وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَاؕ-قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًاؕ-اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ(۲۱)

اور جب ہم آدمیوں کو رحمت کا مزدہ دیتے ہیں کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی تھی جبھی وہ ہماری آیتوں کے ساتھ دانؤ ں چلتے ہیں (ف۴۹)تم فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے(ف۵۰)بےشک ہمارے فرشتے تمہارے مکر لکھ رہے ہیں(ف۵۱)

(ف49)

اہلِ مکّہ پر اللہ تعالٰی نے قَحط مسلّط کیا جس کی مصیبت میں وہ سات برس گرفتار رہے یہاں تک کہ قریب ہلاکت کے پہنچے پھر اس نے رحم فرمایا ، بارش ہوئی ، زمینیں سرسبز ہوئیں تو اگرچہ اس تکلیف و راحت دونوں میں قدرت کی نشانیاں تھیں اور تکلیف کے بعد راحت بڑی عظیم نعمت تھی اس پر شکر لازم تھا مگر بجائے اس کے وہ پند پذیر نہ ہوئے اور فساد و کُفر کی طرف پلٹے ۔

(ف50)

اور اس کا عذاب دیر نہیں کرتا ۔

(ف51)

اور تمہاری خفیہ تدبیریں کاتبِ اعمال فرشتوں پر بھی مخفی نہیں ہیں تو اللہ علیم و خبیر سے کیسے چھپ سکتی ہیں ۔

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِؕ-حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِۚ-وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْۙ-دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳛ لَىٕنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۲۲)

وہی ہے کہ تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے (ف۵۲) یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہو اور وہ (ف۵۳) اچھی ہوا سے انہیں لے کر چلیں اور اس پر خوش ہوئے (ف۵۴) ان پر آندھی کا جھونکا آیا اور ہر طرف لہروں نے انہیں آلیا اور سمجھ لیے کہ ہم گِھر گئے اس وقت اللہ کو پکارتے ہیں نِرے(خاص) اس کے بندے ہوکر کہ اگر تو اس سے ہمیں بچالے گا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے (ف۵۵)

(ف52)

اور تمہیں قطعِ مسافت کی قدرت دیتا ہے خشکی میں تم پیادہ اور سوار منزلیں طے کرتے ہو اور دریاؤں میں کشتیوں اور جہازوں سے سفر کرتے ہو وہ تمہیں خشکی اور تری دونوں میں اسبابِ سیر عطا فرماتا ہے ۔

(ف53)

یعنی کشتیاں ۔

(ف54)

کہ ہوا موافق ہے اچانک ۔

(ف55)

تیری نعمتوں کے تجھ پر ایمان لا کر اور خاص تیری عبادت کر کے ۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْۙ-مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا٘-ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۳)

پھر اللہ جب انہیں بچالیتا ہے جبھی وہ زمین میں ناحق زیادتی کرنے لگتے ہیں(ف۵۶) اے لوگو تمہاری زیادتی تمہارے ہی جانوں کا وبال ہے دنیا کے جیتے جی برت لو (فائدہ اٹھا لو)پھر تمہیں ہماری طرف پھرنا ہے اس وقت ہم تمہیں جتادیں گے جو تمہارے کوتک(کرتوت) تھے (ف۵۷)

(ف56)

اور وعدہ کے خلاف کرکے کُفر و معصیت میں مبتلا ہوتے ہیں ۔

(ف57)

اور ان کی تمہیں جزا دیں گے ۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤۙ-اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۲۴)

دنیا کی زندگی کی کہاوت تو ایسی ہی ہے جیسے وہ پانی کہ ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین سے اگنے والی چیزیں گھنی (زیادہ )ہوکر نکلیں جو کچھ آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں (ف۵۸)یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا(ف۵۹) اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی (ف۶۰) ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں (ف۶۱) تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں (ف۶۲) ہم یونہی آیتیں مُفَصَّل بیان کرتے ہیں غور کرنے والوں کے لیے (ف۶۳)

(ف58)

غلے اور پھل اور سبزہ ۔

(ف59)

خوب پھولی پھلی سرسبز و شاداب ہوئی ۔

(ف60)

کہ کھتیاں تیار ہوگئیں پھل رسیدہ ہوگئے ایسے وقت ۔

(ف61)

یعنی اچانک ہمارا عذاب آیا خواہ بجلی گرنے کی شکل میں یا اولے برسنے یا آندھی چلنے کی صورت میں ۔

(ف62)

یہ ان لوگوں کے حال کی ایک تمثیل ہے جو دنیا کے شیفتہ ہیں اور آخرت کی انہیں کچھ پرواہ نہیں اس میں بہت دلپذیر طریقہ پر خاطر گزیں کیا گیا ہے کہ دنیوی زندگانی امیدوں کا سبز باغ ہے اس میں عمر کھو کر جب آدمی اس غایت پر پہنچتا ہے جہاں اس کو حصول مراد کا اطمینان ہو اور وہ کامیابی کے نشے میں مست ہو ، اچانک اس کو موت پہنچتی ہے اور وہ تمام نعمتوں اور لذتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا کہ دنیا کا طلب گار جب بالکل بے فکر ہوتا ہے اس وقت اس پر عذابِ الٰہی آتا ہے اور اس کا تمام سر و سامان جس سے اس کی امیدیں وابستہ تھیں غارت ہو جاتا ہے ۔

(ف63)

تاکہ وہ نفع حاصل کریں اور ظلماتِ شکوک و اوہام سے نجات پائیں اور دنیائے ناپائیدار کی بے ثباتی سے باخبر ہوں ۔

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِؕ-وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۵)

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے (ف۶۴) اور جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے (ف۶۵)

(ف64)

دنیا کی بے ثباتی بیان فرمانے کے بعد دارِ باقی کی طرف دعوت دی ۔ قتادہ نے کہا کہ دارالسلام جنّت ہے یہ اللہ کا کمال رحمت و کرم ہے کہ اپنے بندوں کو جنّت کی دعوت دی ۔

(ف65)

سیدھی راہ دینِ اسلام ہے ۔ بخاری کی حدیث میں ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فرشتے حاضر ہوئے آپ خواب میں تھے ، ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ خواب میں ہیں اور بعضوں نے کہا کہ آنکھیں خواب میں ہیں دل بیدار ہے ، بعض کہنے لگے کہ ان کی کوئی مثال بیان کرو تو انہوں نے کہا جس طرح کسی شخص نے ایک مکان بنایا اور اس میں طرح طرح کی نعمتیں مہیا کیں اور ایک بلانے والے کو بھیجا کہ لوگوں کو بلائے جس نے اس بلانے والے کی اطاعت کی ، اس مکان میں داخل ہوا اور ان نعمتوں کو کھایا پیا اور جس نے بلانے والے کی اطاعت نہ کی وہ نہ مکان میں داخل ہو سکا نہ کچھ کھا سکا پھر وہ کہنے لگے کہ اس مثال کی تطبیق کرو کہ سمجھ میں آئے ، تطبیق یہ ہے کہ مکان جنّت ہے ، داعی محمّد ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۶)

بھلائی والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد (ف۶۶)اور ان کے منہ پر نہ چڑھے گی سیاہی اور نہ خواری (ف۶۷) وہی جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

(ف66)

بھلائی والوں سے اللہ کے فرمانبردار بندے مومنین مراد ہیں اور یہ جو فرمایا کہ ان کے لئے بھلائی ہے اس بھلائی سے جنّت مراد ہے اور زیادت اس پر دیدارِ الٰہی ہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جنّتیوں کے جنّت میں داخل ہونے کے بعد اللہ تعالٰی فرمائے گا کیا تم چاہتے ہو کہ تم پر اور زیادہ عنایت کروں ، وہ عرض کریں گے یاربّ کیا تو نے ہمارے چہرے سفید نہیں کئے ، کیا تو نے ہمیں جنّت میں داخل نہیں فرمایا ، کیا تو نے ہمیں دوزخ سے نجات نہیں دی ، حضور نے فرمایا پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا تو دیدارِ الٰہی انہیں ہر نعمت سے زیادہ پیارا ہوگا ۔ صحاح کی بہت حدیثیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ زیادت سے آیت میں دیدارِ الہٰی مراد ہے ۔

(ف67)

کہ یہ بات جہنّم والوں کے لئے ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَاۙ-وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍۚ-كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًاؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۷)

اور جنہوں نے برائیاں کمائیں (ف۶۸) تو برائی کا بدلہ اسی جیسا (ف۶۹) اور ان پر ذلت چڑھے گی انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے چڑھا دئیے ہیں (ف۷۰) وہی دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

(ف68)

یعنی کُفر و معاصی میں مبتلا ہوئے ۔

(ف69)

ایسا نہیں کہ جیسے نیکیوں کا ثواب دس گنا اور سات سو گناہ کیا جاتا ہے ، ایسے ہی بدیوں کا عذاب بھی بڑھا دیا جائے بلکہ جتنی بدی ہوگی اتنا ہی عذاب کیا جائے گا ۔

(ف70)

یہ حال ہوگا ان کی روسیاہی کا خدا کی پناہ ۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْۚ-فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ(۲۸)

اور جس دن ہم ان سب کو اٹھائیں گے (ف۷۱) پھر مشرکوں سے فرمائیں گے اپنی جگہ رہو تم اور تمہارے شریک (ف۷۲) تو ہم انہیں مسلمانوں سے جدا کردیں گے اور ان کے شریک ان سے کہیں گے تم ہمیں کب پوجتے تھے (ف۷۳)

(ف71)

اور تمام خَلق کو موقَفِ حساب میں جمع کریں گے ۔

(ف72)

یعنی وہ بُت جن کو تم پوجتے تھے ۔

(ف73)

روزِ قیامت ایک ساعت ایسی شدّت کی ہوگی کہ بُت اپنے پجاریوں کے پوجا کا انکار کر دیں گے اور اللہ کی قسم کھاکر کہیں گے کہ ہم نہ سنتے تھے ، نہ دیکھتے تھے ، نہ جانتے تھے ، نہ سمجھتے تھے کہ تم ہمیں پوجتے ہو ، اس پر بت پرست کہیں گے کہ اللہ کی قسم ہم تمہیں کو پوجتے تھے تو بُت کہیں گے ۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ(۲۹)

تو اللہ گواہ کافی ہے ہم میں اور تم میں کہ ہمیں تمہارے پوجنے کی خبر بھی نہ تھی

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠(۳۰)

یہاں ہر جان جانچ لے گی جو آ گے بھیجا (ف۷۴) اور اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے جو ان کا سچا مولٰی ہے اور ان کی ساری بناوٹیں (ف۷۵) ان سے گم ہوجائیں گی (ف۷۶)

(ف74)

یعنی اس موقَف میں سب کو معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے پہلے جو عمل کئے تھے وہ کیسے تھے اچھے یا برے ، مضر یا مفید ۔

(ف75)

بُتوں کو خدا کا شریک بتانا اور معبود ٹھہرانا ۔

(ف76)

اور باطل و بے حقیقت ثابت ہوں گی ۔