أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَتۡ رُسُلُـنَا لُوۡطًا سِىۡٓءَ بِهِمۡ وَضَاقَ بِهِمۡ ذَرۡعًا وَّقَالَ هٰذَا يَوۡمٌ عَصِيۡبٌ ۞

ترجمہ:

اور جب ہمارے فرشتے (خوبصورت لڑکوں کی شکل میں) لوط کے پاس گئے تو وہ ان کی آمد سے غمگین ہوئے اور ان کا دل تنگ ہوا اور انہوں نے کہا آج کا دن بڑا سخت ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہمارے فرشتے (خوب صورت لڑکوں کی شکل میں) لوط کے پاس گئے تو وہ ان کی آمد سے غمگیں ہوئے اور ان کا دل تنگ ہوا اور انہوں نے کہا آج کا دن بڑا سخت ہے۔ (ھود : ٧٧) 

مشکل الفاظ کے معانی :

ذرعا : ذرع کا معنی ہاتھ کا پھیلائو یعنی کہنی سے لے کر انگلی کے سرے تک کی لمبائی، یہ قدرت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے،

واسع الذرع کا معنی ہے وہ قدرت والا ہے اور دل کے معنی میں بھی استعامل ہوتا ہے۔

ھو خالی الذرع کا معنی ہے اس کا دل غموں سے خالی ہے۔ (المنجد)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : اس آیت میں وضاق بہ ذرعا کا معنی ہے فرشتوں کے آنے سے حضرت لوط کا دل تنگ ہوگیا، اس کی اصل یہ ہے کہ اونٹ چلتے وقت اپنے اگلے پیروں سے اپنے قدموں کی گنجائش کی پیمائش کرے اور جب اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بار لادا جائے تو وہ تنگ ہوتا ہے، ذرع کا معنی گلبہ بھی ہے ذرعہ القئی کا معنی ہے اس کو قے آگئی یعنی وہ کسی ناموافق چیز کو اپنے اندر روکنے سے تنگ ہوگیا اور قے اس پر غالب آگئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور وہ جانتے تھے کہ ان کی قوم امرد پرست اور اغلام باز ہے تو ان کو یہ پریشانی ہوگئی کہ وہ ان خوبصورت لڑکوں کو اپنی بدکردار قوم سے کیسے بچائیں گے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٦٦، مطبوعہ دارالفکر، ١٤١٥ ھ)

عصیب، عصب کا معنی ہے لپیٹنا، موڑنا، باندھنا، اجتماع کرنا، احاطہ کرنا (المنجد) عصبۃ کا معنی ہے جماعت، کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کو بھی عصیب کہتے ہیں، ناگوار شر کے مجموعہ کو بھی عصیب کہتے ہیں اور کسی چیز کی شدت ظاہر کرنے کو بھی عصیب کہتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن ج ٩، ص ٦٧) 

فرشتوں کا حضرت لوط کے پاس پہنچنا

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، جب فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ اپنی زمین میں کام کر رہے تھے اور فرشتوں سے یہ کہا گیا کہ ان کی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہ کرنا جب تک حضرت لوط ان کے خلاف گواہی نہ دیں۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ ہم آج رات آپ کے پاس بطور مہمان رہنا چاہتے ہیں، کچھ دیر بعد حضرت لوط نے ان سے کہا : کیا تم کو معلوم ہے کہ اس بستی والے کیسے کام کرتے ہیں ؟ بخدا میں روئے زمین پر ان سے زیادہ خبیث لوگوں کو نہیں جانتا، پھر ان کو لے کر گھر کی طرف چلے، پھر دوبارہ ان سے یہی کہا اور ان کو لے کر چل پڑے۔ جب حضرت لوط کی بیوی نے ان کو دیکھا تو وہاں کے لوگوں کو جاکر بتادیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤١٦٧، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے اٹھ کر حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستی میں گئے اور ان دونوں بستیوں کے درمیان چار فرسخ (بارہ شرعی میل) کا فاصلہ تھا وہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس انتہائی خوبصورت بےریش لڑکوں کی شکل میں گئے، حضرت لوط (علیہ السلام) یہ نہیں پہچان سکے کہ یہ فرشتے ہیں۔ 

حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کی وجوہ

حضرت لوط (علیہ السلام) کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ انہیں پانی قوم کی خباثت کی وجہ سے ان لڑکوں کی عزت کا خطرہ تھا اور وہ تن تنہا ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات ان کے پاس لڑکوں کی ضیافت کے لیے کوئی سامان نہیں تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی قوم نے ان سے کہا ہوا تھا کہ آپ اپنے ہاں کسی مہمان کو نہ ٹھہرائیں۔ (تفسیر کبیر ج ٦، ص ٣٧٨۔ ٣٧٧، غرائب القرآن ج ٤، ص ٣٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 77