قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَؕ-فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُۚ-فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۳۱)

تم فرماؤ تمہیں کون روزی دیتا ہے آسمان اور زمین سے (ف۷۷) یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا (ف۷۸) اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندے سے (ف۷۹) اور کون تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو اب کہیں گے کہ اللہ (ف۸۰) تو تم فرماؤ تو کیوں نہیں ڈرتے (ف۸۱)

(ف77)

آسمان سے مِینہ برسا کر اور زمین سے سبزہ اگا کر ۔

(ف78)

اور یہ حواس تمہیں کس نے دیئے ہیں ، کس نے یہ عجائب تمہیں عنایت کئے ہیں ، کون انہیں مدّتوں محفوظ رکھتا ہے ۔

(ف79)

انسان کو نطفہ سے اور نطفہ کو انسان سے ، پرند کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے ، مؤمن کو کافِر سے اور کافِر کو مومن سے ، عالِم کو جاہل سے اور جاہل کو عالِم سے ۔

(ف80)

اور اس کی قدرتِ کاملہ کا اعتراف کریں گے اور اس کے سوا کچھ چارہ نہ ہوگا ۔

(ف81)

اس کے عذاب سے اور کیوں بُتوں کو پوجتے اور ان کو معبود بناتے ہو باوجود یکہ وہ کچھ قدرت نہیں رکھتے ۔

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّۚ-فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ-فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ(۳۲)

تو یہ اللہ ہے تمہارا سچا رب (ف۸۲) پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی (ف۸۳) پھر کہاں پھرے جاتے ہو

(ف82)

جس کی ایسی قدرتِ کاملہ ہے ۔

(ف83)

یعنی جب ایسے براہینِ واضحہ اور دلائلِ قطعیہ سے ثابت ہوگیا کہ مستحقِ عبادت صرف اللہ ہے تو ماسوا اس کے سب باطل و ضلال ہے اور جب تم نے اس کی قدرت کو پہچان لیا اور اس کی کارسازی کا اعتراف کر لیا تو ۔

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۳۳)

یونہی ثابت ہوچکی ہے تیرے رب کی بات فاسقوں پر (ف۸۴) تو وہ ایمان نہیں لائیں گے

(ف84)

جو کُفر میں راسخ ہوگئے اور ربّ کی بات سے مراد یا قضائے الٰہی ہے یا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” لَامْلَئَنَّ جَھَنَّمَ الآیہ”

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗؕ-قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ(۳۴)

تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں (ف۸۵) کوئی ایسا ہے کہ اوّل بنائے پھر فَنا کے بعد دوبارہ بنائے(ف۸۶) تم فرماؤ اللہ اوّل بناتا ہے پھر فَنا کے بعد دوبارہ بنائے گا تو کہاں اوندھے جاتے ہو (ف۸۷)

(ف85)

جنہیں اے مشرکین تم معبود ٹھہراتے ہو ۔

(ف86)

اس کا جواب ظاہر ہے کہ کوئی ایسا نہیں کیونکہ مشرکین بھی یہ جانتے ہیں کہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے ۔ لہٰذا اے مصطفے صلی اللہ علیک وسلم ۔

(ف87)

اور ایسی روشن دلیلیں قائم ہونے کے بعد راہِ راست سے منحرِف ہوتے ہو ۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّؕ-قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّؕ-اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰىۚ-فَمَا لَكُمْ- كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ(۳۵)

تم فرماؤ تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ حق کی راہ دکھائے (ف۸۸) تم فرماؤ کہ اللہ حق کی راہ دکھاتا ہے تو کیا جو حق کی راہ دکھائے اس کے حکم پر چلنا چاہیے یا اس کے جو خود ہی راہ نہ پائے جب تک راہ نہ دکھایا جائے (ف۸۹) تو تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو

(ف88)

حُجّتیں اور دلائل قائم کر کے ، رسول بھیج کر ، کتابیں نازِل فرما کر ، مکلَّفین کو عقل و نظر عطا فرما کر ۔ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ کوئی نہیں تو اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ۔

(ف89)

جیسے کہ تمہارے بُت ہیں کہ کسی جگہ جا نہیں سکتے جب تک کہ کوئی اٹھا لے جانے والا انہیں اٹھا کر لے نہ جائے اور نہ کسی چیز کی حقیقت کو سمجھیں اور راہِ حق کو پہچانیں بغیر اس کے کہ اللہ تعالٰی انہیں زندگی، عقل اور ادراک دے تو جب ان کی مجبوری کا یہ عالم ہے تو وہ دوسروں کو کیا راہ بتا سکیں ، ایسوں کو معبود بنانا ، ان کا مطیع بننا کتنا باطل اور بے ہودہ ہے ۔

وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ-اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ(۳۶)

اور ان (ف۹۰) میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر (ف۹۱) بےشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بےشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے

(ف90)

مشرکین ۔

(ف91)

جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، نہ اس کی صحت کا جزم و یقین ۔ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ پہلے لوگ بھی بُت پرستی کرتے تھے انہوں نے کچھ تو سمجھا ہوگا ۔

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫(۳۷)

اور اس قرآن کی یہ شان نہیں کہ کوئی اپنی طرف سے بنالے بے اللہ کے اتارے (ف۹۲) ہاں وہ اگلی کتابوں کی تصدیق ہے(ف۹۳)اور لوح میں جو کچھ لکھا ہے سب کی تفصیل ہے اس میں کچھ شک نہیں پروردگارِ عالم کی طرف سے ہے

(ف92)

کُفّارِ مکّہ نے یہ وہم کیا تھا کہ قرآنِ کریم سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بنا لیا ہے ۔ اس آیت میں ان کا یہ وہم دفع فرمایا گیا کہ قرآنِ کریم ایسی کتاب ہی نہیں جس کی نسبت تردُّد ہو سکے ، اس کی مثال بنانے سے ساری مخلوق عاجز ہے تو یقیناً وہ اللہ کی نازِل فرمائی ہوئی کتاب ہے ۔

(ف93)

توریت و انجیل وغیرہ کی ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۸)

کیا یہ کہتے ہیں (ف۹۴) کہ انہوں نے اسے بنالیا ہے تم فرماؤ (ف۹۵) تو اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جو مل سکیں سب کو بُلا لاؤ (ف۹۶) اگر تم سچے ہو

(ف94)

کُفّار سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت ۔

(ف95)

کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے تو تم بھی عرب ہو ، فصاحت و بلاغت کے دعوٰی دار ہو ، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے کلام کے مقابل کلام بنانے کو تم ناممکن سمجھتے ہو اگر تمہارے گمان میں یہ انسانی کلام ہے ۔

(ف96)

اور ان سے مددیں لو اور سب مل کر قرآن جیسی ایک سورۃ تو بناؤ ۔

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗؕ-كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ(۳۹)

بلکہ اسے جھٹلایا جس کے علم پر قابو نہ پایا (ف۹۷) اور ابھی انہوں نے اس کا انجام نہیں دیکھا ہے(ف۹۸) ایسے ہی ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا (ف۹۹) تو دیکھو ظالموں کا انجام کیسا ہوا (ف۱۰۰)

(ف97)

یعنی قرآنِ پاک کو سمجھنے اور جاننے کے بغیر انہوں نے اس کی تکذیب کی اور یہ کمال جَہل ہے کہ کسی شئے کو جانے بغیر اس کا انکار کیا جائے ، قرآن کریم کا ایسے علوم پر مشتمل ہونا جن کا مدعیان علم و خِرَد احاطہ نہ کر سکیں اس کتاب کی عظمت و جلالت ظاہر کرتا ہے تو ایسی اعلٰی علوم والی کتاب کو ماننا چاہیئے تھا نہ کہ اس کا انکار کرنا ۔

(ف98)

یعنی اس عذاب کو جس کی قرآن پاک میں وعیدیں ہیں ۔

(ف99)

عناد سے اپنے رسولوں کو بغیر اس کے کہ ان کے معجزات اور آیات دیکھ کر نظر و تدبُّر سے کام لیتے ۔

(ف100)

اور پہلی اُمّتیں اپنے انبیاء کو جھٹلا کر کیسے کیسے عذابوں میں مبتلا ہوئیں تو اے سیدِ انبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی تکذیب کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖؕ-وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠(۴۰)

اور ان(ف۱۰۱)میں کوئی اس(ف۱۰۲)پر ایمان لاتا ہے اور ان میں کوئی اس پر ایمان نہیں لاتاہے اور تمہارا رب مفسدوں(فساد کرنے والوں) کو خوب جانتا ہے (ف۱۰۳)

(ف101)

اہلِ مکّہ ۔

(ف102)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا قرآن کریم ۔

(ف103)

جو عناد سے ایمان نہیں لاتے اور کُفر پر مُصِر رہتے ہیں ۔