انجینئر محمد علی مرزا کا سیدتنا رابعہ بصری رحمۃ اللہ علیھا پر اعتراض

انجینئر محمد علی مرزا صاحب اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں

“مولا علی کی جانب ایک جھوٹ منسوب ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں اللہ کی عبادت جنت و جہنم کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس لئے کرتا ہوں کہ وہ عبادت کے لائق ہے

لیکن ہاں رابعہ بصری اپنے ایک ہاتھ میں پانی اور ایک ہاتھ میں آگ لے کر کہتی تھیں کہ میں اس پانی سے جہنم کی آگ بھجا دونگی اور آگ سے جنت ختم کردونگی تا کہ سب لوگ اللہ کی عبادت اس ہی کی وجہ سے کریں

ہماری عوام سبحان اللہ کہتی ہے جبکہ میں کہتا ہوں لعنت اللہ علیہ

مرزا صاحب نے آیات کا سہارا لے کر رابعہ بصری کا رد کیا(اور بیشک یہ جملہ خلاف شریعہ ہے)

اور ایک حدیث پڑھی جس میں صحابی ربیع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنت میں ان کا پڑوس مانگا تھا

پھر کہتا ہے اللہ ہمارا حشر ربیع کے ساتھ کرے اور تمہارا رابعہ کے ساتھ

(یعنی رابعہ بقول اس کے جہنمی ہیں معاذاللہ)

مزید کہتا ہے یہ لوگ بھی ناصبیوں کی طرح ہیں جو یزید کو جنتی کہتے ہیں لیکن جب کہا جائے کہ اللہ تمہارا حشر یزید کے ساتھ کرے تو فورا مکر جاتے ہیں”

تمام مسالک کے علماء مرزا کا رد کرتے ہیں لیکن اتنی جلیل القدر تابعیہ پر لعنت کرنے،اشارتا انہیں جہنمی کہنے اور یزید پلید سے موازنہ کرنے پر کسی نے اس بدبخت کا رد نہ کیا

جلیل القدر تابعی امام حسن بصری علیہ الرحمۃ تب تک مجلس شروع نہ کرتے تھے جب تک رابعہ بصری رحمہ اللہ علیھا مجلس میں نہ آتیں

کسی نے امام حسن بصری علیہ الرحمۃ سے وجہ پوچھی تو کہنے لگے:

“ہاتھیوں کی باتیں چیونٹیوں کے سامنے نہیں کی جاتیں”

صرف امام حسن بصری ہی نہیں امام مالک بن دینار،امام ابوالقاسم قشیری اور امیرالمومنین فی الحدیث امام سفیان ثوری رحمہم اللہ جیسے محدثین رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیھا کی شانیں بیان کرتے نظر آتے ہیں

نیز امام غزالی(کیمیائے سعادت) اور امام یافعی نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے

امام سفیان ثوری خصوصا ان سے نصیحت حاصل کرنے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے(امم غزالی/کیمیائے سعادت)

کیا یہ سب محدثین ایک جہنمی کے پاس آتے تھے معاذاللہ؟؟؟؟؟؟

مرزا نے جو قول بیان کیا وہ خواجہ فرید الدین عطار علیہ الرحمۃ نے تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے لیکن مرزا نے اپنے مخصوص انداز میں کذب بیانی کی اور سب سے ضروری اور اہم بات چھپا گیا:

“تذکرۃ الاولیاء میں موجود ہے کہ مائ رابعہ بصری نے یہ جملہ جذب(مجذوب) کی کیفیت میں کہا”

امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسا شخص جو مجذوب ہو اور جو حالت خواب میں ہو اگر وہ کفریہ جملہ بھی کہ دیتا یے تو اس پر گرفت نہیں ہوتی

صحیح مسلم میں موجود ہے:

“حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتا ہے تو اللہ کو اس توبہ کرنے والے پر، اس آدمی سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جو جنگل میں سواری پر جانے (آرام کے لئے سوجائے) اس دوران سواری کہیں اور چلی جائے جس پر اس کا کھانا اور پانی ہو۔ وہ جب بیدار ہو تو اپنی سواری کونہ پائے اور مایوس ہوکر ایک درخت کے سائے میں لیٹ جائے۔ جس وقت وہ سواری سے مایوس ہوکر لیٹا ہوا ہو پھر اچانک سواری اس کے پاس واپس آجائے اور وہ اس کی لگام پکڑے اور خوشی کی شدت سے یہ کہے۔ اے اللہ آپ میرے بندہ ہیں اور میں آپ کا رب ہوں( یعنی شدت مسرت کی وجہ سے الفاظ الٹ ہوجائیں)

اب حدیث سے ثابت ہے آدمی اس قدر خوش تھا کہ وہ ہوش کھو بیٹھا اور ایک کفریہ جملہ کہا لیکن کافر نہ ہواااا کہ اس حال میں اس پر شریعت لاغو نہ ہوئ یا پھر اس کی نیت باطل نہ تھی

مائ رابعہ بصری کا یہ دعوہ شریعت کی رو سے غلط ہے لیکن چونکہ وہ اپنے ہوش میں نہ تھیں اس لئے 1400 سال میں کسی محدث،مورخ،مفسر،فقیہ نے انہیں برا نہ کہااا

ورنہ کیا یہ ممکن ہے کہ قرون اولی میں اتنی بڑی خلاف شریعت بات کوئ کر دے تو محدثین اس کا رد نہ کریں؟؟؟؟

محدث امام ابن حجر ہیثمی لکھتے ہیں:

“اولیاء اللہ پر بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب وہ اللہ کی محبت میں ایسے سرشار ہوتے ہیں کہ اپنی ذات سے بھی بےخبر ہوجاتے ہیں اللہ کے سوا انہیں کسی چیز کا شعور نہیں رہتا(مجذوب)

ایسی حالت میں اگر وہ ایسے جملے کہیں جو بظاہر خلاف شریعت ہوں تو اگر وہ حالت جذب میں ہونگے تو ہم ان کی تاویل کرینگے اور اس پر کوئ حکم نہیں لگتا”

(فتاوی حدیثیہ)

امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

“اگر مجذوب پہلے مومن تھا اعمال صالحہ رکھتا تھا اور پھر مجنون ہوا تو اسے ولایت الہی کا وہ درجہ حاصل رہے گا جو پہلے اپنے اعمال کے سبب پا چکا

اس کی سابقہ نیکیاں باطل نہ ہونگی

مجذوب ہونے کے بعد نہ اس کی نیکیاں لکھی جائیں گی نہ گناہ”

(الفرقان بین اولیائے رحمن و اولیائے الشیطان/باب مجذوب)

امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

“اگر مجذوب قیام میں ہے اور اس نے چیخ و پکار شروع کر دی اور دور پڑا پھر بھی اس پر کوئ شرعی گرفت نہیں کیونکہ مواجید کی لذت کے سبب مجذوب پر یہ حالت طاری ہوئ”

(الحاوی للفتاوی)

یہی رائے امام ابن خلدون،امام غزالی،شاہ ولی اللہ،امام شعرانی رحمہم اللہ اور دیگر فقہاء کی ہے

مائ رابعہ بصری علیہ الرحمۃ نے جو جملہ کہااا وہ اس وقت اپنے آپ میں نہ تھیں اور مجذوب تھیں لہذا ان کے اس خلاف شرعی جملہ پر نہ کوئ حکم لگ سکتا ہے نہ اس کی اتباع کی جا سکتی ہے

اگر حکم کفر لگنا ہوتا تو تابعین اور جو چند صحابی حیات تھے وہ ہی لگا دیتے لیکن ایک ضعیف قصے میں بھی موجود نہیں کہ کسی نے ان پر حکم لگایا ہو

جب کسی فقیہ نے مجذوب کے کلام پر گرفت نہیں کی حتی کہ محدثین تک نے دفاع کیا تو جہلم کے ایک اجہل کو کیا اختیار ہے کہ وہ اتنی جلیل القدر تابعیہ کو جہنمی اور لعنتی کہے؟؟؟؟؟؟

جس اجہل کو اپنے متعلق معلوم نہیں کہ جنتی ہے یا جہنمی وہ اس ہستی کو جہنمی ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے جن کے زہد و تقوی کی گواہی امام حسن بصری اور امام سفیان ثوری رحمہم اللہ جیسے بلند پایہ محدثین نے دی ہے

اے جہلم کے اجہل و بیباک شخص!!!!

اللہ تجھے ذلیل و رسوا کرے کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لے کر بعد والوں تک تو نے کسی سلف پر اپنی نجس زبان کو خاموش رکھا؟؟؟؟

کیا جن الفاظ میں تو ان برگزیدہ ہستیوں کو برا کہتا ہے کبھی ملا باقر مجلسی اور خمینی جیسے لوگوں کو برا کہا؟؟؟؟؟؟

سن اور کان کھول کے سن میں کہتا ہوں کہ اے اللہ!!!تو میرا حشر سیدتنا رابعہ بصری رحمہ اللہ علیھا کے ساتھ کرنااااا

وہ جس جنتی گروہ میں ہوئیں تو مجھے اس گروہ میں داخل فرمانا(آمین بجاہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

اب الزامی جواب اور پھکی شریف یہ ہے کہ تو کہتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنھم کو برا بھلا کہنے والا کافر نہیں بلکہ مسلمان ہے

تو پھر ہمت کر اور ذرا اپنے مریدین کے ساتھ اجتماعی دعا کر کہ اللہ تیرا حشر گستاخان صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ کرے کیونکہ ہیں تو وہ بھی مسلمان ہی بقول تیرے

سنان علی

19 اپریل 2020ء