أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ اَصَلٰوتُكَ تَاۡمُرُكَ اَنۡ نَّتۡرُكَ مَا يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوۡ اَنۡ نَّـفۡعَلَ فِىۡۤ اَمۡوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا‌ ؕ اِنَّكَ لَاَنۡتَ الۡحَـلِيۡمُ الرَّشِيۡدُ‏ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا اے شعیب ! کیا آپ کی نماز آپ کو یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے تھے اور ہم اپنے مالوں کو اپنی خواہش کے مطابق صرف کرنا چھوڑ دیں بیشک آپ تو بہت بردبار اور راست باز ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اے شعیب ! کیا آپ کی نماز آپ کو یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے تھے اور ہم اپنے مالوں کو اپنی خو اہش کے مطابق صرف کرنا چھوڑ دیں، بیشک آپ تو بہت بردبار اور راست باز ہیں۔ (ھود : ٨٧) 

حضرت شعیب (علیہ السلام) کے وعظ کی تشریح

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دو چیزوں کا حکم دیا تھا : ایک حکم یہ دیا تھا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں اور دوسرا حکم یہ دیا تھا کہ وہ ناپ اور تول میں کمی نہ کریں۔ پہلے حکم کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ کیا ہم ان کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے تھے اور اس سے ظاہر ہوا کہ ان کا بت پرستی کرنا باپ دادا کی اندھی تقلید پر مبنی تھا اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دوسرے حکم کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ کیا ہم اپنے مالوں کو اپنی خواہش کے مطابق خرچ نہ کریں۔ اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ کیا آپ کی صلوٰۃ ہمیں یہ حکم دیتی ہے ؟ صلوٰۃ سے اس آیت میں کیا مراد ہے، ایک قول یہ ہے کہ صلوٰۃ سے مراد دین اور ایمان ہے کیونکہ دین اور ایمان کا سب سے واضح اظہار نماز کے ذریعہ ہوتا ہے اس لیے صلوٰۃ دین اور ایمان سے کنایہ ہے، دوسرا قول یہ کہ صلوٰۃ سے مراد یہی معروف نما زہے۔ روایت ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) بہت زیادہ نماز پڑھتے تھے اور ان کی قوم کے کفار جب ان کو نماز پڑھتے دیکھتے تو ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرتے اور ہنستے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مذاق اڑاتے۔ انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے کہا آپ بہت بردبار اور راست باز ہیں۔ یہ انہوں نے طنزاً کہا تھا کیونکہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو بیوقوف اور جاہل سمجھتے تھے یہ ایسا ہے جیسے کوئی انتہائی بخیل اور خسیس شخص کو دیکھ کر کہے اگر حاتم بھی تم کو دیکھ لیتا تو تم کو سجدہ کرتا، سو اسی معنی میں انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو حلیم اور رشید کہا۔ اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان لوگوں میں پہلے یہ مشہور تھا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) حلیم اور رشید ہیں اور جب حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو یہ حکم دیا کہ اپنے آبائو اجداد کے طریقہ عبادت کو ترک کردیں تو وہ بہت حیران ہوئے اور انہوں نے کہا آپ تو بہت حلیم اور رشید ہیں، آپ ہمیں کیسے یہ حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے طریقہ کو ترک کردیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 87