥، مطبوعہ مطبع باقری قم ایران، ١٤١٤ ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : اہل بیت کا معنی ہے اس کے گھر میں رہنے والے، کسی شخ کا اہل وہ ہوتا ہے جو اس کے ساتھ مخصوص ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل، آپ کی ازواج، آپ کی صاحب زادیاں اور آپ کے داماد حضرت علی (علیہ السلام) ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کی خواتین اور آپ کے مرد ہی آل ہیں۔ (لسان العرب ج ١١ ص ٢٩، مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ قم، ایران، ١٤٠٥ ھ)

سید محمد مرتضیٰ حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : کسی شخص کا اہل اس کی بیوی ہے اور اس میں اولاد بھی داخل ہے قرآن مجید ہے : وسارباھلہ یعنی وہ اپنی بیوی اور اولاد کو لے کر رات کو روانہ ہوئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اہل آپ کی ازواج، آپ کی صاحب زادیاں اور آپ کے داماد حضرت علی (رض) ہیں یا آپ ازواج ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ کے اہل وہ مرد ہیں جو آپ کی آل ہیں، اس میں آپ کے نواسے اور آپ کی ذریات بھی داخل ہیں، اسی معنی میں یہ آیت ہیں : وامر اھلک بالصلوٰۃ واصطبر علیھا۔ (طہٰ : ١٣٢) ، انما یرید اللہ لیذھب عنکم عنکم الرجس اھل البیت (الاحزاب : ٣٣) رحمۃ اللہ وبرکاتہ علیکم اہل البیت۔ (ھود : ٧٣) (تاج العروس ج ٧ ص ٣١٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 73