انجینئر محمد علی مرزا صاحب نے اپنے ایک بیان میں علامہ اقبال رحمہ اللہ کے اس شعر پر اعتراض کیا:

“بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی”

موصوف کہتے ہیں یہ شعر ٹیکنیکلی غلط ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام خود نہ کودے تھے بلکہ انہیں پھینکا گیا تھا

مزید کہتے ہیں اس میں عقل کی توہین ہے انہوں نے اپنی عقل استعمال کی تھی اور رب ذوالجلال پر جان قربان کرنے کو تیار ہو گئے

جاہلانہ اعتراض کا علمی جواب

سب سے پہلے تو یہ باتیں ایسے شخص کو زیب ہی نہیں دیتیں جس کا دور دور تک شاعری سے کوئ واسطہ نہ ہو

جو حقیقی اور مجازی مطلب میں فرق بھی نہ جانتا ہووو

مثال کے طور پر جو مسلمان اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں ان کے متعلق یہ کہنا کہ:

“یہ لوگ شہید ہیں” ٹیکنیکلی غلط ہو جائے گا کیونکہ انہیں تو دشمنوں نے قتل کیا ہے

نیز ایک دیہاتی شخص کسی مسافر کو کہتا ہے:

“فلاں جگہ نہر بہ رہی ہے”

یہ جملہ بھی ٹیکنیکلی غلط ہے کیونکہ نہر کہاں بہ رہی ہے؟؟؟؟ بلکہ پانی بہ رہا ہے

اے شاعر جہلم!!!! یہ مجازی مطلب ہیں حقیقی نہیں اور اقبال نے جو کہا کہ:

“بےخطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق”

یہاں مراد یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے

ایک یہ کہ نمرود کا کہا مان لیں اور ایک یہ کہ اللہ پر جان وارنے کو تیار ہو جائیں

اور انہوں نے صراط مستقیم کا انتخاب فرمایا

مفسرین نے لکھا ہے کہ انہیں منجنیق کے ذریعے پھینکا گیا

اقبال نے اس بات کا انکار نہیں کیا بلکہ مجازی معنی لیا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اللہ پر جان وارنے کو بےخطر کود پڑے جیسے کوئ فوجی اللہ کی راہ میں شہید ہو تو یہ نہیں کہا جاتا کہ اسے زبردستی میدان میں بھیجا گیا بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں گیااا

مرزا کا دوسرا اعتراض کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے عقل ہی سے آگ کا انتخاب کیا اور اقبال نے عقل کی توہین کی ہے

اس اعتراض کے رد میں تفسیر قرطبی میں موجود ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام فضا میں تھے ان کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے:

“اے ابراہیم علیہ السلام!کسی شے کی حاجت ہے تو بتلائیے”

تو آپ علیہ السلام نے فرمایا

“نہیں جبرائیل تم سے کچھ نہیں چاہئے”

اور ایک روایت میں آتا ہے آپ نے یہ دعا پڑھی:

“حسبُنا اللهِ ونِعْمَ الوكيلُ”

عقل سے اگلی منزل عشق ہے۔۔۔۔عقل کا تقاضا تھا کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس جبرائیل امین علیہ السلام حاضر ہوئے تو آپ ان سے مدد مانگ لیتے لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام مطمئن رہے اور سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی پیشکش قبول نہ کی اور عشق الہی میں سرشار اس کی نصرت پر ہی بھروسہ کیااااا

عقل کا فاصلہ یہاں تمام ہوا اور عشق کی منزل شروع ہوئ

یہ تو ہو گیا تحقیقی جواب اب آتے ہیں الزامی جواب یعنی پھکی شریف کی جانب!!!!!

مرزا صاحب خود کو شاعر ثابت کرتے ہوئے جو اقبال علیہ الرحمہ کی ٹیکنیکی غلطیاں نکال رہے ہیں

موصوف کا اپنا شعر ملاحظہ ہوا:

“نہ میں وہابی نہ میں بابی

میں ہوں مسلم علم و کتابی”

(بقول مرزا صاحب کے یہ شعر انہوں نے اور ان کے کئ مقلدین نے مل کے بنایا ہے)

اس شعر میں جو اردو کا جنازہ نکالا گیا ہے وہ پڑھنے والے کو بخوبی پتہ چل رہا ہے

شعر تو درکنار اسے تو نثر میں بھی شمار نہیں کیا جا سکتا

“بابی” تو اردو کا لفظ ہی نہیں اگر بالفرض شامل کریں تو یہ “بابا” سے بابی نہ بنے گا بلکہ “باب” سے بابی بنے گا یعنی مطلب کچھ یوں بنے گا “دروازے والا”

دوسرے مصرعے میں علم و کتابی کا لفظ استعمال کر کے جو بلنڈر مارا گیا وہ پڑھنے والے پر عیاں ہے یہاں علم و کتابی کی بجائے علمی کتابی ہوتا تو کم از کم شعر کی کچھ نہ کچھ تُک تو بنتی

بجائے اقبال علیہ الرحمۃ پر اعتراز کرنے کے مرزا صاحب مہربانی کرووو تے اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرووو

سنان علی