أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ‌ مِنۡهَا قَآئِمٌ وَّحَصِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

یہ ان بستیوں کی بعض خبریں ہیں جن کا قصہ ہم آپ کو بیان کر رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض نیست و نابود ہوگئیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ ان بستیوں کی بعض خبریں ہیں جن میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض نیست و نابود ہوگئیں اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، سو اللہ کے سوا وہ جن معبودوں کی پرستش کرتے تھے، جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ ان کے کسی کام نہ آسکے اور انہوں نے ان کی ہلاکت کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا۔ (ھود : ١٠١۔ ١٠٠) 

انبیاء سابقین اور ان کی اقوام کے قصص اور واقعات بیان کرنے کے فوائد

اللہ تعالیٰ نے انبیاء سابقین علیہم الصلوات و التسلیمات کے واقعات اور قصص بیان فرمائے اور ارشاد فرمایا : یہ ان بستیوں کی بعض خبریں ہیں اور ان واقعات کے بیان کرنے میں حسب ذیل فوائد ہیں :

(١) توحید اور رسالت پر محض عقلی دلائل بیان کرنا صرف ان لوگوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے جو غیر معمولی ذکی اور ذہین ہوں اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو تبلیغ سے اس وقت فائدہ ہوتا ہے جب دلائل کے ساتھ واقعات اور قصص بھی بیان کیے جائیں اس لیے اللہ تعالیٰ دلائل کے ساتھ ساتھ واقعات اور قصص بھی بیان فرماتا ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے انبیاء سابقین اور ان کی اقوام کے جو قصص بیان فرمائے ان میں توحید اور رسالت پر انبیاء (علیہم السلام) کے پیش کیے ہوئے دلائل کا بھی ذکر فرمایا، پھر ان دلائل پر ان کی اقوام کے اعتراضات اور شبہات کا بھی ذکر فرمایا اور انبیاء (علیہم السلام) نے ان شبہات کے جو جوابات دیئے ان کو بھی بیان فرمایا اور جب ان کی اقوام نے دلائل کے جواب میں آباء و اجداد کی تقلید پر ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیا جس کے نتیجہ میں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان پر دنیا میں ایسا عذاب نازل کیا گیا جس سے دنیا میں ان کی زندگی کی فصل کٹ گئی، اس کا بھی اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تو کفار مکہ کے لیے ان واقعات کا بیان توحید و رسالت کے دلائل کے پہنچانے کا ذریعہ بن گیا اور جو شبہات ان کے دماغوں میں تھے وہ سابقہ اقوام کے شبہات کی مثل تھے سو ان کے جوابات بھی ان واقعات کے ذکر میں آگئے اور یہ واقعات ان کے دلوں کی شقاوت اور سختی کے ازالہ کا سبب بن گئے اور یہ توحید و رسالت کی دعوت اور تبلیغ کا نہایت موثر طریقہ ہے۔

(٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی تھے آپ نے کسی کتاب کا مطالعہ کیا تھا نہ کسی عالم سے پہلے ان واقعات کو سنا تھا نہ کسی مکتب اور مدرسہ میں داخل ہوئے تھے اس کے باوجود آپ نے انبیاء سابقین کے واقعات بالکل درست بیان فرمائے اور یہ آپ کا معجزہ ہے۔

(٤) جو لوگ ان قصص اور واقعات کو سنیں گے ان کے دماغ میں یہ بات آجائے گی کہ صدیق ہو یا زندیق، موافق ہو یا منافق، اس کو بہرحال ایک دن اس دنیا سے جانا پڑے گا اور جو نیک مومن ہوں گے ان کا مرنے کے بعد تعریف اور تحسین سے ذکر کیا جائے گا اور ان کا نام عزت اور احترام سے لیا جائے گا اور جو کافر اور منافق ہوں گے ان کا مرنے کے بعد اہانت اور رسوائی سے ذکر کیا جائے گا اور ان کا نام بےتوقیری اور بےعزتی سے لیا جائے گا جیسا کہ قرآن مجید میں سابقہ اقوام کے صالحین اور کافرین کا ذکر کیا گیا ہے اور جب بار بار یہ آیات پڑھی جائیں گی اور باربار یہ چیز دماغوں میں جاگزین ہوگی تو سننے والوں کے دل نرم ہوں گے اور ان کے دل و دماغ آمادہ ہوجائیں گے سو انبیاء سابقین اور ان کی اقوام کے قصص اور واقعات کے بیان کرنے سے یہ فواء ایر ثمرات حاصل ہوں گے۔ 

کفار کو عذاب دینا عدل اور حکمت کا تقاضا ہے

اس کے بعد فرمایا : ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اس کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) ہم نے ان کو دنیا میں ہلاک کرکے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے کفر اور معصیت کر کے خود اپنے آپ کو اس ہلاکت اور عذاب کا مستحق بنایا۔

(٢) اللہ تعالیٰ نے ان کو جو ہلاک کیا اور عذاب میں مبتلا کیا یہ اس کا عین عدل اور حکمت کا تقاضا ہے اس نے ان کو ان کے جرائم کی سزا سے زیادہ سزا نہیں دی یعنی اس نے ایک کافر کو ایک کافر کی سزا دی ہے ایک کافر کو دو کافروں کی سزا نہیں دی۔ یہ اس کا عدل ہے حالانکہ اگر وہ چاہتا تو وہ ایک کافر کو دو کافروں کی سزا بھی دے سکتا تھا اور اس میں حکمت میں یہ ہے کہ اگر وہ کافرو کو کفر کی سزا نہ دیتا تو لوگوں کو کفر سے دور رکھنے کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دنیا میں نعمتیں عطا کرنے اور رزق پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی، تقصیر انہوں نے کی کہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا۔ اس کے بعد فرمایا : جب اللہ کا عذاب آگیا تو وہ (بت) ان کے کسی کام نہ آسکے۔ یعنی ان کے بتوں نے ان کو کوئی نفع نہیں پہنچایا اور انہوں نے ان کی ہلاکت کے سوا کوئی اضافہ نہیں کیا اس کا معنی یہ ہے کہ کفار یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ بت ضرر اور مصیبت کو دور کرنے اور نفع اور راحت کے پہنچانے میں ان کی مدد کریں گے اور جب ان کافروں کو مدد کی سخت ضرورت ہوگی اور وہ ہلاکت کے گڑھے میں گر رہے ہوں گے تو یہ بت ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور اس وقت ان کا یہ اعتقاد زائل ہوجائے گا کہ یہ بت ضرر دور کرنے اور نفع پہنچانے کا سبب ہیں لیکن اس وقت اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور یہ ان کا سراسر نقصان ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 100