أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَخَذَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور ظلم کرنے والوں کو ہولناک چنگھاڑ نے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل (اوندھے) پڑے رہ گئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ظلم کرنے والوں کو ہولناک چنگھاڑنے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل (اوندھے) پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧ )

امام ابن ابی حاتم نے امام محمد بن اسحٰق سے روایت کیا ہے کہ اتوار کی صبح کو دن چڑھنے کے بعد ایک ہولناک چیخ آئی جس سے ہر چھوٹا اور بڑا ہلاک ہوگیا، ماسوا الذریعہ نامی ایک لڑکی کے، وہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے سخت عداوت رکھتی تھی۔ اس نے تمام لوگوں کو عذاب میں گرفتار دیکھا، پھر وہ ایک کنویں پر گئی اور اس سے پانی پیتے ہی مرگئی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٠٩٩٩)

علامہ قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ نے لکھا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ یہ جبرئیل کی چیخ تھی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آسمان سے ایک چنگھاڑ آئی تھی جس میں ہر بجلی کی کڑک تھی، جس کی ہیبت اور ہولناکی سے ان کے دل پھٹ گئے۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ جب ان کو عذاب آنے کا یقین ہوگیا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : اگر وہ عذاب آگیا تو تم کیا کرو گے۔ پھر عذاب سے مقابلہ کے لیے انہوں نے اپنی تلواریں اور اپنے نیزے سنبھال لیے اور اپنے جتھوں کو تیار کرلیا، ان کے بارہ ہزار قبیلے تھے اور ہر قبیلہ میں بارہ ہزار جنگجو تھے، وہ تمام راستوں پر بیٹھ گئے اور وہ اپنے گمان میں عذاب سے لڑنے کے لیے تیار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرشتے کو حکم دیا جو سورج کے ساتھ موکل ہے کہ ان کو گرمی کا عذاب پہنچائیں پھر سورج کی گرمی سے ان کے ہاتھ جل گئے اور پیاس کی شدت سے ان کی زبانیں لٹک کر سینے تک پہنچ گئیں اور جن کے ساتھ جانور تھے وہ مرگئے اور چشموں کا پانی جوش سے ابلنے لگا، پھر اللہ تعالیٰ نے موت کے فرشتے کو حکم دیا کہ غروب آفتاب تک ان کی روحیں قبض کرلی جائیں، پھر ایک گرج دار چنگھاڑ سنائی دی جس سے وہ سب منہ کے بل گر کر ہلاک ہوگئے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٥٦۔ ٥٥، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٥ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے کہ اس چیخ کے متعلق دو قول ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے مراد بجلی کی کڑک ہے،

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ بہت زبردست اور ہولناک چیخ تھی جس کو سن کر وہ سب اپنے گھروں میں منہ کے بل اوندھے گرگئے اور اسی حال میں مرگئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا کہ وہ چیخ ماریں اور ان کی چیخ سے سب اسی وقت مرگئے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ وہ چیخ موت کا سبب کیسے بن گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس چیخ سے ہوا میں تموج پیدا ہوگیا اور جب وہ زبردست تموج ان کے کانوں تک پہنچا تو ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور اس کا اثر ان کے دماغ تک پہنچا اور وہ علی الفور مرگئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بادلوں کے پھٹنے سے وہ چیخ پیدا ہوئی ہو اور اس سے بجلی گری ہو اور اس بجلی سے وہ سب جل کر مرگئے ہوں۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٣٧١۔ ٣٧٠، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت : ١٤١٥ ھ)

اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ چیخ سے ہلاک ہوگئے اور الاعراف : ٨٧ میں فرامایا ہے : وہ زلزلہ سے ہلاک ہوگئے ان دونوں آیتوں میں تطبیق اس طرح ہے کہ اس چیخ سے زلزلہ آیا اور اس سے وہ سب سب ہلاک ہوگئے۔ پھر فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 67