غوث اعظم پر انجینئر محمد علی مرزا کے اعتراض کا تحقیقی جواب

انجینئر مرزا نے اپنے ایک بیان میں میرے آقا حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بہجۃ الاسرار نامی ایک کتاب میں شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کی جانب ایک شرکیہ دعوہ منسوب ہے کہ وہ فرماتے ہیں:

“میرا مرید مشرق میں ہو اور میں مغرب میں ہوں اگر میرے مرید کا ستر کھل جائے تو عبدالقادر اسے چھپانے والا ہے”

مرزا کہتا ہے کہ دنیا میں جو سچا قادری ہے وہ میڈیا والوں کو بلوائے اور یا عبدالقادر کہ کر اپنا تہ بند اتار دے

تاکہ پتہ چلے کہ اس کا تہبند چھپایا جاتا ہے یا نہیں

مزید کہتا ہے مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آپ کو بےعزتی کا سامنا کرنا پڑے گا

مرزا جہلمی نے کذب بیانی کرتے ہوئے جس کتاب “بہجۃ الاسرار” اور اس کے مصنف شمس الملۃ امام شطنوفی قدس سرہ العزیز کی جانب شرک منسوب کیا ذرا ان کا تعارف ملاحظہ فرمائیں:

“امام ابوالحسن شطنوفی علیہ الرحمۃ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے مریدین میں سے ہیں اور انہیں جلالت العلم امام سیوطی،امام حلبی،امام محمد بن الجزری،شیخ محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمہم اللہ جیسے جید محدثین نے ثقہ کہا ہے

اعلحضرت بریلوی نے ان تمام ہستیوں کے اقوال فتاوی رضویہ میں نقل کئے ہیں

نیز خاتم الحفاظ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ان سے روایات بھی لی ہیں”

منکرین حدیث کی یہ فطرت ہے کہ وہ معجزات کو عقل پر لاتے ہیں جیسا کہ چاند کیسے ٹکڑے ہوا؟؟؟یہ کیسے ممکن ہے؟؟

مرزا ہر کرامت پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ فلاں صحابی یا فلاں نبی سے یہ عمل صادر کیوں نہیں ہوا؟؟؟؟

ابن حجر ہیثمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

“لازمی نہیں کہ کوئ معجزہ کسی نبی سے ثابت نہ ہو اور وہ بطور کرامت ولی سے بھی نہ ہو”(فتاوی حدیثیہ)

(کسی نبی کا تخت بلقیس پلک جھپکتے لانا ثابت نہیں البتہ آصف بن برخیا کا لانا ثابت ہے کیا اس سے نبی کی شان میں کمی آگئ؟؟؟قطعی نہیں)

مرزا نے اس قول پر جو اعتراض کیا اس پر الزامی جواب یہ بنتا ہے:

ایک ملحد شخص قرآن پڑھتا ہے اور یہ اعتراض کرتا ہے کہ قرآن میں موجود ہے:

“اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ

دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے”

مسلمانوں میں سے جو سب سے قوی الایمان ہے وہ میڈیا کیمرے بلوائے اور اللہ سے دعا کرے کہ میں اپنی تہبند اتارنے لگا ہوں میری پردہ پوشی فرمائے کہ قرآن میں ہے کہ جب بھی اسے پکارو وہ قبول کرتا ہے

اگر خدا کا وجود ہوا تو اس کے ستر کی حفاظت کی جائے گی

ایسے شخص کا کیا جواب ہوگا؟؟؟یقینا یہی کہ اللہ بےنیاز ہے اس نے دعا کرنے کا کہا ہے لیکن خود کو آزمانے کا نہیں کہا

اللہ ہمیں آزما سکتا ہے ہمیں اسے نہیں آزما سکتے

بالکل اسی طرح حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا دعوہ بھی بطور کرامت ہے عقل پر لانے یا آزمانے کیلئے نہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ کو آزمایا نہ جا سکتا ہو اور امت مسلمہ کا ایک ولی جو اللہ کی عطا سے ولی ہے اسے آزمایا جا سکتا ہو؟؟؟؟؟

اہلسنہ کا اجماع ہے کہ کرامات اولیاء برحق ہیں(غنیۃ الطالبین)

1400 سال گزر گئے جتنی بھی کرامات صادر ہوئیں کوئ انہیں عقل پر نہ لایا

کیا اس صدی کے ایک شخص کو ہی یہ عقل عطا ہونی تھی کہ وہ کرمات کو عقل پر لاتا؟؟؟؟؟

واللہ اعلم بالصواب

اللہ امت مسلمہ کو اس کے شر سے محفوظ رکھے اور ایمان کی حفاظت فرمائے اور سلف صالحین کے دفاع کی توفیق بخشے(آمین بجاہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

سنان علی

17 اپریل 2020ء