أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاسۡتَقِمۡ كَمَاۤ اُمِرۡتَ وَمَنۡ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطۡغَوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

پس آپ اسی طرح قائم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ (بھی) جنہوں نے آپ کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کیا ہے اور اے لوگو ! تم سرکشی نہ کرنا، بیشک تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس آپ اسی طرح قائم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ (بھی) جنہوں نے آپ کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کیا ہے اور (اے لوگو ! ) تم سرکشی نہ کرنا بیشک تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (ھود : ١١٢)

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ نے ان آیتوں کا جو ترجمہ کیا ہے وہ آداب نبوت سے بہت بعید ہے اور کوئی امتی اپنے نبی کے متعلق ایسی زبان استعمال نہیں کرسکتا، وہ لکھتے ہیں : پس اے محمد ! تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر اور بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجائو گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہیں ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ (ھود : ١١٣۔ ١١٢) (تفہیم القرآن ج ٢، ص ٣٧١) اور ہم نے ان آیتوں کا اس طرح ترجمہ کیا ہے : پس آپ اسی طرح قائم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ (بھی) جنہوں نے آپ کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کیا ہے اور (اے لوگو ! ) تم سرکشی نہ کرنا بیشک تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے اور تم ان لوگوں کے میل جول نہ رکھو جنہوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہوں گے پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ سید مودودی نے ولا تطغوا (اور سرکشی نہ کرو) اور ولا ترکنوا (اور طالموں سے میل جول نہ رکھو) کا مخاطب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کو قرار دیا ہے اور امام ابن جریر نے ان دونوں کا مخاطب لوگوں کو قرار دیا ہے جیسا کہ ہم نے ترجمہ کیا ہے اور باقی مفسرین نے ان دونوں کلموں کا مخاطب آپ کے اصحاب کو قرار دیا ہے اور یہ جسارت صرف سید مودودی نے کی ہے کہ اور سرکشی نہ کرو اور ظالموں سے میل جول نہ رکھو کے خطاب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شامل کرلیا ہے۔ 

استقامت کا لغوی اور عرفی معنی

استقامت کا معنی ہے خط مستقیم جس میں دائیں بائیں بالکل التفات نہ ہو اور مطلقاً کجی نہ ہو اور احکام شرعیہ پر ہوبہو عمل کرنا اور ان میں کسی قسم کی کمی اور زیادتی نہ ہو عقائد، اعمال اور اخلاق میں معتدل اور متوسط طریقہ پر ہمیشہ قائم رہنا، اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات میں ذرا سی بھی کمی اور زیادتی عقائد میں استقامت سے خارج کردیتی ہے، مثلاً معتزلہ اللہ تعالیٰ کا عدل ثابت کرنے میں افراط کا شکار ہوئے اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ نیکوکاروں کو ثواب عطا فرمائے حالانکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں اور وہ استقامت سے نکل گئے ہمارے دور میں علماء دیوبند اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عموم ثابت کرنے میں افراط اور غلو کا شکار ہوئے اور انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے پر اور ہر برے کام کرنے پر قادر ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ کامل ص ٨٤، جہد المقل ج ١، ص ٢٤، ص ٤١، تنقید متین ص ١٨٤) حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لیے جھوٹ بولنا اور کوئی بھی برا کام کرنا محال ہے، اس طرح وہ استقامت سے نکل گئے اور شیعہ جب اہل بیت میں افراط اور غلو کا شکار ہوئے اور انہوں نے صحابہ کرام پر تبرا کیا اور ناصبی اہل بیت میں تنقیص اور تفریط کے مرتکب ہوئے۔ خارجی اپنے خودساختہ تقویٰ میں زیادتی کے مرتکب ہوئے، انہوں نے حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ دونوں پر لعنت کی اور صغائر کے ارتکاب کو بھی کفر قرار دیا۔ اسلم جیراج پوری، عبداللہ چکڑالوی اور غلام احمد پرویز اطاعت اور اتباع قرآن میں افراط کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے احادیث کے حجت ہونے کا انکار کردیا بعض غالی واعظین جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف بیان کرنے پر آتے ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدا سے بڑھا دیتے ہیں اور جب اولیاء کرام کی تعریف کرنے پر آتے ہیں تو ان کو انبیاء (علیہم السلام) سے بڑھا دیتے ہیں، بعض اپنے پیروں اور علماء کی تعریف نبیوں سے بھی زیادہ کرتے ہیں ایسے تمام عقائد اور نظریات استقامت سے خارج ہیں۔ اسی طرح اعمال میں بھی استقامت مطلوب ہے اور بہت مشکل ہے اللہ کی راہ میں سب مال خرچ کر کے خود بھیگ مانگنا شروع کردینا افراط ہے اور اللہ کی راہ میں بالکل مال خرچ نہ کرنا تفریط ہے اور یہ دونوں استقامت سے خارج ہیں۔ نفلی نماز روزے میں انسان اس قدر مشغول رہے کہ بیوی بچوں کے حقوق ادا نہ کرسکے یہ عبادت میں افراط ہے اور بیوی بچوں کی محبت اور ان کے ساتھ مشغولیت میں عبادت کرنے کا، نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا بالکل خیال نہ رہے یہ تفریط ہے اور یہ دونوں عمل استقامت سے خارج ہیں اسی طرح جو شخص شہوت اور غضب کے تقاضے پورے کرنے میں افراط یا تفریط کرے وہ بھی استقامت سے خارج ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ہر عمل میں اپنے آپ کو متوسط کیفیت اور اعتدال پر رکھنا اتقامت ہے اور کسی ایک طرف میلان اور جھکائو اختیار کرنا استقامت کے خلاف ہے۔ 

استقامت کا شرعی معنی

حضرت سفیان بن عبداللہ الشقفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات ارشاد فرمایئے کہ میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال نہ کروں آپ نے فرمایا : کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر مستقیم رہو۔ (صحیح رقم الحدیث : ٣٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٧٢)

آپ کا یہ ارشاد تمام احکام شرعیہ کو شامل ہے کیونکہ جس شخص نے کسی حکم پر عمل نہیں کیا یا کسی ممنوع کام کا ارتکاب کیا تو وہ استقامت سے خارج ہوگیا حتیٰ کہ وہ اس تقصیر پر توبہ کرے۔ قرآن مجید میں ہے : ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا۔ (الاحقاف : ١٣) جنلوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر مستقیم رہے۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لائے پھر وہ اس پر ڈٹ گئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کر یا اور تاحیات اس پر کاربند رہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : فاستقم کما امرت (ھود : ١١٢) سے زیادہ شدید اور زیادہ شاق تمام قرآن میں کوئی آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل نہیں ہوئی اس لیے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے آپ سے کہا کہ آپ پر بہت جلد بڑھاپا آگیا تو آپ نے فرمایا : مجھے سورة ہود اور ان جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۔ (المعجم الکبیر ج ١٧، ص ٢٨٧، دلائل النبوۃ ج ١، ص ٣٥٨، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٧، حلیتہ الاولیاء ج ٤، ص ٣٥٠، المستدرک ج ٢، ص ٣٤٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠، ص ٥٥٤، تاریخ بغداد جن ٣، ص ١٥٥، المطالب العالیہ رقم الحدیث : ٣٦٥٠)

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : استقامت پر رہو اور ہرگز نہ رہ سکو گے اور جان لو کہ تمہارے دین میں سب سے بہتر چیز نماز ہے اور وضو کی وہی شخص حفاظت کرسکے گا جو مومن ہو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٨، ٢٧٧، مسند احمد ج ٥، ص ٢٧٧، المعجم الکبیر ج ٢، ص ٩٨، المستدرک ج ١، ص ٣٠) 

صوفیا کے نزدیک استقامت کا معنی

امام ابو القاسم عبدالکریم بن ہوازن القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں : استقامت وہ درجہ ہے جس کے سبب سے تمام امور کمال اور تمام کو پہنچتے ہیں اور اسی کی وجہ سے تمام نیکیاں حاصل ہوتی ہیں اور جس شخص کو اپنے کسی حال میں استقامت حاصل نہ ہوں اس کی کوشش رائیگاں اور اس کی جدوجہد بےسود ہوتی ہے اور جو شخص اپنی کسی صفت میں مستقیم نہ ہو وہ اپنے مقام سے ترقی نہیں کرسکتا۔ مبتدی میں استقامت کی علامت یہ ہے کہ اس کے معاملات میں سستی نہ آئے اور متوسط میں استقامت کی علامت یہ ہے کہ اس کی منازل میں وقفہ نہ آئے اور منتہی میں استقامت کی علامت یہ ہے کہ اس کے مشاہدات میں حجاب نہ آئے۔

استاذ ابو علی دقاق (رح) نے کہا کہ استقامت کے تین مدارج ہیں :

(١) التقویم یعنی نفوس کی تادیب کرنا

(٢) الاقمت یعنی قلوب کی تہذیب کرنا

(٣) الاستقامت یعنی اسرار کو قریب لانا۔

ایک قول یہ ہے کہ صرف اکابر ہی استقامت کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ استقامت کا معنی ہے اپنے معروف کاموں سے باہر آنا رسموں اور عادتوں کو چھوڑنا اور انتہائی صدق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونیا۔ واسطی نے کہا استقامت وہ وصف ہے جس کی وجہ سے محاسن مکمل ہوتے ہیں اور اس کے نہ ہونے کی وجہ سے بری باتیں اچھی لگتی ہیں۔ شبلی نے کہا استقامت یہ ہے کہ قیامت ہر وقت تمہارے پیش نظر رہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوال میں استقامت یہ ہے کہ سستی کو ترک کردیا جائے اور احوال میں استامت یہ ہے کہ مشاہدات میں حجاب نہ رہے۔ استاذ محمد بن حسین فورک کہتے تھے الاستقامت میں سین طلب ماخذ کے لیے ہے یعنی اقامت اور قیام کو طلب کرنا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ طلب کرو کہ وہ تم کو توحید پر برقرار رکھے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے یہ توفیق مانگے کہ وہ اس کے تمام احکام اوامرو نواہی پر عمل کرے۔ (الرسالۃ القشیریہ ص ٢٤١، ٢٤٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 112