أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ شَقُوۡا فَفِى النَّارِ لَهُمۡ فِيۡهَا زَفِيۡرٌ وَّشَهِيۡقٌ ۞

ترجمہ:

رہے بدبخت لوگ تو وہ دوزخ میں ہوں گے اور ان کے لیے اس میں چیخنا اور چلانا ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رہے بدبخت لوگ تو وہ دوزخ میں ہوں گے اور ان کے لیے اس میں چیخنا اور چلانا ہوگا وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے، بیشک آپ کا رب جو بھی ارادہ کرتا ہے اس کو خوب پورا کرنے والا ہے اور رہے وہ لوگ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے یہ غیر منقطع عطا ہے۔ (ھود : ١٠٨۔ ١٠٦) 

سعادت اور شقاوت کا معنی

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : نیک کاموں کے حصوں میں اللہ تعلایٰ کی مدد مل جانا سعادت ہے اور اس کا الٹ اور ضد شقاوت ہے۔ سعادت کی دو قسمیں ہیں : سعادت دنیوی اور سعادت اخروی۔ سعادت اخروی جنت ہے اور سعادت دنیوی کی تین قسمیں ہیں : روح کی سعادت، بدن کی سعادت اور خارجی سعادت۔ روح کی سعادت اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے ہوتی ہے اور بدن کی سعادت صحت اور قوت سے مفید غذائوں اور دوائوں سے حاصل ہوتی ہے اور خارجی سعادت انسان کے نیک مطلوب پر معاونت کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اس کا الٹ اور ضد شقاوت ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٣٤٩، ٣٠٦، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ سید محمد مرتضیٰ زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ نے لکھا ہے : سعادت کا معنی نفع، معاونت، اللہ تعالیٰ کا نیک کاموں کی توفیق دینا یا ان کاموں کی توفیق دینا جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہو۔ (تاج العروس ج ٢ ص ٣٧٦، مطبوعہ المطبعتہ الخیریہ مصر، ١٣٠٦ ھ) 

زفیر اور شھیق کا معنی

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے : اتنا لمبا اور گہرا سانس لینا جس سے سینہ پھول جائے زفیر ہے اور گہرے سانس کو باہر نکالنا شہیق ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٢٥٥، ٢٨١، مطبوعہ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے لکھا ہے : حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : شدید اور سخت آواز زفیر ہے اور پست اور کمزور آواز شہیق ہے۔ امام ابو العالیہ نے کہا : جو آواز حلق سے نکلے وہ زفیر ہے اور جو آواز سینہ سے نکلے وہ شہیق ہے۔ قتادہ نے کہا : جہنم میں کافر کی ابتدائی آواز اور گدھے کی ابتدائی آواز زفیر ہے اور جہنم میں کافر کی آخری آواز اور گدھے کی آخری آواز شہیق ہے۔ (جامع البیان جز ١٢ ص ١٥٢۔ ١٥١، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

علامہ نظام الدین حسن بن محمد قمی نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ نے امام ابن جریر کے ذکر کردہ معانی پر حسب ذیل معانی کا اضافہ کیا ہے : حسن نے کہا : جہنم کے شعلے اپنی قوت سے کفار کو اٹھا کر جہنم کے سب سے بلند طبقہ میں پہنچا دیں گے اور اس وقت کفار یہ چاہیں گے وہ جہنم سے نکل جائیں تو فرشتے لوہے کے گر زمار کر ان کو پھر جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں پہنچا دیں گے سو ان کا دوزخ میں اوپر اٹھنا زفیر اور نیچے گرنا شہیق ہے۔ ابو مسلم نے کہا : جب انسان پر سخت گریہ وزاری طاری ہو تو سینہ میں جو سانس گھٹ جاتا ہے وہ زفیر ہے اور انتہائی غم اور اندوہ کے وقت رونے سے جو آواز نکلتی ہے وہ شہیق ہے۔ بعض اوقات اس کیفیت کے بعد غشی طاری ہوجاتی ہے اور بعض اوقات آدمی مرجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا دوسرا قول یہ ہے کہ جو رونا ختم نہ ہو وہ زفیر ہے اور غم کم نہ ہو وہ شہیق ہے اور اہل تحقیق نے کہا : کفار کا دنیا اور اس کی لذتوں کی طرف مائل ہونا زفیر ہے اور کمالات روحانیہ میں ان کی معاوت کا کمزور ہونا شہیق ہے۔ (غرائب القرآن ور غائب الفرقان ج ٤ ص ٥٢، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٦ ھ) 

اس اعتراض کا جواب کہ کفار کے عذاب کو آسمان و زمین کے قیام پر موقوف کرنا دوام عذاب کے منافی ہے

” وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں گے۔ “ آیت کے اس حصہ سے بعض لوگوں نے یہ استدالل کیا ہے کہ آسمان اور زمینوں کا قائم رہنا تو دائمی اور ابدی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے دوزخ میں قیام کو آسمانوں اور زمینوں کے قیام پر معلق کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کفار کا دوزخ میں قیام بھی دائمی اور ابدی نہیں ہے بلکہ وقتی اور عارضی ہے۔ قرآن مجید کی دیگر نصوص قطعیہ اور بکثرت احادیث سے چونکہ یہ ثابت ہے کہ کفار ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اس لیے مفسرین نے اس آیت کی متعدد تاویلات کی ہیں بعض ازاں یہ ہیں :

(١) اس آیت میں آسمان اور زمین سے مراد دنیا کے آسمان اور زمین نہیں ہیں بلکہ جنت اور دوزخ کے آسمان اور زمین مراد ہیں کیونکہ جنت اور دوزخ فضا اور خلا میں تو نہیں ہیں ان میں فرش ہوگا جس پر لوگ بیٹھے ہوئے یا ٹھہرے ہوئے ہوں گے اور ان کے لیے کوئی سائبان بھی ہوگا جس کے سائے میں وہ لوگ ہوں گے اور عربی میں ہر سایہ کرنے والی چیز پر سماء کا اطلاق کیا جاتا ہے اور جنت میں زمین کے وجود پر یہ آیت دلیل ہے : وقالو الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ و اور ثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشاء فنعم اجر العاملین۔ (الزمر : ٧٤) اور (جنتی) کہیں گے اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں جس نے ہم سے کیا ہوا وعدہ سچا کردیا اور ہم کو (اس) زمین کا وارث بنایا تاکہ ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں، پس نیک عمل کرنے والوں کا ثواب کیسا اچھا ہے۔ آخرت کے زمین و آسمان دنیا کے زمین و آسمان سے مختلف ہیں، اس پر یہ آیت بھی دلیل ہے : یوم تبدل الارض غیر الارض والسموات۔ (ابراہیم : ٤٨) جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور جب یہ واضح ہوگیا کہ جنت اور دوزخ کے زمین و آسمان اس دنیا کے زمین و آسمان کے مغائر ہیں اور جب جنت اور دوزخ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی تو ان کے زمین اور آسمان بھی ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور جنت اور دوزخ میں رہین والے بھی ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔

(٢) اگر زمین و آسمان سے مراد اس دنیا کے زمین اور آسمان ہوں تب بھی یہ آیت جنت اور دوزخ میں جنتیوں اور دوزخیوں کے دوام کے منافی نہیں ہے کیونکہ عربوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جب کسی چیز کا دوام بیان کرنا جاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے تو فلاں چیز رہے گی اور قرآن مجید چونکہ عربوں کے اسلوب کے موافق نازل ہوا ہے اس لیے جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے اس سے مراد دوام اور خلو دہی ہے اور معنی یہی ہے کہ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

(٣) مقدم کے ثبوت سے تالی کا ثبوت ہوتا ہے لیکن مقدم کی نفی سے تالی کی نفی نہیں ہوتی مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ انسان ہے تو پھر یہ حیوان ہے، یہ درست ہے لیکن یہ درست نہیں ہے کہ اگر یہ انسان نہیں ہے تو پھر یہ حیوان نہیں ہے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ انسان نہ گھوڑا ہو اور حیوان ہو، اسی طرح جب تک آسمان اور زمین ہیں وہ دوزخ میں رہیں گے اس سے یہ لازم نہیں ہوگا کہ جب آسمان اور زمین نہ ہوں تو وہ دوزخ میں نہ ہوں۔ 

دائمی عذاب پر امام رازی کے دو اعتراضوں کا جواب

امام رازی نے لوگوں کی طرف سے ایک اعتراض اس طرح نقل کیا ہے کہ کافر نے زمانہ متناہی میں جرم کیا ہے اور اس کی سزا غیرمتناہی زمانہ تک دنیا ظلم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عذاب کافر کی نیت کے اعتبار سے ہے، اس کی نیت دائماً کفر کرنے کی ہوتی ہے اگر بالفرض وہ غیر متناہی زمانہ تک زندہ رہتا تو غیر متناہی زمانہ تک کفر کرتا اس وجہ سے اس کو غیر متناہی زمانہ تک عذاب دیا جائے گا۔ 

امام رازی نے دوسرا اعتراض یہ ذکر کیا ہے کہ یہ عذاب نفع سے خالی ہے اس لیے یہ قبیح ہے، یہ نفع سے اس لیے خالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو اس کا نفع ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ نفع اور ضرر سے مستغنی اور بلند ہے اور دوزخی کافر کو بھی اس عزاب سے نفع نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے حق میں یہ عذاب ضرر محض ہے اور جنتی مسلمانوں کو بھی کافر کے عذاب سے کوئی نفع نہیں ہوگا کیونکہ وہ اپنی لذتوں میں منہمک اور مشغول ہوں گے تو کسی کے دائمی عذاب میں مبتلا ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ امام رازی کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس دلیل کے اعتبار سے تو کافر کو مطلقاً عذاب ہونا ہی نہیں چاہیے اور اس دلیل کو دائمی عذاب کے ساتھ مخصوص کرنا باطل ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ کفار کو عذاب دینا ان کے جرم کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اس میں یہ لحاظ نہیں کیا گیا کہ اس سے کسی کو نفع پہنچے گا یا نہیں۔ یہ دو اعتراض امام رازی نے تفسیر کبیر ج ٦ ص ٤٠١ میں ذکر کیے ہیں۔ 

کفار کے دائمی عذاب پر قرآن مجید سے دلائل

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے۔ اس آیت میں جو استثناء کیا گیا ہے اس سے بعض لوگوں نے یہ مطلب نکالا ہے کہ کفار کو دوزخ میں لازمی طور سے دائمی عذاب نہیں ہوگا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کو ایک محدود مدت تک عذاب دے گا۔ سید مودودی لکھتے ہیں : یعنی کوئی اور طاقت تو ایسی ہے ہی نہیں جو ان لوگوں کو دائمی عذاب سے بجا سکے البتہ اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے انجام کو بدلنا چاہے یا کسی کو ہمیشگی کا عذاب دینے کے بجائے ایک مدت تک عذاب دے کر معاف کردینے کا فیصلہ فرمائے تو اسے ایسا کرنے کا پورا اختیار ہے کیونکہ اپنے قانون کا وہ خود ہی واضع ہے کوئی بالا تر قانون ایسا نہیں ہے جو اس کے اختیارات کو محدود کرت اہو۔ (تفہیم القرآن ج ٢ ص ٣٦٩ مطبوعہ ل اور، سولہواں ایڈیشن ١٤٠٢ ھ) اللہ تعالیٰ کے اختیار میں کوئی کلام نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بکثرت آیات میں یہ خبر دی ہے کہ کافروں اور مشرکوں کو دائمی اور ابدی عذاب ہوگا اب اگر اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمادے تو خود اس کے کلام کا خلاف لازم آئے گا اور یہ کذب ہوگا اور کذب اللہ تعالیٰ کے کلام میں محال ہے اس لیے جب اس آیت میں دوزخیوں کے عذاب سے استثناء کا ذکر کیا گیا ہے اس میں تاویل کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشاء (النساء : ٤٨) بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اگر اگر اللہ تعالیٰ کسی کافر یا مشرک کی سزا معاف کر کے اس کو بخش دے تو اس کی اس خبر کے خلاف لازم آئے گا اور یہ محال ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ کسی کافر کے عذاب میں تخفیف نہیں فرمائے گا اب اگر وہ کسی کافر کی سزا معاف کر دے تو اس آیت کے خلاف ہے : ان الذین کفرو وما توا وھم کفار اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین خالدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون۔ (البقرہ : ١٦٢۔ ١٦١) بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کفر پر مرگئے ان لوگوں پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان الذین کذبوا بایتنا واستکبرو عنھا لا تفتح لھم ابواب السماء ولا یدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط وکذلک نجزی المجرمین۔ (الاعراف : ٤٠) بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور ان (پر ایمان لانے) سے تکبر کیا ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے اور ہم اسی طرح مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک واضح مثال سے یہ بتایا ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے اسی طرح کفار کا جنت میں داخل ہونا محال ہے اب کفار کی مغفرت اور ان کے جنت میں داخل ہونے کے امکان کو ظاہر کرنا اس آیت کی تکذیب کے مترادف ہے اور اللہ تعلایٰ کا یہ بھی ارشاد ہے : ان الذین کفروا بایتنا سوف نصلیھم نارا کلما نضجت جدودھم بدالنھم جلودا غیرھا لیذوقو العذاب۔ (النساء ٥٦) بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا ہم عنقریب ان کو آگ میں داخل کردیں گے جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو چکھیں۔ اس آیت سے بھی یہ واضح ہوگیا کہ کافروں پر عذاب کا سلسلہ تا ابد جاری رہے گا ان تمام آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی قید اور بغیر کسی استثناء کے یہ کلی حکم لگایا ہے کہ کافروں کو غیر متناہی زمانہ تک عذاب ہوگا اور اب یہ امکان پیدا کرنا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو کافروں کو ایک مدت تک عذاب دے کر ان کو معاف فرما دے گا ان تمام آیتوں کی تکذیب کے مترادف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان کو معاف نہیں کرے گا ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی ان کو جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا اور جب بھی ان کی کھال جل جائے گی اس کو دوسری کھال سے بدل دیا جائے گا اور ان کے علاوہ بکثرت آیات ہیں جن میں فرمایا ہے کہ کافروں کو دائمی اور ابدی عذاب ہوگا۔ 

زیر تفسیر آیت میں کفار کے دائمی عذاب سے استثناء کی توجیہات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے۔ اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، یہ دوزخی کون ہیں ؟ تحقیق یہ کہ ان دوزخیوں سے مراد موحدین ہیں جن کو ان کے گناہوں کے سبب سے تطہیر کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر کچھ عرصہ کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔

(١) قتادہ اور ضحاک نے بیان کیا کہ یہ استثناء ان موحدین کی طرف راجع ہے جنہوں نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا تھا اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا ان کو دوزخ میں رکھے گا پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٣١٤، ١٤٣١٣، ١٤٣١٢، ١٤٣١١، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٢٣٧، ١١٢٣٦) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کر دے گا وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہے گا جنت میں داخل فرمائے گا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کر دے گا پھر فرمائے گا : تم دیکھو جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو پھر وہ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے پھر ان کو حیات کے دریا میں ڈال دیا جائے گا تو وہ اس طرح نشو و نما پانے لگیں گے جس طرح دریا کے کنارے اگا ہوا دانہ نشو و نما پاتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح زرد رنگ کا لپٹا ہوا نکلتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٢، ٦٥٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤)

(٢) اس آیت کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ دوزخی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے سوا ان اوقات کے جب وہ دنیا میں تھے یا برزخ میں تھے یا میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوئے تھے خلاصہ یہ ہے کہ دوزخیوں کا دوزخ کے عذاب سے استثناء ان تین اوقات اور احوال کی طرف راجع ہے۔

(٣) اس آیت کی تیسری توجیہ یہ ہے کہ یہ استثناء ان کے چیخنے اور چلانے کی طرف راجع ہے یعنی وہ دوزخ میں ہمیشہ چیختے اور چلاتے رہیں گے لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کی چیخ و پکار نہیں ہوگی۔

(٤) اس آیت کی چوتھی توجیہ یہ ہے کہ دوزخ میں آگ کا عذاب بھی ہوگا اور زمہریر کا عذاب بھی ہوگا جس میں بہت سخت ٹھنڈک ہوگی اور یہ استثناء آگ کے عذاب کی طرف راجع ہے یعنی وہ ہمیشہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں رہیں گے مگر جس وقت اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کو آگ کے عذاب سے نکال کر ٹھنڈک کے عذاب میں ڈال دے گا۔

(٥) اس آیت کی پانچویں توجیہ یہ ہے کہ یہ آیت سورة فتح کی اس آیت کی طرح ہے : لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق لتد خلن المسجد الحرام انشاء اللہ امنین محلقین رء و سکم و مقصرین۔ (الفتح : ٢٧) بیشک اللہ نے اپنے رسول کو حق کے ساتھ سچا خواب دکھایا اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہوگے (بعض) اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور (بعض) اپنے سروں کو کترواتے ہوئے۔ بظاہر اس آیت کا یہ معنی ہے اگر اللہ چاہے گا تو تم امن کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے اور اگر اللہ چاہے گا تو نہیں داخل ہوگے، اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ مسلمان مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق ہونا واجب ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم معاذ اللہ جہل سے بدل جائے گا سو جس طرح اس آیت میں ” اللہ چاہے گا “ کا یہ معنی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا مسجد حرام میں داخل نہ ہونا بھی ممکن ہے اسی طرح زیر تفسیر آیت میں بھی ” مگر جتنا آپ کا رب چاہے “ کا یہ معنی نہیں ہے کہ ایک محدود مدت کے بعد اللہ تعالیٰ یہ چاہے گا کہ دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے۔ 

اہل جنت کے جنت میں اور اہل نار کے نار میں دوام کے متعلق احادیث

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور رہے وہ لوگ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے۔ اس آیت میں جو استثناء ہے اس کی بھی وہی توجیہات ہیں جو اس سے پہلی آیت میں بیان کی جاچکی ہیں اور اولیٰ یہ ہے کہ اس کو ان اہل جنت پر محمول کیا جائے جو کچھ عرصہ دوزخ میں رہیں گے پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا اور اب اس آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ نیک بخت لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے سوا اس وقت کے جب وہ دوزخ میں تھے پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا : ” یہ غیر منقطع عطا ہے۔ “ حضرت ابن عباس (رض) مجاد اور ابو العالیہ وگیرہ نے کہا ہے کہ یہ اس لیے فرمایا کہ کسی شخص کو یہ وہم نہ ہو کہ اہل جنت کا جنت میں قیام منقطع ہوجائے گا بلکہ ان کا جنت میں قیام حتمی اور یقینی طور پر دائمی ہے اور غیر منقطع ہے اور حدیث صحیح میں ہے حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : موت کو ایک سرمئی مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا اور اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا پھر ایک منادی یہ ندا کرے گا : اے اہل جنت ! پھر وہ سر اتھا کر منادی کی طرف دیکھیں گے، منادی کہے گا : تم پہچانتے ہو یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے اور سب اس کو دیکھ لیں گے پھر وہ منادی ندا کرے گا اے اہل نار ! وہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے منادی کہے گا تم پہچانتے ہو یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے اور وہ سب اس کو دیکھ لیں گے، پھر اس مینڈھے کو ذبح کردیا جائے گا پھر وہ منادی کہے گا : اے اہل جنت ! اب ہمیشہ رہنا ہے موت نہیں ہے اور اے اہل نار ! اب ہمیشہ رہنا ہے اور موت نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٣٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٥٦، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٣١٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٢٧، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٨١١، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٧) قرآن مجید میں اہل جنت کے متعلق ہے : لا یذوقون فیھا الموت الا الموتۃ الاولی۔ (الدخان : ٥٦) وہ جنت میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے سوا اس پہلی موت کے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک منادی ندا کرے گا ! (اے اہل جنت ! تم ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تم ہمیشہ جو ان رہو گے تم کبھی بوڑھے نہیں ہوگے اور تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے تم پر کبھی مصیبت نہیں آئے گی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤٦، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٩، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٨٢٧، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٣٩٦٣ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 106