أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَآءَهٗ قَوۡمُهٗ يُهۡرَعُوۡنَ اِلَيۡهِ ؕ وَمِنۡ قَبۡلُ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ السَّيِّاٰتِ ‌ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ هٰٓؤُلَاۤءِ بَنٰتِىۡ هُنَّ اَطۡهَرُ لَـكُمۡ‌ ۚ فَاتَّقُوۡا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ فِىۡ ضَيۡفِىۡ ؕ اَلَيۡسَ مِنۡكُمۡ رَجُلٌ رَّشِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے ہی برے کام کرتے تھے لوط نے کہا اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ نہ کرو کیا تم میں کوئی نیک شخص نہیں ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور وہ پہلے ہی برے کام کرتے تھے لوط نے کہا اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ نہ کرو، کیا تم میں کوئی نیک شخص نہیں ہے ؟ (ھود : ٧٨) 

حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی صلبی بیٹیوں کو نکاح کے لیے پیش کیا تھا یا قوم کی بیٹیوں کو ؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ پہلے ہی برے کام کرتے تھے۔ ابن جریج نے کہا یعنی مرد مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے تھے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٨١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لوط نے کہا : اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں۔ مجاہد نے کہا : وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں نہیں تھیں، وہ ان کی امت کی بیٹیاں تھیں اور ہر نبی اپنی امت کا باپ ہوتا ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٨٣، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٠٦٦)

قتادہ نے کہا : حضرت لوط نے فرمایا : ان عورتوں سے نکاح کرلو، (ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ان سے بدکاری کرو) اور اس سے اللہ تعلایٰ کے نبی کی مراد یہ تھی کہ ان بیٹیوں سے نکاح کے ذریعہ اپنے مہمانوں کی عزت بچائیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٨٦)

امام محمد بن اسحاق نے کہا کہ جب فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کی قوم کو یہ خبر ملی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس حسین و جمیل بےریش لڑکے آئے ہیں، ان کو یہ خبر حضرت لوط کی بیوی نے پہنچائی تھی اس نے ان سے کہا : میں نے اس سے پہلے اتنے حسین اور جمیل لڑکے نہیں دیکھے اور وہ لوگ عورتوں کے بجائے مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے اور ان سے پہلے کسی نے یہ خلاف فطرت کام نہیں کیا تھا تو وہ دوڑتے ہوئے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا : کیا ہم نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ کے پاس کوئی شخص نہ آئے اگر کوئی آیا تو ہم اس سے یہ بےحیائی کا کام کریں گے، تب حضرت لوط نے کہا : اے میری قوم ! یہ میری (قوم کی) بیٹیاں ہیں، یہ تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، میں ان بیٹیوں سے نکاح کرنے کو اپنے مہمانوں کو فدیہ دیتا ہوں اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو یہ دعوت دی تھی کہ وہ حرام کام کو ترک کر کے حلال نکاح کرلیں۔ (جامع البیان رقم الہدیث : ١٤١٩٠، مطبوعہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

سعید بن جبیر نے کہا : یعنی قوم کی عورتوں سے نکاح کرلو جو ان کی بیٹیاں ہیں اور وہ ان کے نبی ہیں، کیونکہ نبی امت کا بمنزلہ باپ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وازواجہ امھتھم (الاحزاب۔ ٦) اور نبی کی ازواج امت کی مائیں ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٨٨، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٠٦٧) 

قوم کی بیٹیوں کے ارادے پر دلائل

قتادہ کی تفسیر کے مطابق حضرت لوط نے اپنی صلبی بیٹیوں کو نکاح کے لیے پیش کیا تھا اور مجاہد اور سعید بن جبیر کی تفسیر کے مطابق حضرت لوط نے اپنی قوم کی بیٹیوں کو نکاح کے لیے پیش کیا تھا ہمارے نزدیک مجاہد اور سعید بن جبیر کی تفسیر راجح ہے اور اس پر حسب ذیل وجوہ سے استدلال کیا گیا ہے :

(١) کوئی شریف انسان اپنی بیٹیوں کو اوباش اور بدمعاش قسم کے لوگوں کے ساتھ نکاح کے لیے پیش نہیں کرتا تو اتنے عظیم نبی کے متعلق یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی بیتیوں کو بےحیا اور بدفطرت لوگوں کے ساتھ نکاح کے لیے پیش کرے گا۔

(۲)حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمایا تھا : یہ میری بیٹیاں جو تمہارے لیے بہت پاکیزہ ہیں اور ظاہر ہے کہ جتنے بدمعاش اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ٹوٹ پڑے تھے ان سب کے ساتھ نکاح کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں ناکافی تھیں۔ اسی لیے لازمی طور پر یہ مراد لینا پڑے گا کہ یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں ان سے نکاح کر کے تم اپنی خواہش پوری کرلو۔

(٣) حضرت لوط (علیہ السلام) کی دو بیٹیاں تھیں۔ زنتا اور زعوراء اور حضرت لوط نے فرمایا تھا کہ یہ میری بنات ہیں اور جمع میں اصل یہ ہے کہ اس کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے اور اگرچہ دو پر بھی مجازاً جمع کا اطلاق ہوسکتا ہے لیکن کسی شرعی مانع کے بغیر مجاز کا ارتکاب درست نہیں ہے اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ لوگ کافر تھے تو قوم کی بعض بیٹیاں مسلمان تھیں تو حضرت لوط نے مسلمان لڑکیوں کو کافروں کے ساتھ نکاح کے لیے کیسے پیش کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی شریعت میں کافر کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز تھا اور ہمارے دین میں بھی ابتدائے اسلام میں یہ نکاح جائز تھا۔ جیسا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی صاحب زادی حضرت زینب (رض) کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے کیا تھا اور وہ کافر تھا۔ (الاصابہ ج ٨، ص ١٥١)

اور آپ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت رقیہ (رض) کا نکاح ابولہب کے بیٹے عتبہ سے کیا تھا جو مشرک تھا، (الاصابہ ج ٨، ص ١٣٨)

اور آپ نے اپنی تیسری صاحبزادی ام کلثوم (رض) کا نکاح بھی ابو لہب کے دوسرے بیٹے سے کیا۔ اس کا نام بھی عتبہ تھا اور یہ بھی مشرک تھا، ابولہب کے کہنے سے اس کے دونوں بیٹوں نے آپ کی صاحبزادیوں کو طلاق دے دی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے حضرت سیدہ رقیہ (رض) کا نکاح حضرت عثمان سے کردیا پھر ان کے وصال کے بعد حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح حضرت (رض) سے کردیا۔ (الاصابہ ج ٨، ص ٤٦٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٥ ھ)

بعد میں مسلمان مردوں کا کافر عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا کافر مردوں سے نکاح منسوخ کردیا گیا اور اس کی دلیل یہ آیت ہے : ولا تنکحوا المشرکت حتی یومن ولا مۃ مومنۃ خیر من مشرکۃ ولوا عجبتکم ولا تنکحوا المشرکین حتی یومنوا ولعبد مومن خیر من مشرک ولوا عجبکم۔ (البقرہ : ٢٢١) اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں اور بیشک مسلمان باندی (آزاد) مشرکہ سے بہتر ہے خواہ وہ تم کو اچھی لگے اور مشرک مردوں کو نکاح کا رشتہ نہ دو حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں اور بیشک مسلمان غلام (آزاد) مشرک سے بہتر ہے خواہ وہ تم کو پسند ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (حضرت لوط نے کہا) اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے شرمندہ نہ کرو کیا تم میں کوئی نیک شخص نہیں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس بےحیائی کے ارتکاب سے باز رہو اور اس کام کے نتیجہ میں جو عذاب آخرت ہوگا، اس کا خوف کرو اور میرے مہمانوں سے اپنی خواہش نفس پوری نہ کرو اس آیت میں ضیف کا لفظ ہے۔ جس کا معنی ہے ایک مہمان لیکن بعض اوقات لفظ واحد سے جمع کا ارادہ بھی کیا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت میں طفل کا لفظ ہے اور اس سے مراد اطفال ہیں : او الطفل الذین لم یظھروا علی عوارت النساء۔ (النور : ٣١) (عورتوں کا اپنی زیبائش کو ظاہر کرنا ان (مذکور مردوں) پر ممنوع نہیں ہے)… یا وہ لڑکے جو عورتوں کی شرم کی باتوں پر مطلع نہیں ہوئے۔ کیا تم میں کوئی نیک شخص نہیں ہے ؟ اس سے مراد یہ ہے کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عفت اور پاکیزگی کی ہدایت دی کہ وہ اس خلاف فطرت فعل سے باز رہے اور رشید بہ معنی مرشد اور فعیل بہ معنی مفعول ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 78