أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ ئِهٖ فَاتَّبَعُوۡۤا اَمۡرَ فِرۡعَوۡنَ‌ۚ وَمَاۤ اَمۡرُ فِرۡعَوۡنَ بِرَشِيۡدٍ‏ ۞

ترجمہ:

فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب تو انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی کام صحیح نہ تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب تو انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی کام صحیح نہ تھا۔ وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے چلے گا اور ان کو دوزخ میں ٹھہرائے گا اور وہ کیسی بری پیاس بجھانے کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی ان کو کیسا برا انعام دیا گیا۔ (ھود : ٩٩۔ ٩٧) 

فرعون کی گمراہی اور دوزخ میں اس کا اپنی قوم کا مقتدا ہونا

یعنی ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے ہوئے اور واضح معجزات دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا اور فرعون کا کوئی کام صحیح نہ تھا یعنی وہ ہدایت یافتہ نہ تھا۔ امام رازی کی تحقیق یہ ہے کہ فرعون دہریہ تھا وہ اس جہان کے لیے کسی پیدا کرنے والے کا منکر تھا اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا بھی منکر تھا وہ کہتا تھا کہ اس جہان کا کوئی خدا نہیں ہے اور ہر ملک کے باشندوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے بادشاہ کی اطاعت اور اس کی پرستش کریں اور وہ اس بات کا بھی انکار کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس پر ایمان لانے اور اس کی عبادت کرنے میں رشد اور ہدایت ہے اور چونکہ وہ ان چیزوں کا منکر تھا اس لیے وہ رشد اور ہدایت سے بالکل خالی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرعون کا کوئی کام بھی رشید نہ تھا۔ پھر فرمایا کہ قیامت کے دن فعون اپنی اس قوم کا مقتدا ہوگا جو دوزخ کی طرف جارہی ہوگی یعنی جس طرح فرعون دنیا میں گمراہی میں ان کا مقتدا تھا اسی طرح آخرت میں عذاب میں ان کا مقتدا ہوگا یا جس طرح دنیا میں سمندر میں غرق کیے جانے کے وقت وہ ان کا مقتدا تھا اسی طرح آخرت میں دوزخ میں دخول کے وقت وہ ان کا مقتدا ہوگا یعنی دنیاوی عذاب میں بھی وہ ان کا مقتدا تھا اور اخروی عذاب میں بھی وہ ان کا مقتدا ہوگا۔ ورد کا معنی ہے پانی کا قصد کرنا اور مورود کا معنی ہے پانی پینے کی جگہ جس کو اردو میں گھاٹ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے، فرمایا : وہ کیسی بری پیاس بجھانے کی جگہ ہے، کیونکہ پانی کے گھاٹ پر جانے والا چاہتا ہے کہ اس کی پیاس بجھ جائے اور اس کا جگر ٹھنڈا ہوجائے اور دوزخ کی آگ تو اس کا بالکل الٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا۔ ثم تنجی الذین اتقوا ونذر الظالمین فیھا جثیا۔ (مریم : ٧٢۔ ٧١) تم میں سے ہر شخص ضرور دوزخ کے اوپر سے گزرے گا، آپ کے رب کے نزدیک یہ قطعی فیصلہ ہے، پھر ہم متقین کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرا ہو چھوڑ دیں گے۔ تم اور اللہ کے سوا تم جن بتوں کی عبادت کرتے ہو وہ سب دوزخ کا ایندھن ہیں، تم سب اس میں جانے والے ہو۔ اس کے بعد فرمایا : اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور آخرت میں بھی، اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں کی اور نبیوں کی لعنت ان کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور وہ لعنت کسی حال میں ان سے الگ نہیں ہوتی۔ اس کے بعد فرمایا : یہ کیسا برا رفد مرفود (انعام) ہے، رفد کے معنی ہیں عطیہ، یہ اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے مطلوب میں معاون ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس کا معنی ہے پے در پے لعنت۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 97