أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ‌ ؕ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ کے رب کی گرفت اسی طرح ہوتی ہے، جب وہ بستیوں پر اس حال میں گرفت کرتا ہے کہ وہ ظلم کر رہی ہوتی ہیں، بیشک اس کی گرفت درد ناک شدید ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کے رب کی گرفت اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستیوں پر اس حال میں گرفت کرتا ہے کہ وہ ظلم کر رہی ہوتی ہیں، بیشک اس کی گرفت دردناک شدید ہے۔ (ھود : ١٠٢) 

گزشتہ قوموں کی برائیوں کے مرتکبین پر آنے والے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔

جب اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ پچھلی اقوام نے جب اپنے رسولوں کی تکذیب اور مخالفت کی تو ان پر ایسا ہمہ گیر عذاب آیا جس نے ان کو جڑ سے اکھاڑ دیا اور یہ بیان فرمایا کہ چونکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اس لیے ان پر دنیا میں ہلاکت آفریں عذاب آیا تو اب یہ فرمایا کہ یہ عذاب صرف ان قوموں کے ساتھ خاص نہیں ہے جن کا ذکر کیا گیا بلکہ جو قوم بھی اس طرح کا ظلم کرتی ہے اس پر ایسا عذاب آتا ہے۔ قرآن مجید کی اور آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس قاعدہ کو بیان فرمایا ہے : وکم قصمنا من قربۃ کا نت ظالمۃ وانشانا بعدھا قوما اخرین۔ (الانبیاء : ١١) اور ہم نے کتنی ہی بستیاں ہلاک کردیں جو ظلم کرنے والی تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کردیں۔ وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایاتنا وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظلمون۔ (القصص : ٥٩) اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان بستیوں کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرنے والے ہیں جب ان میں رہنے والے ظلم کر رہے ہوں۔ اس آیت کی تفسیر میں اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے : حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر اس کو مہلت نہیں دیتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١١٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٨٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠١٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥١٧٥، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٦ ص ٩٤، شرح السنہ رقم الحدیث : ٦١٦٢) اس آیت کو پڑھ کر یہ سوچنا چاہیے کہ جو شخص جہالت اور شامت نفس سے کوئی گناہ کر بیٹھے تو اس کو فوراً توبہ کر کے اس گناہ کا تدارک اور تلافی کرنی چاہیے تاکہ وہ اس آیت کی وعید میں داخل نہ ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلو اوھم یعلمون۔ (آل عمران : ١٣٥) اور لوگ جب کسی بےحیائی کا ارتکاب کریں یا پانی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے اور اپنے کیے ہوئے کاموں پر جان بوجھ کر اصرار نہ کریں۔ (نگاہ پر توبہ نہ کیا جائے اور دوبارہ وہی گناہ کیا جائے تو یہ اصرار ہے) خلاصہ یہ ہے کہ سابقہ اقوام کے عذاب کی آیتوں کو پڑھ کر یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ یہ عذاب ان اقوام کے ساتھ مختص تھا، کیونکہ جو لوگ بھی اپنے آپ کو سابقہ اقوام کے ظلم میں شریک کریں گے تو پھر انہیں سابقہ اقوام کے عذاب کو بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی شدید پکڑ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 102