أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۚوَمَاۤ اَنَا عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ‏ ۞

ترجمہ:

اللہ کا جائز کیا ہوا نفع جو تمہارے پاس بچ رہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ کا جائز کیا ہوا نفع جو تمہارے پاس بچ رہے، وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ (ھود : ٨٦) 

بقیۃ اللہ کا معنی

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے روایت کرتے ہیں : مجاہد نے کہا بقیۃ اللہ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، یعنی تم جو ناپ تول میں کمی کر کے مال جمع کر رہے ہو اس سے یہ بہتر ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس کا ثواب تمہارے پاس ہمیشہ باقی رہے گا۔ قتاوہ نے کہا اس سے مراد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو حصہ مقدر کردیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تمہیں جو مال دیا ہے تم صرف اسی پر قناعت کرو وہی تمہارے لیے بہتر ہے یا تمہارے لیے تمہاری عبادتوں کا جو ثواب مقدر کردیا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے، اس لیے ناپ تول میں کمی کر کے مال جمع کرنے کے بجائے اس مال پر قناعت کرو جو تمہاری تقدیر میں ہے کیونکہ جب لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ فلاں شخص صادق اور امین ہے اور وہ خیانت کرتا ہے نہ ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو لوگ اس پر اعتماد کریں گے اور تمام معاملات میں اس کی طرف رجوع کریں گے تو اس پر رزق کے دروازے کھل جائیں گے اور جب کوئی شخص بددیانتی اور خیانت میں مشہور ہوگا تو لوگ اس سے معاملہ نہیں کریں گے اور اس پر رزق کے دروازے بند ہوجائیں گے اور اگر بقیۃ اللہ کو ثواب پر محمول کیا جائے تو مطلب بالکل واضح ہے کیونکہ یہ ساری دنیا فنا ہوجائے گی اور ختم ہوجائے گی اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ثواب باقی رہے گا اور اگر بقیۃ اللہ سے مراد، اللہ کی رضا لی جائے تو ظاہر ہے کہ اس کی رضا سے بڑھ کر دنیا اور آخرت کی کوئی نعمت نہیں ہے۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ١٣٢، موضحاً ، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

اس آیت کا واضح معنی یہ ہے کہ پوری پوری ناپ تول کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو حلال نفع باقی رکھا ہے وہ اس مال سے بہتر ہے جو تم ناپ تول میں کمی کر کے حاصل کرتے ہو۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں، اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تم کو نیکی کی ہدایت دی ہے اور ایمان داری اور دیانت داری کی تلقین کی ہے اور تم سے اس بری عادت کو چھڑانے اور تم کو دیانت دار بنا دینے کی مجھ میں قدرت نہیں ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ناپ اور تول میں کمی کرنے اور بےایمانی کرنے سے، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں تو اگر تم نے یہ بری عادتیں نہ چھوڑیں تو تمہارے پاس جو اللہ کی نعمتیں ہیں وہ زائل ہوجائیں گی اور اس کی صورت میں، میں تمہاری نعمتوں کی حفاظت پر قادر نہیں ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 86