الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر142

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو التحیات ایسے سکھاتے تھے جیسے ہم کو قرآن کی سورت سکھاتے ۱؎ اﷲ کے نام سے اور اﷲ سے تحیتیں پاک نمازیں اﷲ کے لیے ہیں ۲؎ اے نبی آپ پر سلام ہو۳؎ اور اﷲ کی رحمت اس کی برکتیں ہوں ہم پر اوراﷲ کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اﷲ کے بندے و رسول ہیں ۴؎ اﷲ سے جنت مانگتا ہوں آگ سے رب کی پناہ(نسائی)

شرح

۱؎ یعنی جیسے قرآن کی ایک ایک آیت مختلف الفاظ اور مختلف قرأتوں سے سکھاتے ایسے ہی ہمیں التحیات مختلف الفاظ سے سکھاتے تھے۔(مرقات)ا س سے معلوم ہوا کہ جیسے قرآن شریف کی سات قرأتیں متواتر ہیں اور باقی قرأتیں شاذ ایسے ہی التحیات کی مختلف عبارتیں ہیں جو مختلف صحابہ سے منقول ہیں اور جیسے اب قرآن شریف صرف ایک قرأت سے ہی پڑھنا چاہیے ورنہ فتنہ ہوگا ایسے ہی اب التحیات صرف ایک ہی عبارت سے پڑھنی چاہیئے۔

۲؎ نووی نے کتاب الاذکار میں فرمایا کہ التحیات میں بسم اﷲ کی زیادتی صرف حضرت جابر کی اس روایت سے ہی ثابت ہے اور کسی روایت میں نہیں ہے حضرت جابر کی یہ حدیث صحیح نہیں۔

۳؎ التحیات کی مختلف عبارتیں احادیث میں منقول ہیں لیکن ہر عبارت میں حضور کو خطاب کرکے حضور کو سلام کیا گیا ہے۔ مرقات نے فرمایا نماز میں حضور سے خطاب اور کلام حضور کی خصوصیت ہے اگر کسی اورکو غائبانہ یا حاضرانہ سلام کرے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو بحالت نماز حضور پکاریں تو اس پر واجب ہے کہ اسی حالت میں بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو جو حکم ملے اس کی تعمیل کرے اس کے باوجود نماز ہی میں ہوگا کہ جب انہیں سلام کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو ان سے بات کرنے ان کی خدمت کرنے سے بھی نہیں ٹوٹے گی۔اس کی تحقیق ہماری کتاب “شان حبیب الرحمن”میں دیکھو۔

۴؎ اس میں تجدید ایمان ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا رہے بلکہ سوتے وقت توبہ کرکے تجدید ایمان کرکے سویا کرے۔