روزہ داروں کی مہمان نوازی

حدیث پاک میں ہے جب قیامت میں اللہ تعالیٰ اہل قبورکو قبروں سے اٹھنے کا حکم دے گاتواللہ ملائکہ کو فرمائے گا اے رضوان ! میرے روزے داروں کو آگے چل کر ملو کیونکہ وہ میری خاطر بھوکے پیاسے رہے اب تم بہشت کی خواہشات کی تمام اشیاء لیکر ان کے پاس پہونچ جائو۔ اس کے بعد رضوانِ جنت زورسے پکار کر کہے گا: اے جنت کے غلمان ووِلْدَانْ !نور کے بڑے بڑے تھا ل لائواس کے بعد دنیاکی ریت کے ذرات اور بارش کی بوندوں اورآسمان کے ستاروں اور درختوں کے پتوں کے برابر میوہ جات اور کھانے پینے کی لذیذ اشیاء جمع کرکے روزہ داروں کے سامنے رکھ دی جائیں گی اور ان سے کہا جائیگاجتنا مرضی ہوکھائویہ ان روزوں کی جزا ہے جو دنیا میں تم نے رکھے۔ (روح البیان جلد دوم )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!کل بروزقیامت اللہ روزے دارکوکتنی عزت وعظمت عطافرما ئے گا۔ اللہ اکبر! فرشتوں کو استقبال کا حکم دے گا نور کے بڑے بڑے تھالوں میں قسم قسم کی جنت کی نعمتیں روزہ داروں کے سامنے رکھی جائیں گی۔ کتنا عظیم صلہ ہے روزہ رکھنے کا۔ اللہ اپنے پیارے محبوبﷺ کے صدقہ وطفیل ہم سب کو ان خوش نصیبیوں میں شامل فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔