أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا۔ (ھود : ٩٦) 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصص بیان فرمائے ہیں ان میں سے یہ ساتواں اور آخری قصہ ہے۔ اس آیت میں آیات کا لفظ ذکر فرمایا ہے، اس سے مراد تورات کی آیتیں ہیں جو شرائع اور احکام پر مشتمل ہیں اور سلطان مبین کا لفظ ذکر فرمایا ہے، اس سے مراد کھلے ہوئے اور روشن معجزات ہیں مثلاً عصا اور ید بیضاء، کیونکہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بہت مشہور معجزے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو نوکھلے ہوئے معجزے عطا فرمائے تھے : (١) عصا (٢) یدبیضاء (٣) طوفان (٤) ٹڈیاں (٥) جوئیں (٦) مینڈک (٧) خون (٨) پیداوار میں کمی (٩) جانوں میں کمی، بعض مفسرین نے پیداوار اور جانوں میں کمی کی جگہ پہاڑ کو سائبان کی طرح اوپر اٹھا لینا اور سمندر کو چیرنا شمار کیا ہے، ان معجزات کو سلطان مبین اس لیے فرمایا کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے صدق پر روشن دلیل تھے۔

سلطان کا معنی اور علماء کی سلطنت کا بادشاہوں کی سلطنت سے زیادہ قوی ہونا

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : یہ لفظ تسلط سے بنا ہے، تسلط کا معنی ہے کسی چیز پر غالب آنا، قادر ہونا، قابض ہونا، اس لیے حجت اور قوی دلیل کو سلطان کہتے ہیں کیونکہ قوی اور مضبوط دلیل کا لوگوں پر غالب اثر ہوتا ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٣١٤، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اس میں اختلاف ہے کہ حجت کو سلطان کیوں کہا جاتا ہے، بعض محققین نے کہا : جس شخص کے پاس حجت ہوتی ہے وہ اس شخص پر غالب آجاتا ہے جس کے پاس حجت نہیں ہوتی، جیسا کہ سلطان (بادشاہ) اپنے عوام پر غالب اور قاہر ہوتا ہے، اس وجہ سے حجت کو سلطان کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا : سلطان کا معنی حجت ہے اور سلطان (بادشاہ) کو سلطان اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین پر اللہ کی حجت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ سلطان کا معنی تسلط ہے، علماء اپنی قوت علمیہ کے اعتبار سے سلاطین ہیں اور بادشاہ اپنی قوت حاکمہ اور قدرت نافذہ کے اعتبار سے سلاطین ہیں، البتہ علماء کی سلطنت اور ان کا تسلط بادشاہوں اور حکام کی سلطنت اور ان کے تسلط سے زیادہ قوی اور زیادہ کامل ہے کیونکہ بادشاہ ملک بدر اور معزول ہوتے ہیں۔ ہمارے زمانہ میں اس کی مثال افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ اور ایران کا بادشاہ رضا شاہ پہلوی ہے، یہ بادشاہت پر قائم رہنے کے کچھ عرصہ بعد معزول کردیئے گئے پھر ان کی سلطنت ختم ہوگئی اور جمہوری ملکوں میں اس کی مثال بےنظیر بھٹو اور نواز شریف ہیں۔ تین، تین سال حکومت کرنے کے بعد ان کو معزول کرد یا گیا پھر ان کا تسلط اور اقتدار ختم ہوگیا، اس کے برخلاف علماء کا تسلط اور اقتدار تاحیات برقرار رہتا ہے اور عوام ان کے احکام پر عمل کرتے رہتے ہیں، بلکہ میں کہتا ہوں کہ علماء کی سلطنت مرنے کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔  امام ابوحنیفہ متوفی ١٥٠ ھ، امام ابو یوسف متوفی ١٨٢ ھ، امام محمد متوفی ١٨٩ ھ، علامہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ، علامہ کا سانی متوفی ٥٨٧ ھ، علامہ مرغینانی متوفی ٥٩٣ ھ، علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ، علامہ ابن نجیم متوفی ٩٧٠ ھ، علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ، اعلیٰ حضرت بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ اور مولانا امجد علی متوفی ١٣٧٦ ھ کے فتاویٰ اور ان کے احکام پر مسلمان صدیوں سے عمل کر رہے ہیں اور ہر دور میں جب بھی بادشاہوں کے احکام شریعت کے خلاف ہوئے تو مسلمانوں نے بادشاہوں کے احکام کے خلاف علامء کے احکام پر عمل کیا۔ جہانگیر نے حکم دیا تھا کہ اس کو سجدہ تعظیم کیا جائے، حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے حکم دیا کہ یہ سجدہ نہ کیا جائے اور مسلمانوں نے حضرت مجدد کے حکم پر عمل کیا۔ آج جہانگیر کے لیے کلمہ خیر کہنے والا کوئی نہیں ہے اور حضرت مجد د کے جاں نثا رلاکھوں کی تعداد میں تمام روئے زمین میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہمارے دور میں اس کی واضح مثال یہ ہے کہ حکومت نے عائلی قوانین کو نافذ کیا ہوا ہے جس کی اکثر دفعات کو علماء نے مسترد کردیا ہے مثلاً تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینا، یتیم پوتے کو ارث بنانا اور ان احکام میں مسلمان حکومت کے قوانین پر عمل نہیں کرتے بلکہ علماء کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ ١٩٦٧ ء میں اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ ماشل جنرل محمد ایوب خان کے عہد حکومت میں ٢٩ روزوں کے بعد عید کا اعلان کردیا گیا، علماء کے نزدیک یہ اعلان صحیح نہیں تھا کیونکہ پورے ملک میں کسی جگہ بھی چاند نہیں دیکھا گیا تھا اور مطلع صاف تھا اس لیے علماء نے اگلنے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا اور عید منانے سے منع کردیا اور مسلمانوں کی اکثریت نے علماء کے حکم پر عمل کیا اس سے معلوم ہوا کہ علماء ہی حقیقی سلطان ہیں اور حیات اور بعد از حیات ان ہی کی حکومت ہے اور ان ہی کا تسلط ہے اور علماء سے ہماری مراد وہ علماء ہیں جن کو شہر میں صاحب فتویٰ ہونے کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہو اور جتنا بڑا عالم ہوگا اس کی سلطنت کا دائرہ اتنا وسیع ہوگا مساجد کے عام ائمہ اور خطباء کو بھی بہرحال جزوی سلطنت حاصل ہوتی ہے اور مسلمان اپنے روزمرہ کے دینی اور دنیاوی معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، البتہ کسی پیچیدہ اور مشکل مسئلہ میں کسی بڑے عالم اور مفتی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ 

آیت، سلطان اور سلطان مبین کا باہمی فرق

اس آیت میں آیات اور سلطان مبین کے الفاظ ہیں، ان میں باہمی فرق یہ ہے کہ آیات ان علامات کو کہتے ہیں جو غلبہ ظن اور یقین کی افادیت میں مشترک ہیں، مثلاً اولیاء اللہ سے کرامات کا صدور ہوتا ہے، وہ بھی آیات ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) سے معجزات کا صدور ہوتا ہے وہ بھی آیات ہیں جب کو اول الذکر کی اللہ کے ولی ہونے پر دلالت غلبہ ظن کی مفید ہے اور ثانی الذکر کی اللہ کے نبی ہونے پر دلالت قطعی اور یقینی ہے اور سلطان اس دلیل کو کہتے ہیں جو قطعی اور یقینی ہو لیکن سلطان ان دلائل میں مشترک ہے جو حواس سے مؤکد ہوں اور ان دلائل میں جو محض عقل سے موکد ہوں، مثلاً ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ شق المقر حواس سے موکد تھا اور آپ کا معجزہ قرآن محض عقل سے موکد ہے اور جو معجز صرف حوا س سے موکد ہو اس کو سلطان مبین کہتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جو معجزات تھے وہ صرف حواس سے موکد تھے اس لیے ان کے معجزات کے متعلق فرمایا کہ وہ سلطان مبین ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 96