أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيۡرًا مِّمَّا تَقُوۡلُ وَاِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِيۡنَا ضَعِيۡفًا‌ ۚ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنٰكَ‌ وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيۡزٍ ۞

ترجمہ:

کافروں نے کہا اے شعیب تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور بلاشبہ ہم سمجھتے ہیں تم ہم میں کمزور ہو اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کرچکے ہوتے اور تم ہم پر کوئی بھاری نہیں ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کافروں نے کہا اے شعیب ! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور بلاشبہ ہم سمجھتے ہیں تم ہم میں کمزور ہو اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کرچکے ہوتے اور تم ہم پر کوئی بھاری نہیں ہو۔ (ھود : ٩١) 

فقہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا : مانفقہ کثیرا اور نفقہ فقہ سے بنا ہے اس لیے ہم یہاں فقہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی ذکر کر رہے ہیں :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : حاضر کے علم سے غائب کے علم تک پہنچنا فقہ ہے اور فقہ علم سے اخص ہے۔

قرآن مجید میں ہے :فمال ھولاء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا۔ (النساء : ٧٨) اس قوم کو کیا ہوا کہ یہ لوگ بات سمجھنے کے قریب بھی نہیں آتے۔

اور اصطلاح میں احکام شرعیہ کا (دلائل کے ساتھ) علم فقہ ہے اور فقہ کا معنی دین کی فہم ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٩٦، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ المبارک بن محمد الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : فقہ کا اصل معنی ہے فہم۔ یہ لفظ شق کرنے اور (فتح) کھولنے سے ماخوذ ہے (یعنی کسی چیز کو شق کر کے اس کی گہرائی تک پہنچنا، یا کسی گرہ کو کھولنا) عرف میں فقہ علم شریعت کو کہتے ہیں اور یہ احکام شرعیہ فرعیہ کے ساتھ خاص ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس (رض) کے لیے دعا فرمائی : اللھم فقھہ فی الدین وعلمہ التاویل اے اللہ ! اس کو دین کی سمجھ عطا فرما اور اس کو تاویل کا علم عطا فرما۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : صحیح مسلم، فضائل الصحابہ : ١٣٨، مسند احمد ج ١ ص ٢٦٦) (النہایہ ج ٣ ص ٤١٧، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : اصطلاہ میں فقہ کا معنی ہے احکام شرعیہ فرعیہ کا وہ علم جو تفصیلی دلائل سے حاصل کیا گیا ہو۔ حسن بصری نے کہا : فقیہ وہ شخص ہے جو دنیا میں رغبت نہ کرے اور آخرت میں رغبت کرے، دین پر بصیرت رکھتا ہو اور دائماً اپنے رب کی عبادت کرتا ہو۔ (امام اعظم سے منقول ہے کہ نفس کا اپنے نفع اور ضرر کی چیزوں کو پہچان لینا فقہ ہے) (عمدۃ القاری جز ٢ ص ٥١، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر، ١٣٤٨ ھ) 

کفار حضرت شعیب (علیہ السلام) کی باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے تھے اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ان کی زبان میں گفتگو کی تھی پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے کہا : تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں، اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ذکر کیے گئے ہیں :

(١) چونکہ وہ لوگ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے بہت سخت متنفر تھے، اس لیے وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی باتوں کو غور سے نہیں سنتے تھے اسی وجہ سے وہ ان باتوں کو نہیں سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے کافروں کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا ہے : ومنھم من یستمع الیک وجعلنا علی قلوبھم اکنہ ان یفقھوہ۔ (الانعام : ٢٥) اور ان میں سے بعض آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ (آپ کے کلام کو) نہ سمجھیں۔

(٢) وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی باتوں کو سمجھتے تھے لیکن وہ ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے اور توہین اور تحقیر کی نیت سے کہتے تھے ہم آپ کی باتوں کو نہیں سمجھتے۔

(٣) ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ نے توحید، رسالت، بعثت، ناپ تول میں کمی کرنے اور دیگر گناہوں کو ترک کرنے کے متعلق جو دلائل ذکر کیے ہیں، وہ ان کے نزدیک ناکافی ہیں اور وہ ان سے مطمئن نہیں ہیں۔ سعید بن جبیر اور شریک نے کہا کہ ان کی قوم نے ان کو ضعیف اس لیے کہا کہ وہ نابینا تھے۔ سفیان نے کہا : ان کی نظر کمزور تھی اور ان کو خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے، اس کی تفسیر میں بعض مفسرین نے کہا : یعنی تم کو قتل کردیتے یا تم کو گالیاں دیتے۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ١٣٨، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دلائل کے جواب میں ان کی قوم کے کافروں نے جو کچھ کہا وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دلائل کا جواب نہ تھا یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص فریق مخالف کے دلائل کے جواب سے عاجز آکر اس کو گالیاں دینا شروع کر دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 91