أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا جَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهَا حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍۙ مَّنۡضُوۡدٍۙ‏ ۞

ترجمہ:

سو جب ہمارا عذاب آپہنچا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو اس کے نیچے کردیا اور ہم نے ان کے اور پتھر کے کنکر لگاتار برسائے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جب ہمارا عذاب آپہنچا تو ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصہ کو اس کے نیچے کردیا اور ہم نے ان کے اوپر پتھر کے کنکر لگاتار برسائے جو (کنکر) آپ کی رب کی طرف سے نشان زدہ تھے اور یہ سزا ان ظالموں سے کچھ دور نہ تھی۔ (ھود : ٨٣۔ ٨٢) 

قوم لوط کی بستی الٹنے کے متعلق روایات

محمد بن کعب القرظی نے کہا جن بستیوں میں قم لوط رہتی تھی، حضرت جبریل ان کے نیچے اپنا پر رکھ کر ان بستیوں کو آسمان کی طرف لے کر چڑھ گئے حتیٰ کہ آسمان والوں نے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کی آوازیں سنیں، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر لگاتار نشان زدہ پتھر برسائے اور حضرت جبریل نے اس زمین کو الٹ دیا اور نیچے کا حصہ اوپر اوپر کا حصہ نیچے کردیا اور جن بستیوں کو پلٹا گیا تھا وہ پانچ تھیں : صیغہ، صغرہ، عمرہ، دوما اور سدوم اور یہ سب سے بڑی بستی تھی۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ بدکاری کی مجلسیں برپا کرنے والوں، ان کی دعوت دینے والوں اور ان میں جانے والوں سب پر کنکریاں برسائی گئیں اور ان میں سے کوئی نہیں بچ سکا۔ (تفسیر امام ابی حاتم ج ٦، ص ٢٠٦٨۔ ٢٠٦٧، رقم الحدیث : ١٠١٠٠، ١١٠٩٨، ١١٠٩٧) 

سجیل کا معنی مجاہد نے کہا : سجیل فارسی کا لفظ ہے، سنگ و گل یعنی پتھر اور کیچڑ۔ ابن زید نے کہا : سجیل آسمان دنیا کا نام ہے یعنی قوم لوط پر آسمان دنیا سے پتھر برسائے گئے۔

زجاج نے کہا سجیل کا معنی ہے بھیجی ہوئی، نیز رجاج نے کہا : سجل کتاب کو کہتے ہیں اور یہ کنکریاں کیونکہ کتاب کی طرح لکھی ہوئی تھیں، اس لیے ان کو سجیل فرمایا۔ فراء نے کہا اس کا معنی ہے پکی ہوئی مٹی۔ (جامع البیان جز ١٢، ص ١٢٤۔ ١٢٢، ملخصاً ، مطبوعہ بیروت)

علامہ ابو عبداللہ مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکتے ہیں : الخاس نے کہا ہے سجیل کا معنی ہے جو سخت اور زیادہ ہو۔ ابوعبیدہ نے کہا : اس کا معنی ہے سخت، ان کے علاوہ وہ معانی لکھے ہیں جو ہم نے امام ابن جریر سے نقل کیے ہیں : (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٧٣، مطبوعہ دارالفکر، بیروت) 

قوم لوط کو سنگسار کرنے کے متعلق روایات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ سزا ظالموں سے کچھ دور نہ تھی۔ حسن نے کہا : اس کا معنی ہے سنگسار کرنے کی سزا، ظالموں سے یعنی قوم لوط سے کچھ دور نہ تھی۔ مجاہد نے کہا اس سے کفار قریش کو ڈریا ا ہے یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی قوم کے ظالموں سے بھی یہ سزا کچھ بعید نہیں ہے۔ قتادہ اور عکرمہ نے کہا : اس امت کے ظالموں سے یہ سزا کچھ بعید نہیں ہے۔ پتھر برسانے کے متعلق دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ جب حضرت جبریل نے اس بستی کو اوپر اٹھایا تو اس پر پتھر برسائے گئے دوسرا قول یہ ہے کہ یہ پتھر ان لوگوں پر برسائے گئے جو اس وقت بستیوں میں نہ تھے، بلکہ بستیوں سے باہر تھے۔ 

اس امت کو سنگسار کرنے کے متعلق روایات

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے کہ مرد مردوں سے جنسی لذت حاصل کریں گے اور عورتیں عورتوں سے اور جب ایسا ہو تو تم ان پر قوم لوط کے عذاب کا انتظار کرنا کہ اللہ ان پر سجیل کی کنکریاں برسائے گا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی : وماھی من الظلمین بیعید۔ دوسری روایت یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دن اور رات کا سلسلہ چلتا رہے گا حتیٰ کہ اس امت کے مرد، مردوں کی پشت کو حلال کرلیں گے جیسا کہ انہوں نے عورتوں کی پشت کو حلال کرلیا ہے پھر امت کے ان لوگوں پر سنگ باری ہوگی۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٩، ص ٧٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

علمہ قرطبی کی ذکر کردہ یہ حدیثیں کسی کتاب میں نہیں مل سکیں البتہ امام ابن عساکر نے اس حدیث کو روایت کیا ہے : حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قوم لوط دس کاموں کی وجہ سے ہلاک کی گئی اور میری امت ان سے ایک کام زیادہ کرے گی۔ (وہ دس کام یہ ہیں :)

(١) مردوں کا مردوں سے جنسی خواہش پوری کرنا

(٢) غلیل مارنا

(٣) کنکر مارنا

(٤) حمام میں کھیلنا

(٥) دف بجانا

(٦) خمر (شراب) پینا

(٧) داڑھی کاٹنا

(٨) مونچھیں لمبی رکھنا

(٩) سیٹی اور تالی بجانا

(١٠) ریشم پہننا اور میری امت ایک کام اور زیادہ کرے گی، وہ ہے عورتوں کا عورتوں سے جنسی خواہش پوری کرنا۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٢١، ص ٢٤٠، کنز العمال رقم الحدیث : ١٣٠١٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 82