أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا شُعَيۡبًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَاَخَذَتِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوا الصَّيۡحَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دِيَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے شعیب کو اپنی رحمت سے بچالیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اور ظالموں کو ایک زبردست چنگھاڑنے پکڑ لیا تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے شعیب کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اور ظالموں کو ایک زبردست چنگھاڑنے پکڑ لیا تو وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ گویا وہ ان گھروں میں کبھی آباد ہی نہ ہوئے تھے، سنو دھتکار ہو اہل مدین کے لیے جیسے پھٹکار تھی ثمود کے لیے۔ (ھود : ٩٥۔ ٩٤) 

حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب کی تفصیل

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صرف دو قوموں پر ایک قسم کا عذاب نازل کیا ہے، قوم صالح پر اور قوم شعیب پر، ان دونوں کو ایک زبردست چنگھاڑنے ہلاک کردیا، رہی قوم صالح تو اس پر نیچے سے ایک چنگھاڑ کی آواز آئی اور رہی قوم شعیب تو اس پر اس کے اوپر سے ایک چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے عذاب سے نجات دی، اس سے معلوم ہوا کہ بندہ کو جو نعمت بھی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے پہنچتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مومنوں تک یہ رحمت ان کے ایمان اور ان کے نیک اعمال کے سبب سے پہنچی ہو لیکن ایمان اور نیک اعمال کی توفیق بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ملتی ہے۔ جب جبرئیل (علیہ السلام) نے وہ گرج دار چیخ ماری تو ان میں سے ہر ایک کی روح اسی وقت نکل گئی اور ان میں سے ہر شخص اسی وقت اور اسی حال میں مرگیا اور یوں لگتا تھا جیسے ان مکانوں میں کبھی کوئی شخص رہا ہی نہ تھا۔ پھر فرمایا : ان پر دھتکار ہو جیسے قوم ثمود پر پھٹکار تھی یعنی جس طرح وہ رحمت سے مطلقاً دور کردیئے گئے تھے اسی طرح ان کو بھی رحمت سے مطلقاً دور کردیا گیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 94